عدلی يکن

عدلي يكن

–

القاهرة

محمد علی خاندان کے مصری سیاست دان — وہ خاندان کے بانی کے بھانجے تھے، اسی سے ان کا نام «يکن» یعنی ترکی میں بہن کا بیٹا — 1921 اور 1930 کے درمیان تین بار وزیرِ اعظم، وزیرِ خارجہ، تعلیم اور داخلہ رہے، لبرل کانسٹیٹیوشنل پارٹی کے بانی اور پہلے صدر تھے، اور 1921 میں لارڈ کرزن سے مذاکرات کیے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی1910عیسوی1920عیسوی1930عیسوی1940عیسوی1950عیسوی1960عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرشید ابراہیم · أحمد جودت أوران · علیمردان بے توپچوباشوف · اللہ دیا خان · اشرف علی تھانوی

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عدلی يکن پاشا (جنوری 1864 – 22 اکتوبر 1933) محمد علی خاندان کے مصری سیاست دان تھے جو تین بار وزیرِ اعظم رہے — 1921–1922، 1926–1927 اور 1929–1930 — اور خارجہ، تعلیم اور داخلہ کی وزارتیں اور سینیٹ کی صدارت سنبھالی۔ انہوں نے 1921 میں لارڈ کرزن سے سرکاری مذاکرات کی قیادت کی اور لبرل کانسٹیٹیوشنل پارٹی کی بنیاد رکھی۔ ان کی تاریخِ پیدائش انگریزی مضمون اور ویکی ڈیٹا 18 جنوری دیتے ہیں اور عربی مضمون 24 جنوری؛ پہلی قراءت کو اپنایا گیا ہے اور تاریخ متنازع نشان زد ہے۔ 1 2

    بانیٔ خاندان کے بھانجے کی نسل

    عربی مضمون ان کے نام کی وضاحت کرتا ہے: وہ خلیل ابراہیم پاشا کے بیٹے تھے، جو محمد علی پاشا کے بھانجے تھے، اور «يکن» — جسے یغن بھی لکھا جاتا ہے — ترکی لفظ ہے جس کا مطلب ہے بہن کا بیٹا۔ آٹھ برس کی عمر میں انہیں اسطنبول بھیجا گیا، وہاں تین سال اور فرانس میں تعلیم حاصل کی، پھر مصر میں جرمن، فریر، جیزوئٹ اور مارسیل اسکولوں میں پڑھے اور فرانسیسی پر مکمل عبور حاصل کیا۔ ان کا پیشہ ورانہ سفر ترجمے کے دفاتر سے شروع ہوا: 1880 سے وزارتِ داخلہ میں مترجم، خارجہ میں کلرک اور پھر سیکرٹری، نوبار پاشا کے دور میں وزرا کونسل کے سیکرٹری، پھر یکے بعد دیگرے صوبوں کے نائب گورنر اور گورنر — منوفیہ، منیا، نہر، فیوم، شرقیہ، دقہلیہ، غربیہ — 1903 میں قاہرہ کے گورنر، اور 1906 سے 1909 تک اوقاف کے ڈائریکٹر۔ 1913 میں وہ قانون ساز اسمبلی میں داخل ہوئے اور اس کے نائب صدر بنے۔ 2

    وزیر اور وزیرِ اعظم

    اپریل 1914 میں وہ حسین رشدی کی پہلی کابینہ میں وزیرِ خارجہ بنے، جو جنگ اور پروٹیکٹوریٹ سے پہلے پرانی «نظارتوں» کی آخری حکومت تھی۔ رشدی کی دوسری اور تیسری کابینہ میں وزیرِ تعلیم کی حیثیت سے انہوں نے عربی کو ابتدائی اور ثانوی تعلیم کی بنیادی زبان بنایا، سرکاری یونیورسٹی کی طرف پہلے قدم اٹھائے، اور 1918 میں پہلے سرکاری کنڈرگارٹن قائم کیے؛ اپریل 1919 میں مختصر عرصے کے لیے وزیرِ داخلہ رہے۔ 16 مارچ 1921 کو انہوں نے اپنی پہلی کابینہ بنائی اور لندن جانے والے سرکاری وفد کی قیادت کی، جہاں وزیرِ خارجہ لارڈ کرزن سے ان کے مذاکرات مصر کی آزادی کی شرائط پر ناکام ہوئے؛ انہوں نے استعفیٰ دیا اور ثروت ان کے جانشین بنے۔ 29 اکتوبر 1922 کو انہوں نے لبرل کانسٹیٹیوشنل پارٹی کی بنیاد رکھی اور جنوری 1924 تک اس کے پہلے صدر رہے۔ انہوں نے 7 جون 1926 کو دوسری کابینہ بنائی جس میں داخلہ کی وزارت اپنے پاس رکھی، اور 4 اکتوبر 1929 کو تیسری؛ وہ مصری سینیٹ کے صدر بھی رہے۔ 1918 کے نئے سال کے اعزازات میں انہیں اعزازی کے۔سی۔ایم۔جی بنایا گیا۔ وہ 22 اکتوبر 1933 کو پیرس میں انتقال کر گئے۔ 1 2

    ان کے عقیدے کا سوال

    جس ماخذ سے بھی رجوع کیا گیا، کوئی بھی عدلی یكن کے مذہب کے بارے میں کچھ نہیں کہتا۔ انگریزی مضمون میں مذہب کا کوئی خانہ نہیں اور اس کا متن خاموش ہے؛ عربی مضمون کے اطلاع خانے میں مذہب کا خانہ موجود ہے مگر خالی چھوڑا گیا ہے؛ ویکی ڈیٹا میں مذہب کی کوئی قدر نہیں۔ ماخذ جو کچھ درج کرتے ہیں — محمد علی کے خاندان سے نسبت، ترک-البانوی نژاد، مسلم اکثریتی ریاست کی چوٹی پر طویل عرصہ — خاندانی پس منظر اور مناصب ہیں، اور ان میں سے کوئی بھی اس عجائب گھر میں کبھی شہادت نہیں سمجھا گیا: کسی شخص کا عقیدہ صرف اسی وقت درج ہوتا ہے جب دو آزاد ماخذ اسے اس کی ذات کے لیے نامزد کریں۔ اس لیے ان کا عقیدہ نامعلوم درج کیا گیا ہے — یہ متعارض شہادتوں کا نہیں بلکہ مکمل عدم موجودگی کا معاملہ ہے۔ 1 2 3

    ماخذ

    • اوپر مذکور متعین ماخذ وجودات، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہو اور ہر واقعہ کو بدلنے والے ماخذ کا نام لے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ· من جان بلاط إلى طومان باي إلى قانصوه الغوري 905–906هـ

    ماخذ

    1. Adly Yakan Pasha — English Wikipedia
    2. Adly Yakan Pasha — Arabic Wikipedia
    3. Adly Yakan Pasha — Wikidata Q358528
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عدلی يکن”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/adly-yakan-pasha/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.