احمد شوقی

أحمد شوقي

–

القاهرة

مصری شاعر اور ڈراما نگار (1868–1932)، جنہیں 1927 میں «امیر الشعرا» کا لقب ملا اور عربی کلاسیکی احیا کے سب سے بڑے شاعر مانا جاتا ہے۔ خدیو کے درباری شاعر رہے، پہلی جنگ عظیم میں اسپین جلاوطن ہوئے، «مجنون لیلیٰ» اور «مصرع کلیوپیٹرا» جیسے ڈراموں سے عربی شعری ڈرامے کی بنیاد رکھی اور ان کا دیوان «الشوقیات» یادگار ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · playwright · writer
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: عبد القادر المغربي · عبدالمجید ثانی · عبد الرشید ابراہیم · عدلی يکن · أحمد الحملاوي

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    احمد شوقی (1868–1932)، جسے «امیر الشعرا» کہا جاتا ہے، مصر کا بہت بڑا شاعر اور ڈراما نگار تھا اور اسے مصر کا قومی شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ 1 محققین انہیں عربی کلاسیکی احیا کا سب سے بڑا شاعر مانتے ہیں۔ 2

    ابتدائی زندگی

    وہ قاہرہ میں پیدا ہوئے — عربی مقالے کے مطابق 29 جمادی الآخر 1285 ہجری مطابق 16 اکتوبر 1868 کو حی الحنفی میں، جبکہ انگریزی مقالہ 17 اکتوبر دیتا ہے، اس لیے عجائب گھر نے دن کو متنازع درج کیا ہے — ایک دولتمند خاندان میں جس میں مصری، چرکسی، ترکی، کردی اور یونانی جڑیں جمع تھیں اور جو خدیو اسماعیل کے دربار سے قریبی تعلق رکھتا تھا۔ 3 2 چار برس کی عمر میں سیدہ زینب کے محلے کے مکتب میں داخل ہوئے، پھر دو سال قانون اور بعد میں ترجمے کی تعلیم پائی۔ 2

    دربار اور جلاوطنی

    خدیو عباس دوم کے دربار میں ایک سال کے بعد انہیں قانون کی تعلیم کے لیے مونپلیے اور پیرس بھیجا گیا، جہاں فرانسیسی ڈراما نگاروں خصوصاً مولیئر اور راسین کا گہرا اثر ہوا۔ 1894 میں واپس آ کر وہ خدیو کے دفتر میں «القلم الافرنجی» کے سربراہ بنے اور 1896 میں جنیوا کی مستشرقین کانفرنس میں مصر کے نمائندے ہوئے۔ 2 1 برطانویوں کی کھلی مخالفت پر 1914 میں انہیں اسپین کے اندلس جلاوطن کر دیا گیا اور وہ 1920 تک وہیں رہے۔ 1927 میں ان کے ہم عصروں نے انہیں «امیر الشعرا» کے لقب سے نوازا۔ 2

    ادبی خدمات

    ان کے کام کے تین ادوار ہیں: خدیو کی مدح کا درباری دور، جلاوطنی کی حب الوطنی شاعری، اور واپسی کے بعد قدیم مصر اور اسلام کی تاریخ پر مبنی شاعری، جس میں «نہج البردہ» جیسی نعتیہ نظمیں شامل ہیں۔ 2 وہ جدید عربی ادب میں شعری ڈرامے کے بانی ہیں: ان کے پانچ المیے «مجنون لیلیٰ»، «مصرع کلیوپیٹرا»، «عنترہ»، «علی بیگ الکبیر» اور «قمبیز» (1931) ہیں، طربیوں میں «الست ہدیٰ» اور «البخیلہ» شامل ہیں، اور منتخب کلام «الشوقیات» چار جلدوں میں ہے۔ 2 3

    وفات

    ان کا انتقال 14 اکتوبر 1932 کو قاہرہ میں ہوا؛ ویکی ڈیٹا میں وفات کی دو متصادم تاریخیں (23 اکتوبر اور 13 دسمبر 1932) درج ہیں، جن میں سے کوئی اختیار نہیں کی گئی۔ 2 3 4 گیزہ میں ان کا مکان «کرمۃ ابن ہانی» 1977 میں احمد شوقی عجائب گھر بنا دیا گیا۔ 2

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    القاهرة
    Died in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ· من جان بلاط إلى طومان باي إلى قانصوه الغوري 905–906هـ

    ماخذ

    1. Ahmed Shawqi — Urdu Wikipedia
    2. Ahmed Shawqi — English Wikipedia
    3. Ahmed Shawqi — Arabic Wikipedia
    4. Ahmed Shawqi — Wikidata Q401491
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد شوقی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmed-shawqi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.