آفریغی (کاث کے خوارزم شاہ)

زمانہ لوگ مقام

الأفريغيون (خوارزمشاهية كاث)

305 عیسوی – 995 عیسوی · 385 ھ

مقامی خاندان جس نے کاث سے خوارزم شاہ کے لقب کے ساتھ خوارزم پر حکومت کی؛ بیرونی کے مطابق اس کا بانی آفریغ تھا، اور 385ھ/995ء میں اس کے آخری حکمران ابو عبد اللہ محمد بن احمد کے قتل پر ختم ہوا 1 2۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر الأموي · العصر العباسي المبكر · عصر تفكك الخلافة العباسية
خطہ
persia-central-asia

وقت میں

200عیسوی300عیسوی400عیسوی500عیسوی600عیسوی700عیسوی800عیسوی900عیسوی1000عیسوی1100عیسوی
العصر العباسي المبكر · عصر تفكك الخلافة العباسية · عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة · الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك · شبه الجزيرة العربية قبل الإسلام · العصر النبوي · عصر الخلفاء الراشدين · العصر الأموي

trade-and-financepolitics-governance-and-authority

خلاصہ

آفریغی قدیم خوارزم کا مقامی خاندان تھے۔ شاہرخ میرزا اسماعیلوف بیرونی سے نقل کرتے ہیں کہ اس کا بانی آفریغ نامی شخص 305ء میں تھا، اس کے 22 حکمرانوں نے «خوارزم شاہ» کا لقب پایا، اور آفریغ نے کاث میں محل بنا کر اسے دارالحکومت بنایا۔ 1 3 4 اس کی سیاسی اور ثقافتی تاریخ کا بہت کم حصہ بچا ہے، اس لیے اس کے سکے بنیادی مآخذ ہیں۔ 1

عرب فتح سے اسلام تک

عربوں کے خوارزم لینے کے بعد اسلام پھیلا؛ مصنف اس مرحلے کو ایسا بیان کرتے ہیں جس میں پرانی یادگاریں، کتابیں، زبان اور مذہب بہت حد تک ضائع ہوئے، اور خاندان کے آخری حکمران پوری طرح مسلمان ہو گئے۔ 1 عربوں کی آمد کے وقت تخت پر بیٹھا خوارزم شاہ «چغان» بعض مآخذ میں عبد اللہ کے نام سے آتا ہے، اور بیرونی کی فہرست میں ازکاجوار-عبد اللہ کو اسلام قبول کرنے والا بتایا گیا ہے۔ 2 5 خوارزمی سکوں پر عربی رسم الخط فتح کے اسّی برس سے زیادہ بعد ظاہر ہوا، پہلے خراسان کے خلافتی نائبوں کے ناموں کی صورت میں خوارزمی اور سغدی عبارتوں کے ساتھ، اور قدیم خوارزمی سکوں کے عناصر تقریباً 893ء تک باقی رہے۔ 6

سامانیوں کے تحت

مصنف کے مطابق سامانی ریاست میں شامل ہونے کے بعد خوارزم میں سکہ سازی پچاس برس سے زیادہ رکی رہی؛ اسماعیل سامانی نے 896ء میں پورا خوارزم لے لیا، اور 959ء تک اس کے حکمرانوں کے نام سے کوئی سکہ نہیں ڈھلا، جس سے وہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ سامانیوں نے انہیں اجازت نہیں دی۔ 6 ان کے نزدیک دسویں صدی میں سامانیوں کے خلاف بغاوتیں ہوئیں: احمد بن محمد کی 943ء سے پہلے اور 959ء میں، اور عبد اللہ بن اشکام کی 950 کی دہائی میں، مگر ماتحتی برقرار رہی۔ 6 احمد بن محمد کا 348ھ کا چاندی کا سکہ کسی خوارزم شاہ کا پہلا اسلامی طرز کا درہم تھا؛ اس کے بعد تانبے کے فلوس 995ء تک مسلسل ڈھلتے رہے۔ 2 6

اختتام

385ھ/995ء میں جرجانیہ کے سامانی ماتحت امیر مامون بن محمد نے کاث پر حملہ کیا، آخری آفریغی ابو عبد اللہ محمد بن احمد کو گرفتار کر کے جرجانیہ میں قتل کروایا اور خود خوارزم شاہ کا لقب لیا۔ 7 ایڈورڈ زاخاؤ بیرونی کی بنیاد پر ابو عبد اللہ کو خاندان کا بائیسواں حکمران شمار کرتے ہیں۔ 8

سکے

مصنف آفریغی سکوں کی 38 اقسام اور چار شہر گنواتے ہیں جہاں وہ ڈھلے۔ 9 10 ان کے ابتدائی سکوں کے سامنے بادشاہ اور پشت پر گھڑ سوار کی تصویر ہوتی ہے؛ کوفی عبارتیں کئی دہائیوں میں رفتہ رفتہ تصویروں کی جگہ لیتی گئیں۔ 1

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Ruled by
ابو عبد اللہ محمد بن احمد، خوارزم شاہ· احمد بن محمد، خوارزم شاہ· ازکاجوار عبد اللہ، خوارزم شاہ· عراق بن منصور· ساوشفن، خوارزم شاہ
Ruled over
کاث (خوارزم)
Predecessor of
مامونی (جرجانیہ کے خوارزم شاہ)
Had capital
کاث (خوارزم)
Subject of
خوارزم شاہوں کے عہد کے سکے (اسماعیلوف)

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

خوارزم شاہوں کے عہد کے سکے (اسماعیلوف)· جرجانیہ (گرگانج)· کاث (خوارزم)· مامونی (جرجانیہ کے خوارزم شاہ)· اسلامی خوارزم کے سکے (آٹھویں تا تیرھویں صدی)· ابو العباس مامون بن مامون، خوارزم شاہ· علی بن مامون، خوارزم شاہ· مامون بن محمد، خوارزم شاہ

ماخذ

  1. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 9
  2. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 10
  3. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 158
  4. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 159
  5. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 36
  6. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 51
  7. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 70
  8. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 50
  9. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 222
  10. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 223
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “آفریغی (کاث کے خوارزم شاہ)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/polity/afrighid-dynasty/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

زمانہ

ادوار، زمانی خاکے، تاریخ میں یہ دن، اسلامی دنیا کا کوئی بھی سال۔
متعلقہ

خوارزم شاہوں کے عہد کے سکے (اسماعیلوف)

شاہرخ میرزا اسماعیلوف کی کتاب (بخارا 2025) جو آٹھویں صدی سے منگول حملے تک خوارزم میں آفریغیوں، مامونیوں، شاہ ملک اور انوشتگینیوں کے سکوں کا مطالعہ ہے اور 237 اقسام کے سکوں کے البم پر قائم ہے ۔