مسجد تعمیر کمیٹی کا تعمیری عطیات سے گاڑی کرائے پر لینا

استئجار لجنة إعمار المسجد سيارة من تبرعات البناء

مسجد تعمیر کمیٹی کا تعمیری عطیات سے گاڑی کرائے پر لینا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ تعمیری عطیات کا کوئی حصہ ان کے مقصد کے سوا خرچ کرنا حرام ہے، اور حل یہ ہے کہ کمیٹی عطیہ دہندگان کو بتا کر انتظامی اخراجات کے لیے عطیات جمع کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مسجد تعمیر کمیٹیوں کے لیے مسجد کی تعمیر کے عطیات میں سے کچھ بھی اس مقصد کے سوا خرچ کرنا حرام ہے جس کے لیے وہ جمع کیے گئے، کیونکہ عطیات عطیہ دہندہ کی نیت اور شرط کے مطابق خرچ ہوتے ہیں، عطیہ دہندہ واقف کے درجے میں ہے، اور واقف کی شرط کی پابندی اصل ہے۔ اس نے نہایۃ المطلب (8/362) میں امام الحرمین الجوینی کا قول پیش کیا کہ مستحقین کی صفات، مقدار اور ترتیب میں واقف کی شرط کی طرف رجوع کیا جائے، اور المہذب (2/328) میں شیرازی کا قول کہ وقف کی آمدنی واقف کی شرط کے مطابق خرچ ہو کیونکہ صحابہ نے وقف کیے اور اپنی شرطیں لکھیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ عطیات میں سے کچھ بھی گاڑی کے کرائے یا کسی اور چیز پر خرچ کرنا جائز نہیں، اور اگر ذمہ دار گناہ سے بچنا چاہیں تو تعمیر کمیٹی کے انتظامی امور کے لیے کچھ عطیات الگ سے جمع کریں، بشرطیکہ عطیہ دہندگان کو اس کی اطلاع دی جائے۔

گہرائی

ایک نظر میں

جائزہ
تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

خلاصہ

مسجد تعمیر کمیٹی کا تعمیری عطیات سے گاڑی کرائے پر لینا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ تعمیری عطیات کا کوئی حصہ ان کے مقصد کے سوا خرچ کرنا حرام ہے، اور حل یہ ہے کہ کمیٹی عطیہ دہندگان کو بتا کر انتظامی اخراجات کے لیے عطیات جمع کرے۔ 1

سوال

سائل نے پوچھا کہ کیا مسجد تعمیر کمیٹی عطیات جمع کرنے کے لیے صوبوں کے درمیان سفر کی خاطر نجی گاڑی کرائے پر لے سکتی ہے، اور کرایہ جمع شدہ عطیات سے ادا کرے۔ 1

جواب

ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مسجد تعمیر کمیٹیوں کے لیے مسجد کی تعمیر کے عطیات میں سے کچھ بھی اس مقصد کے سوا خرچ کرنا حرام ہے جس کے لیے وہ جمع کیے گئے، کیونکہ عطیات عطیہ دہندہ کی نیت اور شرط کے مطابق خرچ ہوتے ہیں، عطیہ دہندہ واقف کے درجے میں ہے، اور واقف کی شرط کی پابندی اصل ہے۔ 1 اس نے نہایۃ المطلب (8/362) میں امام الحرمین الجوینی کا قول پیش کیا کہ مستحقین کی صفات، مقدار اور ترتیب میں واقف کی شرط کی طرف رجوع کیا جائے، اور المہذب (2/328) میں شیرازی کا قول کہ وقف کی آمدنی واقف کی شرط کے مطابق خرچ ہو کیونکہ صحابہ نے وقف کیے اور اپنی شرطیں لکھیں۔ 1 اس نے نتیجہ نکالا کہ عطیات میں سے کچھ بھی گاڑی کے کرائے یا کسی اور چیز پر خرچ کرنا جائز نہیں، اور اگر ذمہ دار گناہ سے بچنا چاہیں تو تعمیر کمیٹی کے انتظامی امور کے لیے کچھ عطیات الگ سے جمع کریں، بشرطیکہ عطیہ دہندگان کو اس کی اطلاع دی جائے۔ 1

اس ریکارڈ کے بارے میں

اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے یہ فتویٰ aliftaa.jo پر نمبر 4217، 12 فروری 2026 کی تاریخ کے ساتھ شائع کیا۔ 1 میوزیم اس متن کو جاری کرنے والے عالم یا ادارے کی طرف منسوب ایک تاریخی دستاویز کے طور پر درج کرتا ہے، اور خود کوئی فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

About
وَقْف

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

مسجد کی لائبریری سے مکرر کتابیں نکالنا· مسجد کے عطیات سے فقرا کی مدد· مسجد کے عطیات سے امام کے مکان کا کرایہ ادا کرنا· مسجد کا وقف شدہ سامان دوسری مسجد منتقل کرنا· مسجد کے احاطے میں زیتون کے درخت· مسجد کے زائد واٹر کولر بیچنا· مسجد کو اس کی تعمیر کا خرچ دینے والے کے نام سے موسوم کرنے کا حکم· وَقْف

ماخذ

  1. اردن کا جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ (aliftaa.jo) , fatwa 4217

اصل صفحہ

اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “مسجد تعمیر کمیٹی کا تعمیری عطیات سے گاڑی کرائے پر لینا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/fatwa-aliftaa-jo-mosque-committee-using-building-donations-for-car-hire/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

الفاظ

قرآن، حدیث، شاعری، اور مسلم اقوام کی زبانیں اور رسم الخط۔
متعلقہ

مسجد کی لائبریری سے مکرر کتابیں نکالنا

مسجد کی لائبریری سے زائد مکرر نسخے دوسری لائبریریوں کو منتقل کرنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ حکم اس پر منحصر ہے کہ کتاب لائبریری تک کیسے پہنچی، اور فیصلہ وزارتِ اوقاف کا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جو چیز کسی خاص مسجد پر وقف ہو اصلاً وہیں رہے اور شرعی وجہ کے بغیر منتقل یا فروخت نہ ہو؛ اگر وہ بوسیدہ ہو جائے، یا اس کا متبادل آ جائے اور مسجد میں اس سے فائدہ ممکن نہ رہے، تو وقف کا مقصد پورا کرنے کے لیے اسے دوسری مسجد منتقل کیا جا سکتا ہے؛ اس نے نووی کی روضۃ الطالبین اور اعانۃ الطالبین سے نقل کیا۔ جو عطیات سے خریدا گیا اور ناظر نے وقف نہیں کیا، یا مصنفین نے وقف کی صراحت کے بغیر دیا، اسے ضرورت کے وقت بیچا جا سکتا ہے اور رقم لائبریری کے مصالح پر خرچ ہو، کیونکہ وہ مسجد کی ملکیت ہے، جیسا کہ اس نے نووی سے نقل کیا۔ جو کسی نے نمازیوں کے فائدے کے لیے وقف یا تحفے کی نیت کے بغیر مسجد میں رکھا وہ عاریت ہے اور اپنے مالک کی ملکیت میں رہتا ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ ان مسائل میں فیصلہ 2001 کے اوقاف قانون نمبر 32 کے تحت وقف کی متولی وزارتِ اوقاف و شؤون و مقدساتِ اسلامیہ کا ہے۔