عجائب الآثار فی التراجم والاخبار

الفاظ زمانہ

مصنف عبد الرحمن الجبرتي

عجائب الآثار في التراجم والأخبار

A history of Egypt and biographies of its men from 1100/1688 to 1236-1237/1821 by Abd al-Rahman ibn Hasan al-Jabarti, covering the late Mamluk-Ottoman period, the French expedition and the beginning of Muhammad Ali's rule, in four parts; for the first two parts he drew on manuscript sources including his teacher Murtada al-Zabidi's dictionary of shaykhs, and for the third on his own Mazhar al-taqdis.

گہرائی

ایک نظر میں

دور
إمبراطوريات البارود · العصر الاستعماري
خطہ
egypt-nile

history-writing-and-social-thoughtpolitics-governance-and-authoritycolonial-wars-and-resistance

خلاصہ

«عجائب الآثار فی التراجم والاخبار» عبد الرحمن بن حسن الجبرتی عقیلی زیلعی حنفی کی تصنیف ہے جو مصر کی تاریخ اور اس کے اعیان کے تراجم پر مشتمل ہے۔ اس کے محقق شموئیل موریہ اسے 1100ھ/1688ء سے 1237ھ/1821ء کے درمیان مصر کی تاریخ کے تین ادوار کے لیے سب سے اہم تاریخی، سماجی، معاشی اور ادبی ماخذوں میں شمار کرتے ہیں: عثمانی حکومت کے تحت مملوک دور کا آخری زمانہ، فرانسیسی مہم (1798–1801)، اور محمد علی پاشا کی حکومت کا آغاز۔ 1

پہلے دو حصے کیسے لکھے گئے

محقق پہلے دو حصوں کو اٹھارہویں صدی کے مصر میں علما، صوفی مشائخ، امرا اور واقعات پر لکھی گئی چیزوں کا خلاصہ سمجھتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ جبرتی نے ان میں بہت سے مخطوطہ ماخذوں پر اعتماد کیا، اگرچہ اپنے مقدمے میں اس سے انکار کیا: ان میں احمد شلبی بن عبد الغنی کی «اوضح الاشارات»، جس سے بعض جگہ لفظ بہ لفظ نقل کیا، اور احمد الدمرداشی کی «الدرۃ المصانۃ»، جس کے واقعات اس کی کمزور زبان کی وجہ سے اپنے اسلوب میں ڈھالے اور اسے «بعض عام سپاہیوں کے سیاہ کیے ہوئے اوراق» کہا۔ 1 2 اپنے استاد مرتضیٰ زبیدی کی «المعجم المختص» سے انہوں نے کم از کم 172 تراجم لفظ بہ لفظ یا تقریباً لفظ بہ لفظ لیے، زبیدی کے صیغۂ متکلم کو غائب میں بدل کر اور زبیدی کی اپنی تعریف حذف کر کے، اور 24 مزید زبیدی کے رسالے «المربی الکابلی» سے۔ 2 زبیدی نے اپنے معجم میں لکھا کہ جبرتی نے «اپنے زمانے کی ایک تاریخ جمع کی ہے جس میں عمدہ چیزیں ہیں»؛ زبیدی کی وفات (1791ء) کے بعد ان کے کاغذات، جو جبرتی نے ان کی بیوہ سے خریدے، انہیں ملے، اور ساتھ ان کے والد حسن الجبرتی کا کتب خانہ بھی۔ 3

محقق نوٹ کرتے ہیں کہ 1191ھ/1777ء سے، یعنی دوسرے حصے کے آغاز سے، واقعات کا اندراج دن اور مہینے کے ذکر کے ساتھ طویل اور مفصل ہو جاتا ہے، جبکہ پہلا حصہ واقعات کو اجمالاً بیان کرتا اور تراجم اور مدحیہ و مرثیہ قصائد کو زیادہ جگہ دیتا ہے۔ 3

تیسرا اور چوتھا حصہ

جبرتی نے پہلے «مظہر التقدیس» لکھی، جس میں فرانسیسیوں کی مذمت اور عثمانیوں کی تعریف ہے؛ محقق نقل کرتے ہیں کہ بورکہارٹ نے مصنف سے خریدے ہوئے نسخے پر لکھا کہ جبرتی «ان کے جانے کے بعد اپنی جان سے ڈرے اور اپنی برأت کے لیے یہ کتاب لکھی»۔ 4 پھر انہوں نے تیسرے حصے (1213–1220ھ/1798–1805ء) میں اس پر اعتماد کیا، عثمانی فوجوں کا ظلم اور ان کی زبردستی کی وصولیاں دیکھنے کے بعد فرانسیسیوں سے دشمنی اور عثمانیوں کی حمایت والے اپنے موقف پر نظر ثانی کی، اور محمد علی کی تقرری کا اضافہ کیا۔ انہوں نے چوتھا حصہ (1221–1236ھ/1806–1821ء) جاری رکھا یہاں تک کہ 1237ھ میں ان کے بیٹے خلیل قتل ہوئے، جس کے بعد ان کی بینائی جاتی رہی اور انہوں نے مزید نہ لکھا۔ 5 اس کے مشہور ترین مقامات میں جمعہ 6 صفر 1226ھ کو قلعے میں مملوک امرا کے قتل کا بیان ہے (دیکھیے قلعے کا قتلِ عام)۔ 6

اپنے زمانے کے بارے میں ان کی نظر

محقق کی قراءت میں جبرتی نے فرانسیسی مہم کے دوران یورپ کی تکنیکی، علمی اور فوجی برتری دیکھی، اس کے سامنے مملوکوں اور عثمانیوں کی کمزوری کے اسباب تلاش کیے، اور اسے مملوکوں کی پرانی مملوک تربیتی نظام سے غفلت سے جوڑا۔ 5 7 «عجائب الآثار» میں وہ «مظہر التقدیس» کی طرح حکمرانوں کی خوشامد نہیں کرتے بلکہ مملوکوں، عثمانیوں، فرانسیسیوں اور محمد علی کے اس طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہیں جسے وہ ظلم سمجھتے تھے، اور اپنی نسل کے علما کی ترجمانی کرتے ہیں۔ 7 انہوں نے محمد علی کی حکومت کو ظالمانہ کہا، اگرچہ کبھی کبھی ان کی تنظیمات میں ان کی ہمت کی تعریف بھی کی۔ 8 یہ محقق کی قراءت ہے۔

مخطوطات اور اشاعتیں

کتاب پہلی بار بولاق کے مطبع میں (1879–1880ء) چھپی، اور محقق کہتے ہیں کہ بعد کی تمام اشاعتیں اسی سے نقل ہوئیں اور ان مخطوطات سے موازنہ نہیں کیا گیا جو جبرتی نے لکھے یا جانچے۔ 8 9 انہیں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ بولاق کے مطبع نے محمد علی پر جبرتی کی تنقید حذف کی، برخلاف اس کے جو انستاس ماری کرملی نے کہا، صرف ان کے کاموں اور لقب کے حوالوں میں کچھ تبدیلیاں ہیں۔ 10 مخطوطات میں دار الکتب کا نسخہ (زکیہ 859) ہے، جس کے تیسرے حصے کے آخر میں لکھا ہے کہ اس کی تبییض 22 رجب 1237ھ کو ہوئی اور ہفتہ 14 ربیع الاول 1240ھ کو «اپنے مصنف کے سامنے اول سے آخر تک مقابلہ اور قراءت ہوئی»، احمد بن حسن رشیدی معروف بہ صوبع کے قلم سے۔ 11 موریہ کی اشاعت متن میں بولاق کے صفحات کے نمبر قوسین میں دیتی ہے۔ 12

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Authored by
عبد الرحمن الجبرتي
About
1226ھ (1811ء) میں قلعے میں مملوک امرا کا قتل· الحملة الفرنسية على مصر وإعلان الجهاد· حسن الجبرتی
Relies on
مظهر التقديس بذهاب دولة الفرنسيس

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

عبد الرحمن الجبرتي· القاهرة· حسن الجبرتی· اہالیِ مصر کے نام بوناپارٹ کا منشور (محرم 1213ھ / 1798ء)· قصة وفكرة: ایک قصہ اور ایک فکر (ٹیلی وژن پروگرام)· فرانسیسی سپہ سالار کلیبر کا قتل اور سلیمان حلبی پر مقدمہ (محرم 1215ھ / جون 1800ء)· 1213ھ / 1798ء میں امبابہ کی لڑائی (اہرام کی جنگ)· فرانسیسیوں کا اسکندریہ پر قبضہ (محرم 1213ھ / جولائی 1798ء)

ماخذ

  1. عجائب الآثار في التراجم والأخبار للجبرتي — الجزء الأول (تحقيق شموئيل موريه، القدس 2013) , p.13
  2. عجائب الآثار في التراجم والأخبار للجبرتي — الجزء الأول (تحقيق شموئيل موريه، القدس 2013) , p.14
  3. عجائب الآثار في التراجم والأخبار للجبرتي — الجزء الأول (تحقيق شموئيل موريه، القدس 2013) , p.15
  4. عجائب الآثار في التراجم والأخبار للجبرتي — الجزء الأول (تحقيق شموئيل موريه، القدس 2013) , p.17
  5. عجائب الآثار في التراجم والأخبار للجبرتي — الجزء الأول (تحقيق شموئيل موريه، القدس 2013) , p.18
  6. عجائب الآثار للجبرتي — الجزء الرابع (تحقيق شموئيل موريه، القدس) , p.177
  7. عجائب الآثار في التراجم والأخبار للجبرتي — الجزء الأول (تحقيق شموئيل موريه، القدس 2013) , p.19
  8. عجائب الآثار في التراجم والأخبار للجبرتي — الجزء الأول (تحقيق شموئيل موريه، القدس 2013) , p.21
  9. عجائب الآثار في التراجم والأخبار للجبرتي — الجزء الأول (تحقيق شموئيل موريه، القدس 2013) , p.25
  10. عجائب الآثار في التراجم والأخبار للجبرتي — الجزء الأول (تحقيق شموئيل موريه، القدس 2013) , p.26
  11. عجائب الآثار في التراجم والأخبار للجبرتي — الجزء الأول (تحقيق شموئيل موريه، القدس 2013) , p.23
  12. عجائب الآثار في التراجم والأخبار للجبرتي — الجزء الأول (تحقيق شموئيل موريه، القدس 2013) , p.24
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “عجائب الآثار فی التراجم والاخبار”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/ajaib-al-athar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

الفاظ

قرآن، حدیث، شاعری، اور مسلم اقوام کی زبانیں اور رسم الخط۔
متعلقہ

عبد الرحمن الجبرتي

Abd al-Rahman ibn Hasan al-Jabarti al-Aqili al-Zayla'i al-Hanafi, historian of Egypt and author of Aja'ib al-athar and Mazhar al-taqdis, who recorded Egypt's events and biographies from 1100 to 1236 AH; he lost his sight after his son Khalil was killed in 1237 AH, and the year of his death is disputed between 1237, 1240 and 1241 AH.