پرانا قلعہ دہلی — دین پناہ

نوادرات مقام

القلعة القديمة (پرانا قلعه) في دلهي، دين پناه

دلهي

دہلی میں جمنا کنارے قلعہ جسے ناتھ ہمایوں کی «دین پناہ» قرار دیتے ہیں، جس کی بنیاد محرم 940ھ (اگست 1533) میں پڑی اور فصیل و دروازے مئی 1534ء تک قریب التکمیل تھے؛ عموماً شیر شاہ سے منسوب 1۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
إمبراطوريات البارود
خطہ
south-asia

وقت میں

1520عیسوی1530عیسوی1540عیسوی1550عیسوی
إمبراطوريات البارود

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

architecture

جائزہ

پرانا قلعہ دہلی میں جمنا کے کنارے، ہمایوں کے مقبرے اور کوٹلہ فیروز شاہ کے درمیان، ایک بے قاعدہ مستطیل قلعہ ہے؛ اس کا طولی محور دریا کے متوازی ہے جو غالباً اس کی مشرقی دیوار سے لگ کر بہتا تھا، اور باقی تین اطراف خندق سے محفوظ تھے جس کے کچھ حصے باقی ہیں۔ 1 2 3 قلعہ، اس کے تین دروازے اور اندر کی قلعۂ کہنہ مسجد اور شیر منڈل عموماً شیر شاہ سے منسوب ہیں؛ آر ناتھ اسے ہمایوں کا شہر «دین پناہ» قرار دیتے ہیں۔ 1

خواندمیر کے مطابق بنیاد

خواندمیر لکھتے ہیں کہ ہمایوں نے شعبان 939ھ میں گوالیار میں دہلی میں ایک شہر بسانے کا ارادہ ظاہر کیا جو داناؤں کی پناہ گاہ ہو اور «دین پناہ» کہلائے، اور شہاب الدین احمد معمائی نے اس کی تاریخ «شہرِ بادشاہ دین پناہ» (940ھ) کہی۔ 4 ہمایوں نے دریا کنارے بلند زمین چنی، وسطِ محرم 940ھ (اگست 1533) میں بنیاد رکھی گئی، اور شوال 940ھ کے آخر (وسط مئی 1534) تک فصیل، برج اور دروازے قریب التکمیل تھے۔ 4 5 ناتھ ابو الفضل کے اس قول پر اعتماد کرتے ہیں کہ ہمایوں نے اندرپت کا قلعہ بحال کر کے اسے دین پناہ نام دیا، اور بدایونی کے اس قول پر کہ شیر شاہ نے علاء الدین کی دہلی (سیری) ڈھا کر دین پناہ اور فیروزآباد کے درمیان اپنا شہر بسایا۔ 1 6 7

فصیل اور دروازے

اونچی فصیل اَن گھڑ پتھر کی ہے، باقاعدہ فاصلوں پر گول برج، کہیں کہیں دوہری مورچہ بندی، تغلقی طرز کی یاد دلاتا ہلکا ڈھلان، اور اندر کی طرف حفاظتی دستے کے لیے محرابی کوٹھڑیوں کی قطاریں۔ 3 تینوں دروازے — شمال میں طلاقی دروازہ، مغرب میں بڑا دروازہ اور جنوب میں ہمایوں دروازہ — تراشیدہ سرخ و خاکستری پتھر، سفید سنگِ مرمر، سیاہ سلیٹ اور سبز، فیروزی و زرد کاشی سے بنے ہیں، جھروکوں اور چھتریوں سمیت۔ 3 8 طلاقی دروازے پر سفید سنگِ مرمر کی دو تختیاں ایک شیر نما مرکب جانور کی ہیں جو ایک آدمی پر غالب ہے، بڑے دروازے پر دو شش پہلو ستارے جن کے بیچ کنول ہے، اور ہمایوں دروازے پر سنگِ مرمر کے دو ہاتھی۔ 8 9 10 11

نسبت کا مسئلہ

مولوی محمد اشرف حسین نے طلاقی دروازے پر ایک مدھم فارسی کتبہ درج کیا جس میں دعا ہے کہ اللہ «اس خانۂ ہمایوں» کو نقصان سے بچائے، اور ہمایوں دروازے پر روشنائی کا ایک کتبہ جو اس کی تعمیر 950ھ میں شیر شاہ کے عہد میں غازی خان لوہانی کے حکم سے بتاتا ہے۔ 8 11 12 ناتھ کے نزدیک تینوں دروازے ایک ہی اسلوب کے ہیں، آخری کتبہ شیر شاہ کے دور میں عقبی حصوں کی مرمت کی طرف اشارہ ہے، اور دروازوں کی علامتیں شیر شاہ کے ذوق سے نہیں بلکہ فلکیات و شگون کے شوقین ہمایوں سے میل کھاتی ہیں۔ 12 یہ شیر شاہ سے عام نسبت کے مقابلے میں ان کی دلیل ہے۔ 1 13

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Located in
دلهي
Related to
قلعۂ کہنہ مسجد، دہلی· شیر منڈل، پرانا قلعہ دہلی
Mentioned in
مغل فنِ تعمیر کی تاریخ (آر ناتھ)

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

دلهي· قلعۂ کہنہ مسجد، دہلی· شیر منڈل، پرانا قلعہ دہلی· افسر والا مقبرہ، دہلی· افسر والی مسجد، احاطۂ مقبرۂ ہمایوں، دہلی· بیگم پور مسجد، دہلی· عیسیٰ خان نیازی کی مسجد، دہلی· جامع مسجد، کوٹلہ فیروز شاہ (فیروز آباد)

ماخذ

  1. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 136
  2. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 142
  3. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 143
  4. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 134
  5. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 135
  6. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 139
  7. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 140
  8. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 144
  9. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 145
  10. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 146
  11. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 148
  12. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 149
  13. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 141
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “پرانا قلعہ دہلی — دین پناہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/building/purana-qila-delhi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

نوادرات

مخطوطات، فن، فن تعمیر اور دنیا بھر کے مجموعوں کے تبرکات۔
متعلقہ

دلهي

A city in northern India; it was the capital of the Delhi Sultanate from the thirteenth century CE and then the Mughal capital.