خوارزم شاہوں کے عہد کے سکے (اسماعیلوف)

نوادرات زمانہ الفاظ

نقود عهد الخوارزمشاهيين (إسماعيلوف)

شاہرخ میرزا اسماعیلوف کی کتاب (بخارا 2025) جو آٹھویں صدی سے منگول حملے تک خوارزم میں آفریغیوں، مامونیوں، شاہ ملک اور انوشتگینیوں کے سکوں کا مطالعہ ہے اور 237 اقسام کے سکوں کے البم پر قائم ہے 1 2۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
persia-central-asia

trade-and-financepolitics-governance-and-authority

خلاصہ

«خوارزم شاہوں کے عہد کے سکے (آٹھویں سے تیرھویں صدی کے آغاز تک)» شاہرخ میرزا اسماعیلوف کی ازبک زبان میں تحقیق ہے، جو ازبکستان کی مامون یونیورسٹی کی جانب سے دار «دردانہ» بخارا نے 2025ء میں 236 صفحات میں شائع کی، اور اس کے ذمہ دار مدیر مؤرخ غیب اللہ بابایوروف ہیں۔ 3 1 اس کا موضوع ان حکمرانوں کے سکے ہیں جنہوں نے خوارزم میں اسلام کی آمد سے منگول حملے تک «خوارزم شاہ» کا لقب اختیار کیا: آفریغی، مامونی، اوغوز حکمران شاہ ملک اور انوشتگینی۔ 1

طریقِ کار

مصنف سکوں کو «اپنے دور کا آئینہ» کہتے ہیں: واقعات کی تفصیل میں وہ مخطوطات کی جگہ نہیں لے سکتے، مگر تحریروں کی طرح ان میں ردّ و بدل نہیں ہوتا؛ ان کی دھات ریاست کی معاشی طاقت، ان کی عبارتیں اس کی سیاسی حالت اور ان کے نقوش اس کے رسوم بتاتے ہیں۔ 4 انہوں نے زیادہ تر دنیا بھر کے عجائب گھروں اور نجی ذخیروں میں محفوظ سکوں کی تصاویر سے کام لیا، کیونکہ ان میں سے بیشتر ازبکستان سے باہر جا چکے ہیں۔ 1 5 خاتمے میں وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے دس ہزار سے زائد سکوں کا تجزیہ کر کے 237 اقسام متعین کیں: آفریغیوں کی 38، اوغوز حکمرانوں کی 7، سامانیوں کی 3، طاہریوں اور ان کے نائبوں کی 12، مامونیوں کی 35، شاہ ملک کی 7 اور انوشتگینیوں کی 135۔ 6 عبارتیں عربی اور قدیم خوارزمی سے نقل کر کے ازبک میں سمجھائی گئی ہیں، اور درجہ بندی وائنبرگ اور کوزنیتسوف جیسے روسی محققین کے طرز پر ہے۔ 5 7

ساخت

  • پہلا باب: تحریری مآخذ میں سکے، اور ان کے مطالعے اور آثارِ قدیمہ میں دریافت کی تاریخ۔ 8 9 10
  • دوسرا باب: سکوں کا تاریخی تجزیہ: آفریغی (اسکین ص 32 سے)، مامونی (ص 69 سے)، اور انوشتگینی دور کا زری نظام (ص 95 سے)۔ 7 11 12
  • تیسرا باب: ٹکسال (ص 158 سے)، کندہ عبارتوں کا تجزیہ (ص 173 سے)، سیاسی حالت (ص 188 سے)، اور معاشی زندگی و تجارت (ص 212 سے)۔ 13 14 15 16
  • خاتمہ اور کتابیات۔ 6 17 ابواب کے درمیان اقسام کی تصویری تختیاں ہیں جن میں وزن، قطر، ٹکسال اور تاریخ درج ہے۔ 18

اہم نتائج

  • 356ھ/967ء میں جرجانیہ میں محمد بن علی کے نام سے ڈھلے ایک فلس کی بنیاد پر مصنف کا کہنا ہے کہ مامونی حکومت تقریباً 967ء میں شروع ہوئی، 992ء کے بعد مامون بن محمد سے نہیں، اور یہ کہ جرجانیہ 959ء اور 967ء کے درمیان سامانیوں کی قائم کردہ امارت کے طور پر آفریغیوں سے الگ ہوا۔ 19
  • وہ اوغوز شاہ ملک کو، جس نے 1041–1043ء میں خوارزم شاہ کے لقب سے سکے ڈھالے، آفریغیوں، مامونیوں، آلِ آلتونتاش اور انوشتگینیوں کے بعد یہ لقب رکھنے والا پانچواں خاندان شمار کرتے ہیں۔ 19
  • وہ چار ادوار متعین کرتے ہیں جن میں خوارزم کے حکمرانوں کے نام سے سکے نہیں ڈھلے: 818–893ء خلفا کی ممانعت سے، 893–959ء سامانیوں کے تحت، 1014–1042ء غزنویوں کے تحت، اور 1041–1129ء سلجوقوں کے تحت۔ 20
  • وہ 51 شہروں اور قلعوں کی فہرست دیتے ہیں جہاں خوارزم شاہی سکے ڈھلے: خوارزم، ماوراء النہر، خراسان، ایران، پاکستان اور جارجیا میں۔ 21
  • زمخشری کی «مقدمۃ الادب» کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ اسلام سے پہلے خوارزم کے چاندی کے سکے «طازجہ» کہلاتے تھے۔ 21

مقام

مدیر اپنے پیش لفظ میں کہتے ہیں کہ یہ کتاب عام قارئین کے لیے خوارزمی سکہ شناسی پر ازبک زبان کی کتابوں کی کمی پوری کرتی ہے اور سکوں کے ذریعے مامونی تاریخ کی نئی قراءت پیش کرتی ہے۔ 22 2 5

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

About
آفریغی (کاث کے خوارزم شاہ)· مامونی (جرجانیہ کے خوارزم شاہ)· انوشتگینی خاندان· اسلامی خوارزم کے سکے (آٹھویں تا تیرھویں صدی)
Mentions
ابو الفوارس شاہ ملک، خوارزم شاہ· کاث (خوارزم)· جرجانیہ (گرگانج)

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

آفریغی (کاث کے خوارزم شاہ)· مامونی (جرجانیہ کے خوارزم شاہ)· ابو عبد اللہ محمد بن احمد، خوارزم شاہ· مامون بن محمد، خوارزم شاہ· محمد بن علی، امیرِ جرجانیہ· کاث (خوارزم)· اسلامی سکوں پر قرآنی آیات· ابو العباس مامون بن مامون، خوارزم شاہ

ماخذ

  1. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 3
  2. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 7
  3. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 2
  4. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 8
  5. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 12
  6. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 222
  7. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 32
  8. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 4
  9. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 13
  10. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 21
  11. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 69
  12. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 95
  13. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 158
  14. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 173
  15. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 188
  16. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 212
  17. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 227
  18. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 52
  19. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 224
  20. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 225
  21. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 223
  22. شاهرخ ميرزا إسماعيلوف، «نقود عهد الخوارزمشاهيين (من القرن الثامن إلى مطلع القرن الثالث عشر)»، بخارى: دار دردانه، 2025 , p. 6
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “خوارزم شاہوں کے عہد کے سکے (اسماعیلوف)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/xorazmshohlar-davri-tangalari/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

نوادرات

مخطوطات، فن، فن تعمیر اور دنیا بھر کے مجموعوں کے تبرکات۔
متعلقہ

آفریغی (کاث کے خوارزم شاہ)

مقامی خاندان جس نے کاث سے خوارزم شاہ کے لقب کے ساتھ خوارزم پر حکومت کی؛ بیرونی کے مطابق اس کا بانی آفریغ تھا، اور 385ھ/995ء میں اس کے آخری حکمران ابو عبد اللہ محمد بن احمد کے قتل پر ختم ہوا ۔