ایک نظر میں
- خطہ
- persia-central-asia
خلاصہ
مسلمان مصنفین کی گواہی
ولکنسن بیہقی کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ والیٔ خراسان علی بن عیسیٰ نے ہارون الرشید کو چینی ظروف کے دو ہزار بیس ٹکڑے دیے، اور بتاتے ہیں کہ علی بن عیسیٰ اپنی وصولیوں کے لیے مشہور تھے اور انہیں خلیفہ سے بانٹ کر منصب پر برقرار رہے۔ 1 سلیمان تاجر، جنہوں نے 851ء میں خلیج سے چین تک سفر کا حال لکھا، چینی ظروف سے واقف تھے اور ایسے باریک مٹی کے پیالے بیان کیے جن میں سے پانی کی چمک نظر آتی ہے۔ 1 ثعالبی نے گیارہویں صدی کے اوائل میں شفاف چینی برتن بیان کیے، جن میں بہترین «مشمشی» پھر «زبدی» ہیں؛ اور بیرونی نے ایک رنگا رنگ قسم اور اس کی گرانی کا ذکر کیا، اور رے میں اصفہان کے ایک تاجر دوست کا قصہ سنایا جس کی اس عیش سے رغبت پر وہ حیران ہوئے۔ 1
تجارتی راستے
ولکنسن کے خیال میں یہ تجارت زیادہ تر سمندری تھی: ابن خرداذبہ نے «المسالک والممالک» میں چینی ظروف کو خلیج ٹونکن کے لوقین سے بھیجے جانے والے مال میں گنا، اور چینی ٹکڑے اسلامی بندرگاہوں پر ملے، جن میں سب سے اہم سیراف ہے، جہاں سلیمان کے مطابق چینی جہاز سامان اتارتے تھے اور جسے اصطخری نے ایران کی سب سے بڑی بندرگاہ کہا، یہاں تک کہ 977ء کے زلزلے نے اسے تباہ کر دیا۔ 1
تعلقات
- Practiced in
- نيسابور
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
قلوی لعاب والے ظروف اور سانچے· سفید پر سیاہ ظروف· رنگ چھڑکے ظروف· یک رنگ لعاب دار ظروف· زرد مائل ظروف (نیشاپور)· غیر شفاف سفید ظروف· غیر شفاف زرد ظروف· سفید پر کثیر رنگ ظروف
ماخذ
- تشارلز ويلكنسون، نيسابور: فخار العصر الإسلامي المبكر (متحف المتروبوليتان للفن، نيويورك، 1973) , p. 296
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “اسلامی دنیا میں چینی ظروف”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/chinese-wares-in-the-islamic-world/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON