ایک نظر میں
- جائزہ
- تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
خلاصہ
انسانوں پر طبی تجربات کے بارے میں سوال، جس کے جواب میں اسلام ویب کے مرکزِ فتویٰ نے میت کے پوسٹ مارٹم اور اس کی حدود پر بات کی۔ 1
سوال
سائل نے پوچھا کہ کیا طب میں انسان پر تجربات جائز ہیں اور کیا ان کی کوئی حد ہے؟ 1
جواب
مرکز نے جواب دیا کہ مسلمان کی حرمت موت کے بعد بھی باقی رہتی ہے، اور اس کا حق ہے کہ اسے غسل، کفن، نمازِ جنازہ اور تدفین دی جائے اور اس کی لاش سے تعرض نہ کیا جائے۔ 1 اس کے نزدیک لاش کا پوسٹ مارٹم صرف معتبر مصلحت یا ضرورت کے لیے اور اسی کے بقدر جائز ہے۔ 1 اس نے قدیم فقہا کے ہاں نظائر پیش کیے، جن میں حنفیہ، شافعیہ اور دیگر کا یہ قول ہے کہ مردہ عورت کا پیٹ چاک کر کے اس بچے کو نکالا جا سکتا ہے جس کے زندہ ہونے کی امید ہو۔ 1
اس ریکارڈ کے بارے میں
اسلام ویب کے مرکزِ فتویٰ نے یہ فتویٰ نمبر 46335 کے تحت 28 مارچ 2004 کی تاریخ کے ساتھ شائع کیا۔ 1 میوزیم اس جواب کو اس کے صاحب کی طرف منسوب ایک تاریخی متن کے طور پر درج کرتا ہے، اور خود کوئی فتویٰ جاری نہیں کرتا۔
تعلقات
- About
- العلاج
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الطب· زچگی اور امراضِ نسواں کی تعلیم اور پیشے کے ضوابط· مریض سے اس کی بھلائی کے لیے بیماری کی حقیقت چھپانے کا حکم· بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرارداد 261 (6/26): اسلامی شریعت میں نفسیاتی امراض کا اہلیت پر اثر· العلاج
ماخذ
- اسلام ویب کا مرکزِ فتویٰ (islamweb.net) , fatwa 46335
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “انسانوں پر طبی تجربات کا حکم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/fatwa-islamweb-medical-experiments-and-autopsy/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.