کیا قرآن خوانی کا ثواب میت کو پہنچتا ہے؟

مصنف ابن باز عبد العزيز بن عبد الله

هل يصل ثواب قراءة القرآن للميت؟

میت کو قرآن خوانی کا ثواب ہدیہ کرنے کے بارے میں سوال، جس میں ابن باز نے اختلاف ذکر کیا اور صدقہ اور دعا پر اکتفا کو بہتر قرار دیا۔ ابن باز نے کہا کہ اس مسئلے میں اختلاف ہے: اکثر اہلِ علم کے نزدیک ثواب پہنچتا ہے، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ یہ عمل نبی یا صحابہ سے منقول نہیں۔ ان کے نزدیک بہتر یہ ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے اور ہر شخص اپنے لیے پڑھے، اور میت کی طرف سے صدقہ اور اس کے لیے دعا مسلمانوں کے اجماع سے اسے نفع دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو شخص شفا کے بعد کوتاہی سے روزے چھوڑ کر فوت ہو اس کی طرف سے روزے رکھے جائیں، اور فرض یا نذر کا حج اس کی طرف سے کیا جائے، لیکن میت کی طرف سے نماز پڑھنے کی کوئی اصل نہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

جائزہ
تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

خلاصہ

میت کو قرآن خوانی کا ثواب ہدیہ کرنے کے بارے میں سوال، جس میں ابن باز نے اختلاف ذکر کیا اور صدقہ اور دعا پر اکتفا کو بہتر قرار دیا۔ 1

سوال

سائل نے پوچھا کہ اگر کوئی قرآن پڑھ کر اس کا ثواب اپنے والد، دوست یا بھائی کو ہدیہ کرے تو کیا ثواب پہنچتا ہے؟ 1

جواب

ابن باز نے کہا کہ اس مسئلے میں اختلاف ہے: اکثر اہلِ علم کے نزدیک ثواب پہنچتا ہے، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ یہ عمل نبی یا صحابہ سے منقول نہیں۔ 1 ان کے نزدیک بہتر یہ ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے اور ہر شخص اپنے لیے پڑھے، اور میت کی طرف سے صدقہ اور اس کے لیے دعا مسلمانوں کے اجماع سے اسے نفع دیتے ہیں۔ 1 انہوں نے مزید کہا کہ جو شخص شفا کے بعد کوتاہی سے روزے چھوڑ کر فوت ہو اس کی طرف سے روزے رکھے جائیں، اور فرض یا نذر کا حج اس کی طرف سے کیا جائے، لیکن میت کی طرف سے نماز پڑھنے کی کوئی اصل نہیں۔ 1

اس ریکارڈ کے بارے میں

یہ جواب binbaz.org.sa پر، جو ابن باز کے علمی ورثے کی سرکاری ویب سائٹ ہے، فتویٰ نمبر 4002 کے طور پر شائع ہوا ہے۔ 1 میوزیم اس متن کو جاری کرنے والے عالم یا ادارے کی طرف منسوب ایک تاریخی دستاویز کے طور پر درج کرتا ہے، اور خود کوئی فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

سوال پر آراء

سوال: کیا میت کو ہدیہ کیا گیا قرآن خوانی کا ثواب اسے پہنچتا ہے؟

پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · sunniبنیادی حوالہ

ثواب میت کو پہنچتا ہے

ابن باز نے ذکر کیا کہ اکثر اہلِ علم کے نزدیک ہدیہ کی گئی قرأت کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔
مزید آراء (1)

اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · sunniبنیادی حوالہ

یہ منقول نہیں، اور اسے چھوڑنا بہتر ہے

ابن باز نے ذکر کیا کہ دوسروں کے نزدیک یہ نبی یا صحابہ سے منقول نہیں، اور ان کی اپنی رائے یہ تھی کہ اسے چھوڑ کر صدقہ اور دعا پر اکتفا بہتر ہے۔

قائل: ابن باز عبد العزيز بن عبد الله

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

About
الصدقة

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

الإنفاق في سبيل الله· التضامن الاجتماعي والأخوة الدينية· النية في الأعمال· الأربعون 25 — ذهب أهل الدثور بالأجور· الأربعون 26 — كل سلامى من الناس عليه صدقة· مسلم 1014 — التمرة من كسب طيب تربى حتى تكون كالجبل· مسلم 1016 — اتقوا النار ولو بشق تمرة· مسلم 1017 — من سن في الإسلام سنة حسنة

ماخذ

  1. موقع ابن باز , fatwa 4002

اصل صفحہ

اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “کیا قرآن خوانی کا ثواب میت کو پہنچتا ہے؟”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/fatwa-binbaz-gifting-quran-reward-to-the-dead/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

الفاظ

قرآن، حدیث، شاعری، اور مسلم اقوام کی زبانیں اور رسم الخط۔
متعلقہ

الإنفاق في سبيل الله