قانون پاریتو (اصول 80/20)

قانون باريتو (قاعدة 80/20)

قانون پاریتو جیسا کہ طارق السویدان سکھاتے ہیں: بیس فیصد اسباب اسی فیصد نتائج پیدا کرتے ہیں — فیصلوں، وقت، گاہکوں، ملازمین اور مسائل میں — اور جنرل الیکٹرک میں جیک ویلچ کا اصول 20/70/10 اس کا اطلاق ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global
جائزہ

politics-governance-and-authority

خلاصہ

طارق السویدان قانونِ پاریتو — یعنی اصولِ 80/20 — بطور ایک ایسے قانون کے پیش کرتے ہیں جو پہلے نظریہ تھا اور تحقیقوں نے اسے پukhtہ کیا، اس کا انتساب اطالوی مفکر پاریتو کو ہے 1 2۔

اس کے اطلاقات

ان کے مطابق بیس فیصد فیصلے اسی فیصد مؤثریت پیدا کرتے ہیں، بیس فیصد وقت اسی فیصد پیداوار، بیس فیصد گاہک اسی فیصد فروخت — بلکہ چار فیصد گاہک چونسٹھ فیصد خریداری کرتے ہیں — بیس فیصد ملازمین اسی فیصد کام، اور اسی طرح بیس فیصد ملازمین اسی فیصد مسائل پیدا کرتے ہیں (needs_source: اعداد درس میں جوں کے توں) 2 3 4 5۔

جیک ویلچ کا اصول

وہ بتاتے ہیں کہ جنرل الیکٹرک کے جیک ویلچ ہر سال ملازمین کو 20/70/10 میں بانٹتے تھے: کارآمد بیس فیصد کو نوازا اور ترقی دی جاتی اور انہیں جانے کی سوچ بھی نہیں دی جاتی؛ ستر فیصد عام کو محدود اضافوں کے ساتھ تربیت دی جاتی؛ اور کمزور دس فیصد کو ہر سال برطرف کیا جاتا — یعنی سالانہ پینتیس تا چالیس ہزار ملازمین (needs_source) 6 7۔ ان کا عملی خلاصہ یہ ہے کہ قائد اپنا وقت اور ذہن مؤثر بیس فیصد پر مرکوز کرے اور اسی فیصد کو انتظام کے حوالے کرے 8۔

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

أهل الديوان· أهل الحل والعقد· أهل المحلة· اسلامی انتظامیہ· تجربہ بمقابلہ خدمت، اور خود ترقی· نومینل گروپ تکنیک· قیادت اور قائد کے چھ کردار· موقعی قیادت

ماخذ

  1. طارق السویدان کے درسوں کا Assabile آرکائیو (ویڈیو) , Administrative Processus Abilities، قسط 3, 00:02:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  2. طارق السویدان کے درسوں کا Assabile آرکائیو (ویڈیو) , Administrative Processus Abilities، قسط 3, 00:03:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  3. طارق السویدان کے درسوں کا Assabile آرکائیو (ویڈیو) , Administrative Processus Abilities، قسط 3, 00:06:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  4. طارق السویدان کے درسوں کا Assabile آرکائیو (ویڈیو) , Administrative Processus Abilities، قسط 3, 00:07:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  5. طارق السویدان کے درسوں کا Assabile آرکائیو (ویڈیو) , Administrative Processus Abilities، قسط 3, 00:10:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  6. طارق السویدان کے درسوں کا Assabile آرکائیو (ویڈیو) , Administrative Processus Abilities، قسط 3, 00:08:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  7. طارق السویدان کے درسوں کا Assabile آرکائیو (ویڈیو) , Administrative Processus Abilities، قسط 3, 00:09:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  8. طارق السویدان کے درسوں کا Assabile آرکائیو (ویڈیو) , Administrative Processus Abilities، قسط 3, 00:11:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “قانون پاریتو (اصول 80/20)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/qanun-parito/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

أهل الديوان

Diwan is a Persian loan-word meaning a collection of sheets and writings, in which the army and those given grants were written; for the jurists it is the register in which the names of those in state service who receive a stipend from the public treasury are recorded, and the office that keeps it. Umar ibn al-Khattab was the first to set up the diwan, according to two accounts. The people of the diwan are of several kinds: soldiers, on conditions that are regulatory, such as puberty, freedom, Islam, health and fitness for fighting; holders of office, such as governors, judges, scholars, collectors, imams and muezzins; and the needy. The Companions differed on preference in distribution: Abu Bakr and Ali made it equal, while Umar and Uthman preferred by precedence in Islam, and Umar added kinship to the Prophet; Abu Hanifa and Ahmad followed the latter view.