ایک نظر میں
- کردار
- مدبر · writer
- خطہ
- persia-central-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
مرزا ابوالقاسم قائم مقام فراہانی (1779ء – 1835ء) ایرانی اہلِ ریاست اور نثر نگار تھے جو انیسویں صدی کے نصفِ اول میں قاجار سیاست کے مرکز میں رہے 1۔ وہ ولی عہد عباس مرزا کے وزیر رہے، ارضروم اور ترکمان چائے کے معاہدوں کی گفت و شنید میں شریک ہوئے، اور 1834ء میں محمد شاہ کے پہلے وزیرِ اعظم بنے، مگر ایک سال کے اندر شاہ کے حکم پر قتل کر دیے گئے 1 2۔ ان کی «منشآت» فارسی نثر کا سنگِ میل ہے 3۔
خاندان اور تربیت
ابوالقاسم کا تعلق وسطی ایران کے علاقے فراھان کے اہلِ دیوان خاندان سے تھا، وہ علاقہ جو اپنی خواندگی اور ریاستی امور کی مہارت کے لیے مشہور تھا 1۔ ان کے والد مرزا عیسیٰ فراہانی، جو مرزا بزرگ قائم مقام کے نام سے مشہور تھے، زند حکمرانوں کے اہلکار رہ چکے تھے اور قاجاروں کے بڑے اہلِ ریاست میں شامل ہوئے، ولی عہد عباس مرزا کے وزیر کی حیثیت سے 1۔ «قائم مقام» کا لقب پہلے مرزا بزرگ کو 1809/10ء میں ملا تھا جب وہ وزیرِ اعظم مرزا شفیع مازندرانی کے نائب بنے، اور 1821ء میں والد کی وفات پر ابوالقاسم کو ان کے القاب و مناصب وراثت میں ملے 1۔ کم عمری ہی سے انہوں نے شاعری میں مہارت دکھائی اور «ثنائی» تخلص سے قصیدے لکھے 1 3۔
عباس مرزا کی وزارت
والد کی وفات کے بعد ابوالقاسم عباس مرزا کے وزیر بنے، جن کا روشن خیال اور ترقی پسند مزاج انہیں پسند تھا؛ وہ ولی عہد کے ساتھ ان کی جنگوں میں رہے اور ان کی اصلاحی کوششوں کے اصل معمار تھے 1۔ 1823ء میں انہوں نے سلطنتِ عثمانیہ سے صلح کی گفت و شنید میں حصہ لیا جو معاہدۂ ارضروم بنی؛ اسی سال روس سے دوستی کے شبہے میں انہیں معزول کر دیا گیا، 1825ء میں بحال ہوئے، پھر روس سے نئی جنگ کی مخالفت پر فتح علی شاہ کی ناراضی مول لی اور 1826ء–1828ء کی روس–فارس جنگ کا سارا عرصہ مشہد میں جلاوطنی میں گزارا 1۔ فاتح روس سے مذاکرات کے لیے بحال ہو کر انہوں نے حتیٰ الامکان زمین واپس لینے کی کوشش کی، حتیٰ کہ آذربائیجان بچانے کے لیے روس کو مالی معاوضہ دینے پر بھی رضامند ہوئے، مگر 1828ء کے معاہدۂ ترکمان چائے میں ایروان، نخجوان اور تالیش دے دیے گئے اور عباس مرزا کا بلا اختلاف وارثِ تخت ہونا طے پایا 1۔ اپنے ایک قصیدے میں انہوں نے ایران کی قسمت کے اس پلٹنے پر افسوس کیا اور تسلیم کیا کہ اب خطے کی برتر طاقت ایرانی نہیں، روسی ہیں 1۔ فتح علی شاہ نے انہیں اپنے بیٹے فرخ سیار مرزا کا «اتابکِ اعظم» یعنی سرپرستِ اعلیٰ بھی مقرر کیا؛ ان کی تحریروں سے ظاہر ہے کہ وہ سلجوقی وزیر نظام الملک کو اپنا نمونہ سمجھتے تھے 1۔
وزارتِ عظمیٰ اور قتل
1833ء میں عباس مرزا کی وفات پر ان کے بیٹے محمد مرزا ولی عہد بنے، اور 1834ء میں فتح علی شاہ کی وفات کے بعد محمد شاہ کی تخت نشینی کو یقینی بنانا ابوالقاسم ہی کا کام تھا؛ انہوں نے نئے شاہ کے پانچ بھائیوں کو اردبیل میں قید کیا اور بعد میں سازش کے شبہے میں خسرو مرزا اور جہانگیر مرزا کو اندھا کرا دیا 1۔ وہ نئے عہد کے پہلے وزیرِ اعظم بنے، مگر ان کی مرکزیت پسند پالیسی نے قاجاروں کے دوالو گروہ کو دشمن بنا لیا اور برطانوی و روسی سفارت خانے ان کی خارجی و داخلی دباؤ کی مخالفت سے ناخوش تھے 1۔ شاہ کے استاد حاجی مرزا آقاسی کے اکسانے پر محمد شاہ نے جون 1835ء میں انہیں تہران کے نگارستان محل کے تہہ خانے میں گلا گھونٹ کر قتل کرا دیا اور آقاسی ان کی جگہ وزیرِ اعظم بنا 1 2۔
تصانیف
ابوالقاسم نامور نثر نگار تھے؛ ان کی مشہور تصانیف میں ان کا دیوان، «شیر قائم مقام» اور سب سے بڑھ کر «منشآتِ قائم مقام» یعنی ان کے خطوط و دستاویزات کا مجموعہ شامل ہے 1 3۔ روس–فارس جنگوں کے دوران انہوں نے تبریز میں «الجہادیہ» مرتب کی، جو عراق کے دو ممتاز شیعہ فقہا کے ان فتووں پر مبنی کتاب تھی جو روسی حملے کے خلاف جہاد کی فرضیت پر صادر ہوئے تھے، اور اس کا مقدمہ خود لکھا جس میں ایران کے «ممالکِ محروسہ» کا دفاع اجتماعی دینی فریضہ قرار دیا 1۔ مشہور اصلاح پسند وزیر امیر کبیر انہی کی سرپرستی اور تربیت سے سرکاری خدمت میں داخل ہوئے 1۔
مذہبی رجحان
کسی بھی پڑھے گئے ماخذ نے اس شخص کے لیے کوئی دین یا فقہی مذہب نامزد نہیں کیا، اور وکی ڈیٹا میں ان کے لیے مذہب کی کوئی قدر درج نہیں 4۔ ماخذ جس چیز کو بیان کرتے ہیں وہ وہ دربار ہے جس کی انہوں نے خدمت کی: وہ اثنا عشری شیعہ قاجار بادشاہت کے وزیر اور وزیرِ اعظم رہے، اور عراق کے دو شیعہ فقہا کے جہادی فتووں پر مبنی «الجہادیہ» مرتب کی جس کا مقدمہ خود لکھا 1۔ شیعہ دربار کی خدمت اور اس کے جہادی فتووں کی تدوین سلطانی و سرکاری سیاق ہے، خود اس شخص کے مذہب کی نامزدگی نہیں، اس لیے ان کا مذہب نامعلوم درج کیا گیا ہے۔
محققین کے لیے نوٹس
ماخذ ان کی جائے پیدائش اور وفات کے دن میں اختلاف رکھتے ہیں۔ انگریزی مضمون پیدائش 1779ء میں تہران میں دیتا ہے، جبکہ عربی مضمون 1193ھ میں اراک کے نواح میں دیتا ہے اور وکی ڈیٹا اراک کے علاقے کا گاؤں ہزاوہ دیتا ہے 1 3 4۔ وفات میں انگریزی مضمون 26 جون 1835ء دیتا ہے، جبکہ عربی مضمون کا معلوماتی خانہ، اردو مضمون اور وکی ڈیٹا 28 جون 1835ء دیتے ہیں 3 2 4۔ تہران، اراک اور ہزاوہ کا عجائب گھر میں کوئی مقامی ریکارڈ نہیں، اس لیے ان کے ریکارڈ میں جائے پیدائش یا جائے وفات کی کوئی صلہ نہیں لکھی گئی۔
ماخذ
- Abol-Qasem Qa'em-Maqam Farahani — English Wikipedia
- Abol-Qasem Qa'em-Maqam Farahani — Urdu Wikipedia
- Qa'em-Maqam Farahani — Arabic Wikipedia
- Abol-Qasem Qa'em-Maqam — Wikidata Q4116470
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ابوالقاسم قائم مقام فراہانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abol-qasem-qaem-maqam-farahani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.