الحسن بن محمد

الحسن الأول بن محمد

–

فاس → تادلة

علوی سلسلے کے سلطانِ مراکش (دورِ حکومت 1873–1894)؛ فاس میں پیدا ہوئے، والد محمد چہارم کے جانشین بنے، فوج و انتظامیہ کو جدید خطوط پر استوار کیا، ملک کو متحد رکھنے کے لیے سالانہ مہمات چلائیں، یورپی تجاوزات کے مقابل مراکش کی آزادی برقرار رکھی؛ انہی کے دور میں 1880 کی میڈرڈ کانفرنس ہوئی، اور تادلہ کی مہم کے دوران وفات پا کر رباط میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sultan
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1800عیسوی1810عیسوی1820عیسوی1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی1910عیسوی1920عیسوی1930عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: ابو بکر، سلطان جوہر · أحمد الناصري السلاوي · احمد بن خالد ناصری · احمد جودت پاشا · المامی سولوکو

مکان میں

فاس

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    الحسن بن محمد، جو الحسن اول کے نام سے جانے جاتے ہیں، 1836 میں فاس میں پیدا ہوئے اور 1873 سے 1894 تک علوی سلسلے کے حکمران کی حیثیت سے مراکش کے سلطان رہے۔ انہوں نے فوج و انتظامیہ کی اصلاح کی، ملک کو متحد رکھنے کے لیے سالانہ مہمات چلائیں اور یورپی تجاوزات کے مقابل مراکش کی آزادی برقرار رکھی۔1 2

    دورِ حکومت

    وہ 1873 میں والد محمد چہارم کی وفات پر سلطان قرار پائے اور پہلا کام فاس کی بغاوت (1874) کو کچلنا تھا۔ عربی مقالے کے مطابق انہوں نے حکم کو مرکزی بنانے اور تمام قبائل پر ریاست کا اختیار پھیلانے کی کوشش کی، اور قرض سے بچنے کی کفایت شعاری اختیار کی تاکہ غیر ملکی مداخلت کا دروازہ نہ کھلے۔3 2 انہوں نے اصلاح یافتہ فوج کو 25 ہزار سپاہیوں اور ایک ہزار توپوں تک بڑھایا، 1888 میں فاس میں اسلحہ خانہ (دار الماکینہ) بنایا، اور سوس (1882 و 1886)، ریف (1887) اور تافلالت (1893) کی مہمات کی قیادت کی۔2

    یورپ سے تعلقات

    انہی کے دور میں 3 جولائی 1880 کو میڈرڈ معاہدہ ہوا؛ کانفرنس نے مراکش کی غیر وابستگی کو تسلیم کیا مگر تیرہ غیر ملکی ریاستوں کو وسیع مراعات بھی ملیں، اور فرانس و برطانیہ کوشش کے باوجود زیرِ حمایت نظام مسلط نہ کر سکے۔3 2

    وفات

    اردو مقالہ ان کی وفات تادلہ میں 9 جون 1894 دیتا ہے؛ عربی مقالہ «الاستقصا» کے حوالے سے وفات کو 3 ذو الحجہ 1311ھ کی رات، یعنی 6 جون 1894، وادی العبید کے قریب درج کرتا ہے، جبکہ فرانسیسی مقالہ اور ویکی ڈیٹا 7 جون دیتے ہیں۔ ان کا جسد رباط لے جا کر دار المخزن کے پاس دفن کیا گیا، اور ان کے جانشین ان کے صاحبزادے عبد العزیز بنے۔1 3 2

    حوالہ جات

    اوپر مذکور معرّف ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں محفوظ ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Parent of
    عبد الحفیظ بن الحسن
    Born in
    فاس
    Died in
    تادلة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبد الحفیظ بن الحسن· فاس· جامع القرويين· ابن بطوطہ کی فاس واپسی· وفد مالي بالزرافة إلى فاس (762هـ)· انقسام ملك بني مرين بين فاس ومراكش (776هـ)· أبو حسون الوطاسي· ابن باجة

    ماخذ

    1. Wikipedia (Urdu): Hassan I of Morocco
    2. Wikipedia (English): Hassan I of Morocco
    3. Wikipedia (Arabic): Hassan I of Morocco
    • Wikipedia (French): Hassan I of Morocco
    • Hassan I of Morocco — Wikidata Q496845
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “الحسن بن محمد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hassan-i-of-morocco/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبد الحفیظ بن الحسن

    علوی سلسلے کے سلطانِ مراکش (دورِ حکومت 1908–1912)؛ حسن اول کے صاحبزادے، مراکش کے خلیفہ اور عالم، شاعر و مصنف تھے؛ اپنے بھائی عبد العزیز کے خلاف «حفیظیہ» کی قیادت کی، پھر 1912 میں معاہدۂ فاس پر دستخط کیے جس سے فرانسیسی زیرِ حمایت نظام قائم ہوا اور تخت سے دستبردار ہو گئے؛ آخری سال طنجہ و فرانس میں گزارے اور اینگیاں لے بان میں وفات پا کر فاس میں دفن ہوئے۔