جزری کی ہاتھی والی گھڑی

نوادرات خیالات

ساعة الفيل عند الجزري

جزری کی کتاب کی خودکار گھڑی: میٹ کی فہرست کے مطابق ہر نصف گھنٹے سوار اور پرندہ حرکت کرتے، گیند باز سے اژدہے اور پھر ناقوس والے برتن میں جاتی؛ جمع گیندوں سے گزرا وقت شمار ہوتا 1۔ نسبت نمائشی گھڑی اور خودکار حیلے کی بہتری ہے، گھڑی یا روبوٹ کی ایجاد نہیں۔ ٹی ڈی وی کتاب 1205ء کی بتاتا ہے، تصویر 715ھ/1315ء کی نقل کا ورق ہے 2 3۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك
خطہ
anatolia-balkans
ہاتھی پر مزین عمارت، اوپر گنبد اور پرندہ، انسانی شکلیں اور لپٹے لمبے اژدہوں جیسی مشینیں؛ اجزا پر عربی حروف۔ 1315ء کی مخطوطی نقل۔
تصویر: 1315ء کی نقل میں ہاتھی گھڑی — میٹ 57.51.23. The Metropolitan Museum of Art, Bequest of Cora Timken Burnett, 1956; 57.51.23. Artwork marked Public Domain, digital image under the Met Open Access CC0 policy. https://www.metmuseum.org/art/collection/search/451402

مختصر حقائق

شعبہ
وقت کی پیمائش
قسم
آلہ
پہلا ثبوت
1205 عیسوی · 601 ھ† (اخذ شدہ)
دور
درمیانی دور
مقام
آمد
نسبت
بہتری

کس نے بنایا

نسبت اور اس کی بنیاد

پہلے سے موجود گھڑیوں اور خودکار حیلوں کی روایت میں حرکت، آواز اور گیندوں کی گنتی والی نمائشی گھڑی۔

میٹ آلے کو جزری کی کتاب کے ایک باب سے منسوب اور حرکت کا سلسلہ بیان کرتا ہے۔ ٹی ڈی وی انہیں سابقہ روایت بہتر بنانے والا انجینئر کہتا ہے، ہر آلے کا اولین موجد نہیں؛ پہلے روبوٹ یا گھڑی کا دعویٰ نہیں۔

ماخذ: جزری، اسماعیل بن الرزاز — ٹی ڈی وی (سعد الدین اوکتن) · ہاتھی کی گھڑی، ورق 57.51.23 — میٹروپولیٹن میوزیم

اس سے پہلے

  • پہلے کی گھڑیوں اور خودکار حیلوں کی روایت

اس پر جو بنا

  • کتاب کی مصور نقلیں، جن میں 1315ء کا ورق

یہ کیسے کام کرتی ہے

خودکار حیلوں کی روایت، ہاتھی گھڑی اور کتاب کی نقلیں

خلاصہ

ہر نصف گھنٹے شکلیں حرکت کرتیں، گیند گرتی اور آواز آتی: میٹ کی فہرست جزری کی کتاب کی ہاتھی گھڑی یوں بیان کرتی ہے 1۔ سوار اپنے آلے سے ہاتھی کو مارتا، پرندہ حرکت کرتا اور گیند باز سے اژدہے، پھر ناقوس والے برتن میں پہنچتی؛ جمع گیندوں کی گنتی گزرا وقت بتاتی 1۔ نسبت پرانی گھڑیوں اور خودکار حیلوں کی روایت میں مقررہ وقفے کی نمائشی مشین کی ہے، گھڑی یا روبوٹ کی ایجاد نہیں۔ ٹی ڈی وی کتاب 1205ء کی بتاتا ہے؛ یہاں تصویر 715ھ/1315ء کی بعد کی نقل کا ورق ہے 2 3۔

یہ کیا ہے

گھڑی ہاتھی کی صورت میں ہے جس پر مزین عمارت، انسانی شکلیں، پرندہ اور اژدہے جیسے میکانکی اجزا ہیں، جیسا میوزیم کے ورق 57.51.23 میں نظر آتا ہے 3۔ ہاتھی مشین کی صورت ہے، زندہ جانور نہیں؛ نقشہ ہدایات کی کتاب کا ہے، اصل گھڑی کی فوٹو نہیں۔

فرانچیسکا لیونی اسے پچاس آلات کی کتاب میں رکھتی ہیں، جس میں درباری تفریح بھی شامل ہے 1۔ خودکار حرکت سے یہ دعویٰ نہیں نکلتا کہ مشین سوچتی، فیصلہ کرتی یا جدید روبوٹ کے برابر ہے۔

اس سے پہلے کی دنیا

ٹی ڈی وی جزری کو ہیلینی دور سے بنو موسیٰ تک کی انجینئرنگ روایت میں رکھتا ہے؛ ان کا مقصد پرانی مشینوں کی بہتری، اور کتاب میں سابقہ گھڑیوں، فواروں اور موسیقی کے آلات کے حوالے بتاتا ہے 2۔ گھڑی یا خودکار حیلے کی تاریخ ہاتھی سے شروع نہیں ہوتی۔

یہ عمومی انجینئرنگ سیاق ہے، کسی ایک خاص ہاتھی گھڑی کے نمونے کی نقل کا ثبوت نہیں۔ خاکہ غیر ثابت لفظی زنجیر نہیں بناتا، نہ ہر جز کسی یونانی انجینئر کو یادداشت سے دیتا ہے۔

کہانی

ٹی ڈی وی 1181–1206ء میں جزری کی آمد کے ارتقی دربار سے وابستگی اور ناصر الدین محمود کی فرمائش پر کتاب لکھنے کا ذکر کرتا ہے، تکمیل 1205ء بتاتا ہے 2۔ میٹ کا مضمون بھی کتاب کو اسی حاکم کی تیرھویں صدی کے شروع کی فرمائش سے جوڑتا ہے 1۔

ریکارڈ کی تاریخ کتاب میں توثیق کی ہے، کسی خاص مادی گھڑی کی ثابت شدہ تعمیر کی نہیں۔ مصور نقل الگ ہے: 715ھ/1315ء کی، ناسخ فروخ بن عبد اللطیف، اور میوزیم کے مطابق غالباً شام یا عراق میں بنی 3۔ تصویر کی نقل کا مقام اصل انجینئرنگ کا مقام نہیں بنا دیا گیا۔

بنانے والے

میوزیم آلے کو جزری مصنف اور انجینئر سے منسوب کرتا ہے؛ ٹی ڈی وی کے بیان کے مطابق براؤزر انہیں پرانی روایت میں بہتری لانے والا درج کرتا ہے 1 2۔ اس کا مطلب ہر جز کا بے مثال ہونا نہیں۔

ٹی ڈی وی انہیں اسلامی عالم کہتا ہے، یہی مسلم شناخت کی بنیاد ہے؛ استعمال شدہ ماخذ ذاتی مسلک نہیں بتاتا، اس لیے میوزیم کا سنی طے شدہ فریم واضح ہے 2۔ فروخ بعد کے باقی ورق کے ناسخ ہیں، اصل مشین کے ڈیزائنر نہیں 3۔

یہ کیسے کام کرتا ہے

لیونی نصف گھنٹے کے اشارے کا یہ سلسلہ دیتی ہیں 1:

  1. سوار اپنا آلہ ہلاتا اور پرندہ گھومتا ہے۔
  2. باز گیند اژدہے کے منہ میں چھوڑتا ہے۔
  3. اژدہا گیند برتن میں گراتا، جہاں وہ ناقوس سے ٹکراتی ہے۔
  4. گیند برتن کی تہہ کے پیالے میں رکتی؛ جمع گیندوں کی گنتی وقت بتاتی ہے۔

صفحے کے مختصر تعارف میں پرندہ سیٹی بجاتا بتایا گیا ہے۔ تعارف اور فہرست کی حرکت الگ منسوب بیانات ہیں، قیاس سے ایک کو نہیں بدلا گیا 3۔

یہ ماخذ کا ظاہری اشارہ ہے، پورا تعمیراتی نقشہ نہیں۔ ٹی ڈی وی جزری کی مشینوں میں عمومی طور پر وزن، تیرتے اجسام اور ڈوبتے اجسام بتاتا ہے؛ اس سے ہاتھی گھڑی کے چھپے پیالے کے ناپ، بہاؤ یا خاص پیمائش کا طریقہ نہیں نکالا گیا 2۔ ساتھ کا خاکہ تاریخی تعلقات دکھاتا ہے، ان چھپے اجزا کو نہیں۔

پھیلاؤ

یہاں کتاب اور تصویر کی منتقلی ثابت ہے: 1315ء کا ورق منتشر مخطوطے سے ہے، جس کے دوسرے اوراق میوزیم فرئیر اور سیکلر مجموعوں میں بتاتا ہے 1۔ کئی مخطوطی نقلیں چلتی ہاتھی گھڑیوں کی تعداد نہیں۔

پڑھی عبارتیں اس آلے کو کسی خاص یورپی کارخانے یا عوامی گھڑی تک پہنچانے کا راستہ نہیں بتاتیں۔ اس لیے مادی پھیلاؤ کے مفروضہ راستے نہیں بنائے گئے۔

اس کی بنیاد کیا تھی

سابقہ گھڑیوں اور خودکار حیلوں کی روایت ثابت سیاق ہے؛ ٹی ڈی وی جزری کے وسیع کام میں ہیلینی آلات اور بنو موسیٰ کو بیان کرتا ہے 2۔ ارشمیدس سے منسوب گھڑی یا بنو موسیٰ کے فواروں کا حوالہ سب کو ہاتھی گھڑی کا براہ راست نمونہ نہیں بناتا۔

بہتری خاص آلے میں پے در پے حرکات کی ترتیب ہے؛ میٹ اس کی جوڑنے کی ہدایات کا ذکر کرتا ہے 1۔ اس سے وقت ناپنے کے اصول کی ایجاد مراد نہیں۔

اس پر کیا بنایا گیا

ٹی ڈی وی کتاب کی جدید تحقیق بیان کرتا ہے: 1908–1921ء کے جزوی جرمن تراجم، 1974ء میں ہل کا مکمل ترجمہ اور 1979ء میں احمد یوسف الحسن کی تحقیق 2۔ یہ متنی اور علمی تسلسل ہے، صنعتی مشینوں کی ایسی زنجیر نہیں جو ہر بعد کے روبوٹ کو ہاتھی سے نکالے۔

کتاب کی دو چلتی گھڑیوں کی تعمیر نو بھی مذکور ہے: لندن کے 1976ء کے عالم اسلام میلے کے لیے ایک، اور استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی میں آدھے حجم کی دوسری۔ پڑھی عبارت دونوں کو ہاتھی گھڑی نہیں کہتی، اس لیے مضمون بھی نہیں کہتا 2۔

روزمرہ زندگی پر اثر

میوزیم کے درباری سیاق میں نصف گھنٹہ حرکت، آواز اور گنی جانے والی گیند بن جاتا ہے 1۔ اس کے لیے پورے شہر کے کام کے اوقات منظم کرنے کی کہانی گھڑنا ضروری نہیں۔

فہرست تعمیر شدہ آلات کی تعداد، قیمت یا ناپی گئی درستگی نہیں دیتی۔ عام گھروں میں استعمال یا اقتصادی بچت کی غیر موجود نسبت نہیں کی گئی۔

اس نے تاریخ کو کیسے بدلا

یہاں جانچا جا سکنے والا اثر متن اور تصویر میں انجینئرنگ علم کی حفاظت ہے۔ ٹی ڈی وی رنگین نقشوں اور حروف سے نشان زد اجزا کے ساتھ بنانے، جوڑنے اور چلانے کی ہدایات بتاتا ہے 2۔ لیونی ورق کو مخطوطی مصوری اور سابقہ بصری صورتوں کا اہم شاہد سمجھتی ہیں 1۔

یوں انجینئرنگ اور مصوری اکٹھی پڑھی جا سکتی ہیں، اس گھڑی کو صنعتی انقلاب کا براہ راست سبب کہے بغیر۔ کسی خاص میکانکی اصول کی منتقلی کو خاص ثبوت چاہیے، صرف شکل یا حرکت کی مماثلت نہیں۔

اسے حقیقتاً کس نے ایجاد کیا؟

اسلامی تاریخ کا مرجع۔ ٹی ڈی وی جزری کو سابقہ روایت بہتر بنانے والا انجینئر اور کتاب کو آمد کی ارتقی سرپرستی سے متعلق کہتا ہے 2۔ ہر آلے اور جز کی اولیت نہیں دیتا۔

میوزیم کی فہرست۔ لیونی ہاتھی گھڑی کو ان کی کتاب کے ایک باب سے منسوب، اس کے اشارے بیان اور 1315ء کی مصور نقل سے الگ کرتی ہیں 1۔

نسبت مخصوص گھڑی کی بہتری ہے۔ ریکارڈ «پہلا روبوٹ» اختیار نہیں کرتا، نہ ہر مصور اژدہے کو الگ انجینئرنگ مکتب کا ثبوت بناتا ہے۔

آج

میٹ میں دکھائی شہادت کاغذ پر روشنائی، رنگ اور سونے کا ورق ہے؛ معلومات کے مطابق تیس سینٹی میٹر اونچا اور 19.7 سینٹی میٹر چوڑا 3۔ یہ کاغذ کے ناپ ہیں، مشین کے نہیں۔

نمبر 57.51.23 فہرست میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ورق کا باقی ہونا جزری کی کارگاہ کی اصل گھڑی کے باقی ہونے کا ثبوت نہیں 3۔

باقی ماندہ شواہد

ورق 715ھ/1315ء کا ہے؛ میوزیم اسے 1956ء کی کورا ٹمکن برنیٹ کی وصیت سے منسوب اور تصویر کو ملک عام بتاتا ہے 3۔ یوں خیالی آلے کی بجائے کتاب کا شاہد دکھایا جا سکتا ہے۔

اجزا کے پاس حروف، آرائش، انسانی شکلیں اور لپٹے اژدہے دیکھے جا سکتے ہیں، مگر ورق اکیلا ہر چھپے جز کی ٹھیک پیمائش نہیں 1۔ تصویر اور متن سمجھنے کے الگ وسائل ہیں۔

ثقافت میں

لیونی سوار، عمامے اور لباس کے پٹوں کو تیرھویں صدی کے عراق و شام کی عرب مصوری سے جوڑتی اور اژدہے کی صورت کو اپنی معلوم قدیم ترین، 1206ء کی نقل میں بھی بتاتی ہیں 1۔ یہ تاریخ فن کی قرأت ہے، ہر جز کو کسی تہذیب کی علامت ثابت کرنا نہیں۔

ہاتھی کی آرائش سے کسی قوم یا مذہب کی برتری کی کہانی نہیں بنتی۔ مصنف، تصویر کا ماخذ اور انجینئرنگ روایات نام اور ثبوت کی حد کے ساتھ ہیں۔

بچوں کے لیے

سوچیے مشین بتائے کہ آدھا گھنٹہ گزر گیا: شکلیں ہلیں، گیند گرے اور ناقوس بجے۔ میوزیم کے بیان میں گیندیں گن کر وقت جانتے ہیں 1۔ ہاتھی جزری کی کتاب کی مشین کی صورت اور تصویر بعد کی نقل ہے، زندہ جانور یا اصل گھڑی کی فوٹو نہیں 3۔

مراجع

  • سعد الدین اوکتن، «CEZERÎ, İsmâil b. Rezzâz»، ٹی ڈی وی، جلد 7، 1993ء، صفحات 505–506۔ 2
  • میٹروپولیٹن میوزیم، «The Elephant Clock»، نمبر 57.51.23؛ معلومات، تعارف اور فرانچیسکا لیونی کی تحریر، اختیار، سوتچک، کینبی اور حیدر 2011، Catalogue Entry میں۔ 1

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Improved by
جزری، اسماعیل بن الرزاز

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

جزری کا آبی پہیے سے چلنے والا دو پسٹن پمپ· جزری کا ہاتھ دھونے والا طاؤس· آمد· جزری، اسماعیل بن الرزاز

ماخذ

  1. ہاتھی کی گھڑی، ورق 57.51.23 — میٹروپولیٹن میوزیم , Catalogue Entry
  2. جزری، اسماعیل بن الرزاز — ٹی ڈی وی (سعد الدین اوکتن) , pp. 505–506
  3. ہاتھی کی گھڑی، ورق 57.51.23 — میٹروپولیٹن میوزیم , Overview
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “جزری کی ہاتھی والی گھڑی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/invention/elephant-clock/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-05.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

نوادرات

مخطوطات، فن، فن تعمیر اور دنیا بھر کے مجموعوں کے تبرکات۔
متعلقہ

جزری کا آبی پہیے سے چلنے والا دو پسٹن پمپ

جزری کی کتاب کی پانی اٹھانے والی مشین: بہاؤ پہیہ اور گیئر گھماتا، پن اور شگاف دار ڈنڈا گردش کو پسٹن سلاخوں کی آگے پیچھے حرکت میں بدلتے ہیں ۔ نسبت دوہرے عمل اور چوسنے والی نالیوں کے خاص پمپ کی ہے، پانی اٹھانے کی کلی ایجاد نہیں؛ سائنس میوزیم کا ماڈل تعمیر نو ہے، اصل نہیں ۔