ایک نظر میں
- جائزہ
- تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
خلاصہ
ایک شخص کا سوال جس نے نذر مانی کہ اگر اسے واجب الادا رقم ملی تو عمرہ کرے گا، پھر رقم ملنے سے پہلے عمرہ کر لیا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ احتیاط شرط پوری ہونے کا انتظار کرنے میں ہے، اور جس نے پہلے ادا کر دیا اور دوبارہ نہ کر سکے وہ حنابلہ کے مذہب پر بری الذمہ ہے۔ 1
سوال
سائل نے بتایا کہ اس نے نذر مانی کہ اگر ایک ادارے کے ذمے اس کی رقم اسے مل گئی تو عمرہ کرے گا، پھر رقم ملنے سے پہلے نذر پوری کرنے کی نیت سے عمرہ کر لیا؛ اس نے پوچھا کہ کیا شرط پوری ہونے کے بعد دوبارہ عمرہ لازم ہے۔ 1
جواب
ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ نذر ایسی عبادت کا التزام ہے جو شریعت نے واجب نہیں کی، اور منعقد ہونے کے بعد اسے پورا کرنا لازم ہے، اور علماء میں اختلاف ہے کہ معلق نذر شرط سے پہلے ادا ہو سکتی ہے یا نہیں۔ 1 شافعیہ مالی نذر کو پہلے ادا کرنے کی اجازت دیتے ہیں، بدنی کو نہیں، اور حج و عمرہ کو بدنی شمار کرتے ہیں؛ اس نے زکریا الانصاری کی اسنی المطالب سے، اور امام الحرمین الجوینی کی نہایۃ المطلب سے نقل کیا کہ حج میں نیابت ضرورت کی رخصت ہے۔ 1 حنفیہ کہتے ہیں کہ شرط سے پہلے کیا گیا عمل نفل ہے اور دوبارہ لازم ہے، اور اس نے شرنبلالی کی مراقی الفلاح سے نقل کیا، جبکہ حنابلہ پہلے ادا کرنے کی اجازت دیتے ہیں، اور اس نے بہوتی کی کشاف القناع سے نقل کیا۔ 1 اس نے نتیجہ نکالا کہ احتیاط یہ ہے کہ نذر ماننے والا شرط پوری ہونے کا انتظار کرے تاکہ بالاجماع بری الذمہ ہو، لیکن اگر وہ پہلے ادا کر چکا ہو اور دوبارہ نہ کر سکے تو حنابلہ کے مذہب پر اسے بری الذمہ قرار دینے میں حرج نہیں۔ 1
اس ریکارڈ کے بارے میں
اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے یہ فتویٰ aliftaa.jo پر نمبر 3845، 21 دسمبر 2023 کی تاریخ کے ساتھ شائع کیا۔ 1 میوزیم اس متن کو جاری کرنے والے عالم یا ادارے کی طرف منسوب ایک تاریخی دستاویز کے طور پر درج کرتا ہے، اور خود کوئی فتویٰ جاری نہیں کرتا۔
سوال پر آراء
سوال: کیا معلق نذر کو شرط پوری ہونے سے پہلے ادا کرنا کافی ہے؟
پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · sunni-shafiiبنیادی حوالہ
مالی نذر پہلے ادا ہو سکتی ہے، بدنی نہیں
قائل: المذهب الشافعيزكريا الأنصاري
بنیاد: أسنى المطالب زکریا الانصاری کی اسنی المطالب 4/246، جیسا کہ ڈیپارٹمنٹ نے نقل کیا
مزید آراء (2)
اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · sunni-hanafiبنیادی حوالہ
کافی نہیں، دوبارہ ادا کرنا لازم
قائل: المذهب الحنفيالشرنبلالي
بنیاد: مراقی الفلاح شرح نور الایضاح شرنبلالی کی مراقی الفلاح ص 264، جیسا کہ ڈیپارٹمنٹ نے نقل کیا
اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · sunni-hanbaliبنیادی حوالہ
پہلے ادا ہو سکتی ہے اور کافی ہے
قائل: المذهب الحنبليالبهوتي منصور بن يونس
بنیاد: کشاف القناع عن متن الاقناع بہوتی کی کشاف القناع، جیسا کہ ڈیپارٹمنٹ نے نقل کیا
تعلقات
- About
- نذر (منت)· تعلیق (شرطی جملہ بندی)
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الموطأ 833 — سعيد بن المسيب: سئل عن رجل نذر صيام شهر، هل له أن يتطوع؟ فقال: ليبدأ بالنذر قبل أن يتطوع· الموطأ 834 — مالك: وبلغني عن سليمان بن يسار مثل ذلك· الموطأ 835 — مالك: من مات وعليه نذر من رقبة أو صيام أو صدقة أو بدنة فأوصى بأن يوفى عنه من ماله، فالصدقة والبدنة في ثلثه ويُبدأ بها على الوصايا· الموطأ 836 — ابن عمر: لا يصوم أحد عن أحد ولا يصلي أحد عن أحد· الموطأ 1124 — ابن عمر: من أهدى بدنة ثم ضلت أو ماتت، فإنها إن كانت نذراً أبدلها، وإن كانت تطوعاً فإن شاء أبدلها وإن شاء تركها· الموطأ 1351 — ابن عباس: سعد بن عبادة استفتى النبي عن أمه التي مات وعليها نذر لم تقضه، فقال اقضه عنها· الموطأ 1352 — عبد الله بن أبي بكر عن عمته عن جدته: جعلت على نفسها مشيا إلى مسجد قباء فماتت، فأفتى ابن عباس ابنتها أن تمشي عنها· الموطأ 1353 — مالك: لا يمشي أحد عن أحد
ماخذ
- اردن کا جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ (aliftaa.jo) , fatwa 3845
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “نذر کی شرط پوری ہونے سے پہلے نذر کا عمرہ ادا کرنا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/fatwa-aliftaa-jo-umra-vow-fulfilled-before-its-condition/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.