طالبِ علم

اسلام کے پانچ ارکان

مسلمانوں کی عبادت پانچ ارکان پر قائم ہے: شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے رسول ہیں؛ دن میں پانچ وقت نماز؛ زکوٰۃ، مال میں فقیروں کا حصہ؛ رمضان کا روزہ؛ اور جو استطاعت رکھے اس کے لیے بیت اللہ کا حج۔ یہ محض عادتیں نہیں — یہ روزمرہ ڈھانچہ ہے جو انسان کو خدا اور ہمسائیوں سے جوڑتا ہے۔ شہادت پیدائش پر کہی جاتی ہے اور ہر نماز میں گونجتی ہے؛ نماز دن کو پانچ بار روک کر نظم سکھاتی ہے؛ زکوٰۃ مال کو بند ہاتھ سے محتاج کے ہاتھ پہنچاتی ہے؛ روزہ صبر اور رحم سکھاتا ہے؛ اور حج ہر سرزمین کے مسلمانوں کو ایک لباس اور ایک موقف میں جمع کرتا ہے۔ اس طرح دین زندگی بنتا ہے، محض باتیں نہیں۔ اسی لیے انہیں ارکان کہا گیا: جس طرح گھر ستونوں کے بغیر نہیں کھڑا، مسلمان کا دین ان کے بغیر نہیں کھڑا — یہ دن، سال اور ساری زندگی کا ڈھانچہ ہے۔

فرہنگ مشقی سوالات