مغل مصوری

تخلیقات نوادرات الفاظ

التصوير المغولي

ہندوستان میں مغل شاہی دربار کی مصوری، جو اکبر کے دور میں صفوی اور ہندوستانی عناصر سے بنی اور تقریباً 1600 سے 1660 تک جہانگیر و شاہ جہان کے دور میں فطرت نگاری اور شبیہ نگاری کے عروج پر پہنچی 1 2۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
south-asia

arts-of-the-book

خلاصہ

میلو کلیولینڈ بیچ لکھتے ہیں کہ پہچانا جانے والا مغل اسلوب اکبر کے دور میں بنا: بادشاہ نے ایرانی میر سید علی اور عبد الصمد کو مصوری کے کارخانوں کا نگران بنایا، مگر جو اسلوب نکلا وہ نیا تھا اور ہندو (راجپوت) اور ہندی مسلم عناصر کو صفوی ایران کے عناصر سے ملاتا تھا۔ اکبر کی شبیہ نگاری کی «ایجاد» اور دینی و شعری متون سے تاریخی مناظر اور فطری تاریخ کی طرف منتقلی اس دور کی بڑی جدتیں تھیں۔ 1

فطرت نگاری، 1600–1660

سولہویں صدی کے آخر سے سترہویں کے وسط تک مغل مصوری فطرت نگاری اور خاص طور پر شبیہ نگاری پر مرکوز رہی۔ بیچ ایک دکنی ہاتھی کا، جسے لکیر ایک عمومی نمونہ بنا دیتی ہے، ایک راجپوت ہاتھی کا جو عمومی استعارہ رہتا ہے، اور ایک مغل ہاتھی کا موازنہ کرتے ہیں جو نسبتاً فطری فضا میں ایک مخصوص ہاتھی ہے — جو ہندی اور مسلم دونوں سیاق میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔ 3 2 فارسی تصاویر اور یورپی مطبوعات نمونہ بنیں، اور یورپی مطبوعات ہی سایہ کاری کی نئی تکنیکوں کا ماخذ تھیں۔ 2 4

جہانگیر اور شاہ جہان کے دور میں

جہانگیر کو کم مگر عمدہ تصاویر والی چھوٹی کتابیں اور البموں کے لیے الگ تصاویر پسند تھیں، اور انہوں نے اکبری طریقہ ترک کرایا جس میں ایک تصویر خاکہ ساز، رنگ ساز اور چہرہ ساز میں بٹی ہوتی۔ 5 6 شاہ جہان کے دور میں موضوعات سمٹ گئے، انفرادی شبیہیں غالب ہوئیں، اور ہاشم جیسے مصوروں کے ہاں تکنیکی کمال بذاتِ خود اظہار بن گیا، جب کہ پیاگ نے فوجوں کو بڑے ہجوم میں دکھایا — مصنف کے نزدیک ایک گہرا ہندوستانی رویہ۔ 7 8 ان کے خیال میں دارا شکوہ شاید اس نئے رخ کے سرپرست تھے، کیونکہ بہت سی بڑی تصاویر ان کی ہیں۔ 8 جب اورنگزیب نے 1660ء کی دہائی میں سرگرم سرپرستی چھوڑی تو بہت سے مصور صوبائی حکام اور امرا کی ملازمت میں چلے گئے۔ 2

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Exemplified by
ونڈسر کا پادشاہنامہ
Subject of
دی گرینڈ مغل: ہندوستان میں شاہی مصوری 1600–1660

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

ونڈسر کا پادشاہنامہ· شاهجهان· دی گرینڈ مغل: ہندوستان میں شاہی مصوری 1600–1660· عباسی قلعی دار لعاب والے ظروف· احمد نگر کی مصوری· خطِ منسوب اور اقلامِ ستہ· الأرابيسك (الزخرفة الإسلامية)· بیجاپور کی مصوری

ماخذ

  1. ميلو كليفلاند بيتش، المغولي الأكبر: التصوير الإمبراطوري في الهند 1600–1660 (وليامزتاون: معهد ستيرلنغ وفرانسين كلارك للفنون، 1978) , p. 16
  2. ميلو كليفلاند بيتش، المغولي الأكبر: التصوير الإمبراطوري في الهند 1600–1660 (وليامزتاون: معهد ستيرلنغ وفرانسين كلارك للفنون، 1978) , p. 18
  3. ميلو كليفلاند بيتش، المغولي الأكبر: التصوير الإمبراطوري في الهند 1600–1660 (وليامزتاون: معهد ستيرلنغ وفرانسين كلارك للفنون، 1978) , p. 17
  4. ميلو كليفلاند بيتش، المغولي الأكبر: التصوير الإمبراطوري في الهند 1600–1660 (وليامزتاون: معهد ستيرلنغ وفرانسين كلارك للفنون، 1978) , p. 20
  5. ميلو كليفلاند بيتش، المغولي الأكبر: التصوير الإمبراطوري في الهند 1600–1660 (وليامزتاون: معهد ستيرلنغ وفرانسين كلارك للفنون، 1978) , p. 19
  6. ميلو كليفلاند بيتش، المغولي الأكبر: التصوير الإمبراطوري في الهند 1600–1660 (وليامزتاون: معهد ستيرلنغ وفرانسين كلارك للفنون، 1978) , p. 23
  7. ميلو كليفلاند بيتش، المغولي الأكبر: التصوير الإمبراطوري في الهند 1600–1660 (وليامزتاون: معهد ستيرلنغ وفرانسين كلارك للفنون، 1978) , p. 25
  8. ميلو كليفلاند بيتش، المغولي الأكبر: التصوير الإمبراطوري في الهند 1600–1660 (وليامزتاون: معهد ستيرلنغ وفرانسين كلارك للفنون، 1978) , p. 26
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “مغل مصوری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/mughal-painting/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

تخلیقات

مسلمان آج جو بناتے اور جن کے مالک ہیں: کتب فروشی، ناشر، ایپس، اسٹوڈیو، برانڈز اور خیراتی ادارے۔
متعلقہ

ونڈسر کا پادشاہنامہ

عبد الحمید لاہوری کے پادشاہنامہ کا شاہی مصور نسخہ، ونڈسر کیسل کی شاہی لائبریری میں، جس کی کتابت شاہ جہان کے دور کے آخر (1657–58ء) میں مکمل ہوئی؛ اس کی بعض تصاویر متن سے پرانی ہیں، جن میں پیاگ اور بال چند کی تصاویر ہیں ۔