الهجرة

الهجرة

In the technical sense, hijra is leaving the abode of unbelief for the abode of Islam, an act done for God's sake. The jurists divide it into kinds, the best known being the move from Mecca to Medina. 1 It was first permitted, then made obligatory before the conquest of Mecca. The jurists then differed on whether it stayed obligatory afterwards: the Shafi'is and Hanbalis held it recommended for one who could practise his religion where he was, the Hanafis and al-Khattabi held it recommended in general, and the Malikis held leaving a land of wrong and temptation to be obligatory. 2 3 4 5

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
arabia
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

refugees-migrants-diasporadevelopment-of-law-theology-institutions

خلاصہ

فقہی اصطلاح میں ہجرت دارالکفر سے دارالاسلام کی طرف منتقل ہونے کو کہتے ہیں، اور یہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کا ایک عمل ہے۔ 1 فقہاء اس کی کئی قسمیں بیان کرتے ہیں، جن میں سب سے مشہور مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت ہے۔ 1 پہلے اس کی اجازت دی گئی، پھر فتحِ مکہ سے پہلے یہ مسلمانوں پر واجب ہو گئی، اور فتح کے بعد اس کے وجوب کے باقی رہنے میں فقہاء نے اختلاف کیا۔ 2 6

اقسام اور متعلقہ الفاظ

ابن دقیق العید نے ہجرت کی پانچ قسمیں گنوائیں: پہلی حبشہ کی طرف، دوسری مکہ سے مدینہ کی طرف، تیسری قبائل کا نبی کے پاس شریعت سیکھنے آنا پھر اپنی قوم کو لوٹ جانا، چوتھی مکہ کے ان لوگوں کی ہجرت جو مسلمان ہو کر نبی کے پاس آئے اور واپس چلے گئے، اور پانچویں اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دینا۔ 1 ابن القیم نے ہجرت کو جسم کی ایک سرزمین سے دوسری کی طرف منتقلی اور دل کی اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت میں تقسیم کیا۔ 7 دارالاسلام وہ خطہ ہے جہاں اسلام کے احکام ظاہر ہوں، اور دارالحرب وہ جہاں کفر کے احکام ظاہر ہوں؛ ہجرت ان کے درمیان منتقلی ہے۔ 1

فتحِ مکہ سے پہلے

فتحِ مکہ سے پہلے ہجرت دو مراحل سے گزری: پہلے اجازت، پھر فرضیت۔ 2 شروع میں یہ مستحب تھی، بعد میں جو شخص اپنے دین سے فتنے میں ڈالا جا رہا ہو اس پر شرک کے گھر سے نکلنا فرض ہوا، اور جو نکلنے کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ معذور ٹھہرا۔ اس کی دلیل میں سورۃ الطلاق (آیت 2) اور سورۃ النساء (آیت 100) کا ذکر کیا گیا ہے۔ 2 8

فتحِ مکہ کے بعد

بعض روایات کے مطابق ہجرت فتح کے ساتھ ختم ہوئی، اور بعض کے مطابق قیامت تک یا جہاد اور توبہ کے باقی رہنے تک جاری ہے۔ 8 6 ان کے جمع کی تین صورتیں بیان ہوئی ہیں: پہلی یہ کہ واجب ہجرت ختم ہوئی اور مستحب باقی رہی، یہ حنفیہ اور خطابی کا قول ہے۔ دوسری یہ کہ مکہ سے ہجرت اس لیے ختم ہوئی کہ وہ دارالاسلام بن گیا، اور باقی وہ ہجرت ہے جو کسی نے دارالکفر میں اسلام لانے کے بعد کی ہو۔ تیسری یہ کہ جنت سے وابستہ افضل ہجرت ختم ہوئی، اور باقی برائیوں کو چھوڑنا ہے۔ 6 9 فتح کے بعد کے حکم پر مذاہب مختلف ہیں:

  • شافعیہ اور حنابلہ: جو شخص دارالکفر میں اپنا دین ظاہر کر سکتا ہو اور فتنے کا خوف نہ ہو، اس کے لیے ہجرت مستحب ہے۔ جو اپنا دین ظاہر نہ کر سکے اس پر ہجرت واجب ہے اگر وہ طاقت رکھتا ہو، ورنہ وہ معذور ہے۔ 3 10
  • حنفیہ، خطابی اور حنابلہ میں سے قاضی: فتح کے بعد ہجرت مندوب ہے، یعنی ایسی سرزمین سے نکلنا جہاں نیکی چھوڑ دی گئی ہو اور برائی پھیل گئی ہو، یا ایسی جگہ سے جہاں آدمی سے بڑا گناہ سرزد ہوا ہو۔ 10 4
  • مالکیہ: سفر کو فرار اور طلب میں تقسیم کرتے ہیں۔ فرار میں دارالحرب سے دارالاسلام کی طرف ہجرت شامل ہے جو قیامت تک واجب ہے، بدعت کی سرزمین سے نکلنا، حرام کے غلبے والی جگہ سے بھاگنا، جان یا مال کے نقصان سے بچنا، اور وبا زدہ علاقے سے نکلنا۔ طلب میں علم، حج، جہاد، روزی، تجارت اور اللہ کے لیے بھائیوں کی زیارت شامل ہیں۔ 4 11 12

موسوعہ میں حضرت عباس بن عبدالمطلب کا واقعہ بھی ذکر ہوا ہے کہ وہ فتح تک اپنا اسلام چھپائے رہے اور مکہ کی خبریں نبی کو لکھتے رہے؛ الرملی کے نزدیک مسلمانوں کے لیے ان کی افادیت ہجرت پر راجح تھی۔ موسوعہ کے مطابق ذہبی نے اس روایت کی سند کو ضعیف کہا ہے۔ 13

عورت کی ہجرت

مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک جو عورت دارالکفر میں اپنا دین ظاہر نہ کر سکے اس پر ہجرت واجب ہے، اور ان کا اختلاف اس پر ہے کہ اس کے لیے محرم شرط ہے یا نہیں۔ 13 حنفیہ کہتے ہیں کہ دارالحرب میں اسلام لانے والی عورت بغیر محرم کے دارالاسلام کی طرف نکل سکتی ہے۔ 14 حنفیہ کا مہاجر عورت کی عدت پر اختلاف ہے: ابوحنیفہ کے نزدیک غیر حاملہ مہاجر عورت پر عدت نہیں، جبکہ ابو یوسف اور محمد کے نزدیک عدت واجب ہے۔ ابوحنیفہ کے نزدیک حاملہ عورت کا نکاح وضع حمل تک درست نہیں۔ 14

دارالکفر میں کیا شامل ہے

بعض حنابلہ نے باغیوں کے علاقے اور بدعت کے علاقے کو دارالحرب کے ساتھ ملا کر ان سے ہجرت کا وجوب بیان کیا۔ 5 مالکیہ کے نزدیک ظلم یا فتنے کے ذریعے حرام اور باطل والی سرزمین سے ہجرت قیامت تک فرض ہے۔ 5

ہجرت میں اخلاص

ہجرت ایک شرعی عمل ہے، اس لیے اس کا اجر اسی وقت ملتا ہے جب اللہ کی رضا کے لیے کی جائے۔ فقہاء «اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے» والی حدیث سے استدلال کرتے ہیں: جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو اس کی ہجرت انہی کی طرف ہے، اور جس کی ہجرت دنیا یا کسی عورت کے لیے ہو اس کی ہجرت اسی مقصد کی طرف ہے۔ 15 16

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

کاٹنا (عض)· عدل· عدوی· عفو· عہد· أجل· أجير· أجنبي

ماخذ

  1. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.16432
  2. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.16434
  3. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.16438
  4. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.16440
  5. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.16445
  6. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.16436
  7. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.16433
  8. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.16435
  9. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.16437
  10. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.16439
  11. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.16441
  12. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.16442
  13. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.16443
  14. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.16444
  15. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.16446
  16. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.16447
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “الهجرة”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/hijra-fiqh/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

کاٹنا (عض)

In the lexicon, add is gripping a thing with the teeth and holding it. If a person bites another without right and a wound results, the biter must pay the damages for the wound, assessed as a just award by experts. If one man bites another's hand and the bitten man pulls it free so that the biter's front teeth fall out, most jurists hold that there is no liability, relying on a prophetic judgement in such a case; the Shafi'is limit this to a bitten man who chose the easiest means of release, and the preferred Maliki view requires compensation.