ایک نظر میں
- دور
- الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك
- خطہ
- egypt-nile
وقت میں
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
خلاصہ
یومنز اس دعوے کا ذکر کرتے ہیں کہ الظاہر بیبرس نے مملوک سلطنت میں تقریباً دو سو انہتر عمارتیں بنائیں، مگر قاہرہ میں ان کی بچی ہوئی اہم چیز ان کی مسجد (1266ء تا 1269ء) ہے جو باب النصر اور باب الفتوح کے آگے شمالی مضافات میں کھنڈر حالت میں ہے۔ 1 یہ جامع الحاکم کے بعد پہلی بڑی مسجد تھی، کیونکہ ایوبیوں نے جامع الحاکم کو اپنی بڑی جامع مسجد بنایا اور نئی تعمیر کے بجائے پرانی کی تجدید کو ترجیح دی۔ 1 بیبرس خود اس کی منصوبہ بندی کی نگرانی کرتے تھے اور یافا کی صلیبی عمارتوں کا سامان دوبارہ استعمال کے لیے منگوایا۔ 1
نقشہ
اس کا ابھرے دروازوں اور کونوں کے پشتوں والا لمبا رخ تیونس کی جامع مہدیہ کی یاد دلاتا ہے، جبکہ بڑے گنبد والا نقشہ سلجوقی اثر کا پتا دیتا ہے۔ 2 یہ ستونوں والی مسجد ہے: صحن کے شمال مشرق اور جنوب مغرب میں تین صفوں کے دالان اور شمال مغرب میں دو صفوں کا دالان؛ نماز گاہ چھ صفوں کی گہری، قبلہ کے متوازی، سوائے درمیان کی تین بلند صفوں کے جو محراب پر عمودی ہیں اور گنبد تک لے جاتی ہیں۔ 2 یافا کے صلیبی قلعے کے سامان سے بنا لکڑی کا گنبد بھاری پایوں پر نو خانوں کو ڈھانپتا تھا اور حجم میں شافعی کے مقبرے کے قریب تھا؛ یومنز اسے فارسی اور اناطولی مساجد کی طرح نماز گاہ کے اندر الگ حرم بنانے والی ایجاد سمجھتے ہیں، اور ہلنبرانڈ کے خیال میں یہ سلطان کے لیے مقصورہ بھی تھا۔ 2
رخ اور دروازے
جہاں اندرونی محرابی قطاریں دیوار سے ملتی ہیں وہاں پشتے دیوار کو توڑتے ہیں، بیچ میں نوکیلی کھڑکیاں ہیں جن میں کبھی گچ کی جالیاں تھیں؛ بیرونی آرائش صرف تین دروازوں اور زینہ دار کنگروں تک ہے۔ 2 مرکزی دروازہ شمال مغربی دیوار کے بیچ ابھرا ہوا مکعب ہے، گنبد دار، جس کی محراب میں باب زویلہ اور کلیسائے قیامت جیسے تکیہ نما پتھر ہیں؛ یہ مینار کا قاعدہ تھا جس کا مستطیل ٹھونٹھ «وصفِ مصر» کے زمانے تک باقی تھا۔ 2 پہلو کے دروازوں میں ایک کنگرہ دار محراب اور ایک رومانسک طرز کے زگ زیگ والی محراب ہے۔ 2 یومنز اس کی قلعہ نما سختی میں بانی کی شخصیت کا عکس دیکھتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ نپولین نے اس میں فوج ٹھہرائی۔ 2 3
تعلقات
- Built by
- سلطان الظاہر رکن الدین بیبرس
- Located in
- القاهرة
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· ابن نفیس مصر کے رئیس الاطباء اور سلطان ظاہر بیبرس کے خصوصی طبیب بنتے ہیں، تقریباً 658ھ/1260ء· الظاهر بيبرس· جامع الحاکم بامر اللہ، قاہرہ· جامع الصالح طلائع، قاہرہ· جامع محمد علی، قلعۂ قاہرہ· باب الفتوح، قاہرہ· باب النصر، قاہرہ
ماخذ
- ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.127
- ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.128
- ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.129
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “جامع الظاہر بیبرس، قاہرہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/building/mosque-of-al-zahir-baybars/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON