زہا حدید

زها حديد

–

بغداد

عراقی نژاد برطانوی معمار، جو 1950 میں بغداد میں پیدا ہوئیں اور 2016 میں وفات پائیں، جنہوں نے لندن میں «زہا حدید آرکیٹیکٹس» قائم کیا اور اپنی مخصوص خمیدہ صورتوں میں دنیا بھر میں عمارتیں ڈیزائن کیں۔ وہ 2004 میں پرٹزکر آرکیٹیکچر پرائز پانے والی پہلی خاتون تھیں اور «خموں کی ملکہ» کہلائیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
معمار
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس کیارستمی · عبد العزیز بوتفلیقہ · عبدالرحمن یوسفی · عبد العزيز المدني · عبد الحميد الأزهري

مکان میں

بغداد

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    زہا محمد حدید (31 اکتوبر 1950 – 31 مارچ 2016) عراقی نژاد برطانوی معمار تھیں، جو اپنی خمیدہ، بہتی ہوئی صورتوں کی وجہ سے «خموں کی ملکہ» کہلائیں، اور 2004 میں پرٹزکر آرکیٹیکچر پرائز پانے والی پہلی خاتون بنیں۔ 1 2 3

    انہوں نے لندن میں «زہا حدید آرکیٹیکٹس» قائم کیا؛ ان کے کاموں میں گوانگژو اوپرا ہاؤس، باکو کا حیدر علیئیف سینٹر، لندن ایکواٹکس سینٹر اور قطر کا الجنوب (الوکرہ) اسٹیڈیم شامل ہیں، اور کئی بڑے منصوبے ان کی وفات کے بعد مکمل ہوئے۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ بغداد کے ایک مالدار عراقی گھرانے میں پیدا ہوئیں: والد محمد الحاج حسین حدید موصل کے صنعت کار تھے، جنہوں نے 1932 میں الاہلی گروپ اور قومی جمہوری پارٹی کی بنیاد میں حصہ لیا اور 1958 کے بعد وزیرِ خزانہ بنے؛ والدہ وجیہہ الصابونجی موصل کی مصور تھیں۔ بچپن میں جنوبی عراق کے قدیم سومیری شہروں کے سفر نے ان میں فنِ تعمیر کی دلچسپی جگائی۔ انہوں نے امریکن یونیورسٹی آف بیروت سے ریاضی پڑھی، پھر 1972 میں لندن کی آرکیٹیکچرل ایسوسی ایشن اسکول میں داخل ہوئیں، جہاں ریم کولہاس ان کے اساتذہ میں تھے؛ 1977 میں ڈپلومہ مکمل کر کے روٹرڈیم کے OMA میں کام کیا، برطانوی شہریت لی اور لندن میں اپنا دفتر کھولا — انگریزی مضمون کے مطابق 1980 میں، جبکہ ایک ثانوی ماخذ 1979 بتاتا ہے۔ 1 4

    کام

    1988 میں نیویارک کے میوزیم آف ماڈرن آرٹ کی نمائش «ڈی کنسٹرکٹوزم ان آرکیٹیکچر» سے ان کی شہرت شروع ہوئی۔ ان کی پہلی تعمیرات میں ویٹرا فائر اسٹیشن (1991–93)، برگائسل اسکی جمپ، انزبرک (1999–2002) اور سنسناٹی کا عصری فنون کا مرکز (1997–2003) شامل ہیں، جو امریکہ میں کسی خاتون کا ڈیزائن کردہ پہلا آرٹ میوزیم تھا۔ بعد کے مشہور کاموں میں شیخ زاید پل، ابوظہبی (2010ء میں افتتاح)، روم کا MAXXI میوزیم، گوانگژو اوپرا ہاؤس، گلاسگو کا ریور سائیڈ میوزیم، بیجنگ کا گیلیکسی سوہو، باکو کا حیدر علیئیف سینٹر — جس نے 2014 میں «ڈیزائن آف دی ایئر» جیتا — سیول کا ڈونگ ڈی مون ڈیزائن پلازا اور اینٹورپ پورٹ اتھارٹی بلڈنگ (2016) شامل ہیں۔ وفات کے بعد مکمل ہونے والے کاموں میں ریاض کا KAPSARC، بیجنگ داشینگ بین الاقوامی ہوائی اڈا، دبئی کا دی اوپس اور بغداد کا مرکزی بینک ٹاور شامل ہیں۔ 1

    آرا اور تنقید

    یہ سیکشن ماخذ میں درج آرا کی ترجمانی ہے، متحف کا فیصلہ نہیں۔

    قطر کے الوکرہ اسٹیڈیم کی معمار کے طور پر ان پر نیویارک ریویو آف بکس میں مہاجر مزدوروں کی اموات سے بے اعتنائی کا الزام لگا؛ اگست 2014 میں انہوں نے ہتکِ عزت کا مقدمہ جیتا اور مصنف نے بیان واپس لے کر معذرت کی، کیونکہ ان کے بیان کے وقت الوکرہ سائٹ پر کام شروع نہیں ہوا تھا اور اس منصوبے میں کوئی مزدور ہلاک نہیں ہوا تھا۔ ان پر «آمرانہ ریاستوں کے لیے تعمیر» کی تنقید بھی نقل ہوئی، جبکہ نیویارک ٹائمز کے نقاد مائیکل کیملمان نے ان کی تعریف کی۔ لندن ایکواٹکس سینٹر کی لاگت 269 ملین پاؤنڈ ہوئی، جو اصل تخمینے سے تین گنا تھی، اور اس پر خوب تبصرے ہوئے۔ 1

    اعزازات

    2004 میں وہ پرٹزکر پرائز پانے والی پہلی خاتون بنیں؛ 2010 اور 2011 میں اسٹرلنگ پرائز ملا؛ 2012 میں ملکہ الزبتھ دوم نے انہیں «ڈیم» کا خطاب دیا؛ اور فروری 2016 میں وہ RIBA رائل گولڈ میڈل انفرادی طور پر پانے والی پہلی خاتون بنیں۔ 2 1

    ذاتی زندگی اور وفات

    انہوں نے شادی نہیں کی اور ان کی اولاد نہیں تھی۔ وہ 31 مارچ 2016 کو میامی میں برونکائٹس کے علاج کے دوران دل کے دورے سے وفات پا گئیں اور سرے کے بروک ووڈ قبرستان میں اپنے والد اور بھائی کے درمیان دفن ہوئیں۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے معروف ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی بعد کی ترجمہ و تدوین کو واضح تواریخ کے ساتھ وقتاً فوقتاً جائزے کی ضرورت ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    بغداد

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    المدرسة النظامية ببغداد· بيت الحكمة (خزانة الحكمة)· البيمارستان العضدي· المارستان المقتدري· مارستان السيدة· دار العلم ببغداد (دار العلم السابورية)· جامع القطيعة ببغداد· جامع قطيعة أم جعفر

    ماخذ

    1. Zaha Hadid — English Wikipedia
    2. Pritzker Architecture Prize — Zaha Hadid, 2004 laureate page
    3. Zaha Hadid — Urdu Wikipedia
    4. Zaha Hadid — Arabic Wikipedia
    • Zaha Hadid — Wikidata Q47780
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “زہا حدید”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/zaha-hadid/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    المدرسة النظامية ببغداد

    The Nizamiyya of Baghdad, first and most famous of the madrasas founded by the vizier Nizam al-Mulk al-Tusi: building began in 457 and sisters rose at Nishapur, Isfahan, Herat, Basra, Mosul and Amid; the Imam al-Haramayn al-Juwayni then Abu Ishaq al-Shirazi taught in it, and it mothered the Sunni institutional model that the later madrasas of Baghdad followed — the caliphs prayed there and Nizam al-Mulk himself visited to inspect its library.