ایک نظر میں
- دور
- إمبراطوريات البارود
- خطہ
- south-asia · persia-central-asia
تعریف
چہار باغ ایسا باغ ہے جو پانی کی متقاطع نہروں اور روشوں سے چار حصوں میں بٹا ہو اور جس کے گرد دیواریں اور دروازے ہوں۔ سید علی ندیم رضوی اسے ان اہم ترین چیزوں میں شمار کرتے ہیں جو مغلوں نے ایرانی تیموری روایت سے لیں۔ 1
ہندوستان میں آمد
بابر نے 1526ء کے بعد چہار باغ ہندوستان میں متعارف کرایا۔ اس کے جن باغوں کی نشاندہی ہوئی ہے ان میں باغِ فتح، دھولپور کا باغِ نیلوفر، آج کا رام باغ (آرام باغ یا باغِ گل افشاں، جسے بعد میں نورجہاں نے مرمت کرا کے باغِ نور افشاں نام دیا) اور باغِ ہشت بہشت شامل ہیں؛ آخری دونوں آگرہ میں جمنا کے بائیں کنارے پر ہیں۔ 1 2
مقبروں کا ماحول
چہار باغ مغل مقبروں کا معیاری ماحول بن گیا، جس کے مرکز میں ایک بڑا چبوترا ہوتا: دہلی میں ہمایوں کا مقبرہ، سکندرہ میں اکبر اور مریم کے مقبرے، آگرہ میں اعتماد الدولہ کا مقبرہ اور شاہدرہ لاہور میں جہانگیر کا مقبرہ۔ تاج محل میں توجہ مرکز سے ہٹ کر کنارے یعنی دریا کے رخ پر آ گئی جہاں مقبرہ بنایا گیا۔ 1
شہروں کا نمونہ
کابل سے تاج تک، بروکس کے مطابق
جان بروکس کہتے ہیں کہ بابر جو باغ کی روایت ہندوستان کے میدانوں میں لایا وہ خالص فارسی تھی: چار دیواری میں، نجی اور چار حصوں والی۔ 4 اس کی پہلی مثالیں کابل کا باغِ وفا (1504ء) اپنی فصیل، نہروں اور حوض سمیت، 5 6 اور پھر آگرہ کا رام باغ ہیں۔ اسی مربع خاکے سے ہمایوں کے مقبرے کا باغ نکلا، تنگ نہروں کا آبی تختہ جس کے تقاطع پر کم گہرے حوض ہیں، اور اس سے تاج محل کی مشہور عکس دار نہر۔ 7 8 میدانوں میں شاہجہاں کے باغوں میں چہار باغ اپنی فارسی اصل پر لوٹا، مگر بہت وسیع ہو کر، اور تنگ نالیاں ہموار نہریں بن گئیں۔ 9
تعلقات
- Exemplified by
- اچھبل باغ (کشمیر)· باغِ نیلوفر، دھولپور· باغِ وفا (کابل)· چشمہ شاہی (سری نگر)· نشاط باغ (سری نگر)· رام باغ (آرام باغ)، آگرہ· شالامار باغ (سری نگر)· مقبرۂ اکبر، سکندرہ· ویری ناگ باغ (کشمیر)
- Mentioned in
- فردوس کے باغ: عظیم اسلامی باغوں کی تاریخ اور ڈیزائن· الأثر الإيراني في العمارة الهندية الوسيطة
- Practiced in
- آغرا
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
سری نگر· آغرا· ضريح همايون (دلهي)· رام باغ (آرام باغ)، آگرہ· شالامار باغ (سری نگر)· مقبرۂ اکبر، سکندرہ· فردوس کے باغ: عظیم اسلامی باغوں کی تاریخ اور ڈیزائن· آگرہ کا لال قلعہ
ماخذ
- سيد علي نديم رضوي، «الأثر الإيراني في العمارة الهندية الوسيطة»، في «تراث مشترك» بتحرير عرفان حبيب (2002) , p.129
- سيد علي نديم رضوي، «الأثر الإيراني في العمارة الهندية الوسيطة»، في «تراث مشترك» بتحرير عرفان حبيب (2002) , p.130
- سيد علي نديم رضوي، «الأثر الإيراني في العمارة الهندية الوسيطة»، في «تراث مشترك» بتحرير عرفان حبيب (2002) , p.131
- جون بروكس، «جنان الفردوس: تاريخ البساتين الإسلامية الكبرى وتصميمها» (لندن، 1987) , p.116
- جون بروكس، «جنان الفردوس: تاريخ البساتين الإسلامية الكبرى وتصميمها» (لندن، 1987) , p.125
- جون بروكس، «جنان الفردوس: تاريخ البساتين الإسلامية الكبرى وتصميمها» (لندن، 1987) , p.127
- جون بروكس، «جنان الفردوس: تاريخ البساتين الإسلامية الكبرى وتصميمها» (لندن، 1987) , p.132
- جون بروكس، «جنان الفردوس: تاريخ البساتين الإسلامية الكبرى وتصميمها» (لندن، 1987) , p.154
- جون بروكس، «جنان الفردوس: تاريخ البساتين الإسلامية الكبرى وتصميمها» (لندن، 1987) , p.151
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “چہار باغ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/chaharbagh/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON