ایک نظر میں
- جائزہ
- تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں
خلاصہ
مصعب بن زبیر کا بصرہ میں 80 ہجری کا خطبہ، جب ان کے بھائی عبداللہ نے انہیں عراق کا والی بنایا۔ کتاب قرآنی آیات سے آغاز کرتی ہے جن کا متن یہاں نقل نہیں کیا گیا، اور خطیب فرعون کے لوگوں پر ظلم کا ذکر کرتے ہیں۔ 1
خطبے کے دوران وہ ہاتھ سے حجاز، شام اور عراق کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور علاقوں کے نام لیتے ہیں، جو صوبوں سے مدد کی طلب کا اشارہ ہے۔ 1
کتاب کے مطابق یہ خطبہ البیان والتبیین، العقد الفرید اور طبری کی تاریخ میں درج ہے۔ 1
تعلقات
- Part of
- جمہرة خطب العرب
- Mentions
- البصرة
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
جامع البصرة· قصر قباذ (قصر الحجاج) بالبصرة· ابو داؤد کا پہلا سفر: بغداد، بصرہ اور مکہ، 220ھ/835ء· موفق کی تین خواہشیں: ابو داؤد کا بصرہ میں قیام، تقریباً 272ھ/885ء· اشعری «مقالات الاسلامیین» اور معتزلہ کے رد کی کتب تصنیف کرتے ہیں· اشعری کا بصرہ کی جامع مسجد میں اعتزال سے توبہ کا اعلان، 300ھ/912-913ء· اشعری، ابو علی جبّائی کا شاگرد بصرہ میں، اور تین بھائیوں کی مناظرہ· نزول الأساورة البصرة
ماخذ
- جمهرة خطب العرب لأحمد زكي صفوت (ط ١٣٥٢هـ) , vol2 p.180
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “مصعب بن زبیر کی بصرہ میں خطبہ (۸۰ھ)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/khutbat-musab-ibn-al-zubayr-basra/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-31.