گولکنڈہ کی مصوری

تخلیقات نوادرات الفاظ

تصوير گولكنده

گولکنڈہ اور حیدرآباد کی قطب شاہی سلطنت (1512–1687ء) کی مصوری، جس نے اسلامی دنیا بھر کے مصوروں کو خوش آمدید کہا اور ان کے صفوی، ترکی اور مغل انداز باقی رکھے، آتشیں رنگوں اور گھنی توانائی کے میلان کے ساتھ 1 2۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
south-asia

arts-of-the-book

خلاصہ

مارک زیبروسکی کے مطابق گولکنڈہ کی مصوری کے عمومی رجحانات متعین کرنا مشکل ہے، کیونکہ سلطنت کی پوری تاریخ میں تقریباً خالص صفوی، ترکی اور مغل اسلوب میں مصوری جاری رہی، گویا قطب شاہی سلاطین نے اسلامی دنیا بھر سے فنکاروں کو بلایا اور انہیں اپنے اصل اسلوب پر رہنے دیا۔ پھر بھی آتشیں رنگوں — بنفشی گلابی، مرجانی سرخ، روشنائی جیسا نیلا — اور لکیر و ترکیب کی کھولتی توانائی کا ذوق مقامی اور بیرونی دونوں فنکاروں کے کام میں ہے۔ 1

ترکمانی ورثہ

بانی سلطان قلی قرہ قویونلو ترکمان شہزادے تھے جو 1478ء میں مغربی ایران سے بیدر آئے اور 1512ء میں خودمختاری کا اعلان کیا۔ مصنف کے نزدیک خاندان کے اصل وطن کے مٹیالے ترکمانی انداز نے گولکنڈہ کے ذوق کا سر طے کیا، اور اس مکتب کی جڑیں شاید پندرہویں صدی کے تبریز اور بغداد میں ہیں۔ 1 3 4 وہ اس کے کاموں کو تناؤ بھری شان والا اور بنیادی طور پر غیر فارسی کہتے ہیں، جو ہندوستانی رقص، منقش مندروں اور جنوبی نباتات کی یاد دلاتے ہیں۔ 2

آثار

گولکنڈہ کی اپنے انداز کی قدیم ترین تصاویر سولہویں صدی کے آخر میں محمد قلی قطب شاہ کی اردو کلیات کی ہیں، پھر برلن میں «مرکب گھوڑا» اور «جزیرۂ واق واق کا درخت»، اور لینن گراڈ میں «ہاتھی پر سلطان عبد اللہ قطب شاہ کا جلوس»، جو مصنف کے نزدیک ثابت کرتا ہے کہ سترہویں صدی کے وسط میں مغل اثر کے باوجود یہ مکتب نئی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ 1 5 ابو الحسن کے دور میں مختلف اسالیب ساتھ رہے، جن میں صوفی شاہ راجو کی شبیہیں ہیں۔ 1 6

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Exemplified by
کلیاتِ محمد قلی قطب شاہ (سالار جنگ میوزیم)

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

کلیاتِ محمد قلی قطب شاہ (سالار جنگ میوزیم)· عباسی قلعی دار لعاب والے ظروف· احمد نگر کی مصوری· خطِ منسوب اور اقلامِ ستہ· الأرابيسك (الزخرفة الإسلامية)· بیجاپور کی مصوری· شکستہ رواں خط (نیا اسلوب)· دکنی مصوری

ماخذ

  1. مارك زبروفسكي، التصوير الدكني (لندن: سوذبيز، 1983) , p. 13
  2. مارك زبروفسكي، التصوير الدكني (لندن: سوذبيز، 1983) , p. 152
  3. مارك زبروفسكي، التصوير الدكني (لندن: سوذبيز، 1983) , p. 150
  4. مارك زبروفسكي، التصوير الدكني (لندن: سوذبيز، 1983) , p. 151
  5. مارك زبروفسكي، التصوير الدكني (لندن: سوذبيز، 1983) , p. 182
  6. مارك زبروفسكي، التصوير الدكني (لندن: سوذبيز، 1983) , p. 188
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “گولکنڈہ کی مصوری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/golconda-painting/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

تخلیقات

مسلمان آج جو بناتے اور جن کے مالک ہیں: کتب فروشی، ناشر، ایپس، اسٹوڈیو، برانڈز اور خیراتی ادارے۔
متعلقہ

کلیاتِ محمد قلی قطب شاہ (سالار جنگ میوزیم)

محمد قلی قطب شاہ کی اردو شاعری کا مذہّب و مصور نسخہ، گولکنڈہ تقریباً 1590–1600ء، جسے زیبروسکی سلطان کا اپنا نسخہ سمجھتے ہیں؛ اس میں آٹھ تصاویر ہیں، چھ «حیدرآباد مصور» کی اور دو بخارا کے ایک فنکار کی ۔