مینائی ظروف

تخلیقات نوادرات

الخزف المينائي

بارھویں صدی کے اواخر کے فارسی ظروف جن پر پہلے لعاب کے اندر یا نیچے جمنے والے رنگ اور پھر مزید پکائیوں میں لعاب کے اوپر «کم حرارت» کے رنگ لگائے جاتے، جسے کاشان کے ابو القاسم «ہفت رنگ» کہتے ہیں 1۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
persia-central-asia

arts-of-the-bookengineering-and-technology

خلاصہ

آرتھر لین سمجھاتے ہیں کہ کثیر رنگ نقاشی چاہنے والے کمہار کے سامنے دو راستے تھے: یا تو صرف وہ چند رنگ استعمال کرے جو برتن اور لعاب کو ایک ساتھ پکانے کی حرارت سہہ سکیں، یا پہلے لعاب دار برتن پکا کر پھر کم پائیدار رنگوں سے نقاشی کرے جو بہت کم حرارت پر دوسری پکائی میں جمیں۔ 1 وہ کہتے ہیں کہ یہ «کم حرارت» رنگ صرف فارسی کمہاروں نے استعمال کیے اور شام یا مصر میں کبھی نہیں اپنائے گئے۔ 1

ہفت رنگ کا طریقہ

کاشان کے ابو القاسم کے بیان کردہ «سات رنگ» کے طریقے میں نقش کے بعض حصے پہلی پکائی سے پہلے کچے لعاب پر یا اس کے نیچے صاف ہلکے نیلے، بنفشی اور سبز رنگ سے بنائے جاتے؛ پھر سیاہ خطوط اور شیشہ ساز مادے میں ملے دوسرے رنگ ایک یا زیادہ کم حرارت کی پکائیوں میں جمائے جاتے، جن میں چمک دار سیاہ، شاہ بلوطی، پومپئی سرخ، سفید اور سونے کے ورق شامل ہیں۔ 1 لین لکھتے ہیں کہ «مینائی» (میناکاری والا) نام تاجر اور شائقین استعمال کرتے ہیں۔ 1 زمین اکثر دھندلا ہلکا فیروزی لعاب ہوتی، اور سونے کے لیے مخصوص حصے کبھی پہلی پکائی سے پہلے مٹی سے ابھار کر بنائے جاتے۔ 1 2

موضوعات

لین کے نزدیک سب سے پیچیدہ ٹکڑے سب سے پرانے ہیں، جن میں بڑی شبیہیں ہیں، پھر «منی ایچر» کا ذوق غالب آیا، اور بعض کو غالباً سلجوقی مخطوطات کے مصوروں نے سجایا جن میں سے بہت کم بچے ہیں: ان میں ایک جنگ کے منظر والی قاب ہے جس پر لڑنے والوں کے نام لکھے ہیں، اور ایک چھوٹا گلاس جس پر فردوسی کے «شاہنامہ» میں بیژن کی داستان کے مناظر ہیں۔ 2 دوسرے مناظر میں بہرام گور کا شکار اور فریدون کی فتح ہیں۔ 2

مراکز اور تاریخ

رے، کاشان اور شاید ساوہ میں یہ تکنیک برتی گئی، اگرچہ ان کے مکاتب ابھی یقین سے الگ نہیں کیے جا سکتے؛ نایاب تجرباتی ٹکڑوں میں مینائی رنگ کاشانی طرز کی چمک کے ساتھ ملتے ہیں۔ 2 لین خبردار کرتے ہیں کہ مینائی پر لکھی تاریخیں اکثر جعلی اضافے ہوتی ہیں، مگر ان کے نزدیک یہ قسم بارھویں صدی کی آخری چوتھائی میں پیدا ہوئی اور 1220 کی دہائی کے منگول حملوں تک اپنا عروج گزار چکی تھی؛ ابو القاسم کہتے ہیں کہ ان کے زمانے (1301ء) میں «سات رنگ» کے ظروف نہیں بنتے تھے۔ 2 3

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Subject of
ابتدائی اسلامی ظروف (آرتھر لین)
Related to
كأس مينائي بالأمراء· لاجوردینہ ظروف

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

الفخار المعدني (اللستر)· لقابی ظروف· آرتھر لین· لاجوردینہ ظروف· ابتدائی اسلامی ظروف (آرتھر لین)· كأس مينائي بالأمراء· الفسطاط· الرقة

ماخذ

  1. آرثر لين، «الخزف الإسلامي المبكر: بلاد الرافدين ومصر وفارس»، لندن: فيبر وفيبر، 1947 , p. 60
  2. آرثر لين، «الخزف الإسلامي المبكر: بلاد الرافدين ومصر وفارس»، لندن: فيبر وفيبر، 1947 , p. 61
  3. آرثر لين، «الخزف الإسلامي المبكر: بلاد الرافدين ومصر وفارس»، لندن: فيبر وفيبر، 1947 , p. 64
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “مینائی ظروف”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/minai-ware/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

تخلیقات

مسلمان آج جو بناتے اور جن کے مالک ہیں: کتب فروشی، ناشر، ایپس، اسٹوڈیو، برانڈز اور خیراتی ادارے۔
متعلقہ

الفخار المعدني (اللستر)

Metallic-sheened pottery developed in Iraq and Fatimid Egypt, then travelling to Persia and Islamic Spain; among the most prized Islamic ceramics.