عبدالرؤف فطرت

عبد الرؤوف فطرت

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

بخارى → إسطنبول

Uzbek Jadid writer, scholar and politician from Bukhara (1886–1938), a leading ideologue of the Central Asian jadid movement who served in the government of the Bukharan People's Soviet Republic, taught at universities in Tashkent and Samarkand, and was executed in the Great Purge.

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · writer · شاعر · سیاست دان · teacher
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد القادر المغربي · عبد الرحمٰن الشہبندر · محمد بن عبد الکریم ختابی

مکان میں

بخارىإسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    تعلیم اور استنبول

    وہ 1886ء میں بخارا میں پیدا ہوئے — یہ وہ سال ہے جس کی جگہ انہوں نے خود 1884ء بھی بتایا، جب کہ روسی مضمون 1885ء کو متبادل کے طور پر درج کرتا ہے اور ازبک معلوماتی خانہ 1887ء دیتا ہے 1 2 3 4. انہوں نے بخارا کے مکتب اور میر عرب مدرسے میں تعلیم پائی، پھر حج کیا اور 1910ء کی دہائی کے اوائل میں استنبول مقیم رہے، جہاں واعظین مدرسے میں پڑھا اور اسلامی اصلاحیت سے متاثر ہوئے 1. انگریزی مضمون کے مطابق محمود خواجہ بهبودی ان کے مرشد تھے: فطرت نے ان کے رسالے «آیینہ» میں لکھا اور بهبودی نے ان کی کتاب «بیاناتِ سیاحِ ہندی» کا مقدمہ لکھا 1. فطرت پر انگریزی، روسی اور ازبک مضامین موجود ہیں، اردو طبع موجود نہیں، اس لیے یہ اردو متن دستیاب ذرائع سے لکھا گیا ہے۔

    جدید رہنما اور وزیر

    وسطی ایشیا واپسی پر فطرت بخارا کے جدیدیوں کے رہنما بنے اور امارت کے خاتمے کے بعد بخارا عوامی سوویت جمہوریہ کی حکومت میں عہدے سنبھالے 1. 1921ء میں ازبک کو بخارا کی قومی زبان بنانے کے پیچھے انہی کا ہاتھ تھا، انہوں نے ازبک اور تاجک کی لاطینی کاری میں حصہ لیا، اور 1921ء میں نئے حروف کی ان کی حمایت پر صدر الدین عینی سمیت رفقا نے مزاحمت کی 1. بعد میں انہوں نے تاشقند اور سمرقند کے کالجوں اور جامعات میں پڑھایا اور ازبک سوویت اکیڈمی آف سائنسز میں تحقیقی عہدہ سنبھالا، اور 1926ء میں پروفیسر کا خطاب پانے والے پہلے ازبک بنے 1 2.

    وفات

    اسٹالن کی عظیم صفائی میں فطرت گرفتار ہوئے اور انقلاب مخالف و قوم پرستانہ سرگرمیوں کے الزام میں مقدمہ چلا؛ انگریزی مضمون کے حوالہ کردہ دستاویزی شواہد بتاتے ہیں کہ انہیں 4 اکتوبر 1938ء کو تاشقند میں سزائے موت دی گئی، ان کی سزا کے اعلان سے ایک دن پہلے، جب کہ وکی ڈیٹا 5 اکتوبر درج کرتا ہے 1 4. ان کی تصانیف دہائیوں تک ممنوع رہیں؛ 1956ء میں ان کی بحالی ہوئی 1.

    عقیدہ

    کوئی بھی مطالعہ کردہ ماخذ فطرت کے لیے کوئی مسلک یا سلسلہ نہیں بتاتا: انگریزی، روسی اور ازبک معلوماتی خانوں میں مذہب کا خانہ نہیں، اور وکی ڈیٹا صرف اسلام عام درج کرتا ہے 4. متون میں ان کی مدرسائی تربیت، متدین والد، ابتدائی پان اسلامی مضامین اور بعد کی اصلاحی تنقید ملتی ہے — جس میں 1929ء کا یہ بیان بھی ہے کہ وہ مذہب کو خرافات سے الگ کرنا چاہتے تھے مگر پایا کہ الگ کرنے کے بعد مذہب کا کچھ باقی نہیں رہتا — لیکن ان میں سے کوئی چیز وابستگی ثابت نہیں کرتی، اور جدیدیت ایک تحریک ہے، مسلک نہیں 1. اس لیے ان کا عقیدہ دو ماخذی قاعدے کے تحت نامعلوم درج ہے۔

    Sources

    • The defined source entities cited above, recorded in data/source/.
    • Revisions of this article must be dated, and must name the source that changed each fact.

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Allied with
    عبداللہ قادری
    Born in
    بخارى
    Lived in
    إسطنبول
    Studied under
    محمود خواجہ بہبودی
    Debated with
    صدر الدین عینی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    صدر الدین عینی· بخارى· جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول

    ماخذ

    1. Abdurauf Fitrat — English Wikipedia
    2. Abdurauf Fitrat — Russian Wikipedia
    3. Abdurauf Fitrat — Uzbek Wikipedia
    4. Abdurauf Fitrat — Wikidata Q317907
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبدالرؤف فطرت”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdurauf-fitrat/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    صدر الدین عینی

    Tajik writer, poet and historian (1878–1954) from the Bukhara emirate village of Saktare: a Jadid enlightener educated at Bukhara's Mir-i-Arab madrasa, author of Dokhunda (1927), the first Tajik novel, and first president of the Academy of Sciences of the Tajik SSR.