ایک نظر میں
- کردار
- chemist
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
احمد حسن زویل (26 فروری 1946 – 2 اگست 2016) مصری نژاد امریکی کیمیا دان تھے، جو دمنھور میں پیدا ہوئے اور پاساڈینا، کیلیفورنیا میں وفات پائی۔ انہوں نے فیمٹو کیمسٹری کا نیا شعبہ قائم کیا اور «فیمٹو کیمسٹری کے بانی» کہلائے۔ 1999 میں انہیں تنہا کیمسٹری کا نوبل انعام ملا، «فیمٹو سیکنڈ طیف بینی کے ذریعے کیمیائی تعاملات کی عبوری حالتوں کے مطالعے پر»؛ یوں وہ کسی سائنسی شعبے میں نوبل پانے والے پہلے مصری اور عرب، اور کیمسٹری میں پہلے افریقی بنے۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ 26 فروری 1946 کو دمنھور میں پیدا ہوئے؛ چار برس کی عمر میں خاندان دسوق منتقل ہوا اور وہ وہیں پلے بڑھے، جبکہ نوبل انعام کے حقائق کے صفحے کے مطابق ان کی پرورش اسکندریہ میں ہوئی۔ انہوں نے جامعہ اسکندریہ سے 1967 میں اعزاز کے ساتھ بی ایس سی اور روشنی کے علم (آپٹکس) میں ایم ایس سی کیا، اور جامعہ میں معید (ڈیمانسٹریٹر) کے طور پر کام کیا۔ 1 2 3
امریکہ جا کر انہوں نے جامعہ پینسلوانیا میں رابن ایم ہوخستراسر کی نگرانی میں پی ایچ ڈی مکمل کی؛ ماخذ اس کے دقیق سال میں مختلف ہیں (1973، 1974 یا 1975)، اس لیے عجائب گھر کوئی ایک سال حتمی نہیں قرار دیتا۔ پھر 1974–1976 میں وہ جامعہ کیلیفورنیا، برکلے میں چارلس بی ہیرس کے ساتھ پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق رہے۔ 1 3
عملی زندگی
1976 میں وہ کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (کال ٹیک) کی فیکلٹی میں شامل ہوئے اور زندگی بھر وہیں رہے۔ 5 مارچ 1982 کو امریکی شہریت ملی، 1990 میں وہ کیمیائی طبیعیات کے پہلے لائنس پالنگ چیئر پروفیسر بنے۔ اسی کی دہائی کے آخر میں انہوں نے فیمٹو سیکنڈ لیزر پمپ۔پروب طیف بینی ای جاد کی، جس سے پہلی بار کیمیائی تعامل کے دوران ایٹموں کی حرکت اور عبوری حالتوں کا براہِ راست مشاہدہ ممکن ہوا — یہی فیمٹو کیمسٹری کی بنیاد بنی۔ بعد میں انہوں نے چار بُعدی الیکٹران خوردبینی بھی ترقی دی۔ 1
ان کے 700 سے زائد سائنسی مقالات اور چودہ کتابیں شائع ہوئیں۔ وہ صدر اوباما کی سائنس و ٹیکنالوجی مشاورتی کونسل کے رکن رہے اور مسلم دنیا کے لیے امریکہ کے پہلے سائنس ایلچیوں میں شامل تھے۔ 1
اعزازات اور زویل سٹی
نوبل کے علاوہ انہیں شاہ فیصل عالمی انعام برائے سائنس (1989)، وولف انعام (1993)، قلادۂ نیل (1999)، رائل سوسائٹی کی رکنیت (2001)، آئنسٹائن عالمی انعام برائے سائنس (2006) اور پریسلی میڈل و ڈیوی میڈل (2011) ملے، اور تیس سے زائد اعزازی ڈگریاں حاصل ہوئیں۔ مصر میں انہوں نے زویل سٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی قائم کی، جو 2000 میں اعلان ہوئی اور 2011 میں دوبارہ فعال ہوئی، اور اس کے لیے اپنی نوبل انعامی رقم عطیہ کی۔ 2 1
تصانیف
وفات
احمد زویل 2 اگست 2016 کو ستر برس کی عمر میں پاساڈینا میں وفات پا گئے؛ وفات کی دقیق وجہ عیاں نہیں ہوئی، اور آخری برسوں میں وہ سرطان سے صحت یاب ہو رہے تھے۔ 7 اگست 2016 کو قاہرہ میں ان کی فوجی جنازہ ہوا، جس میں صدر عبدالفتاح السیسی شریک ہوئے، اور انہیں 6 اکتوبر سٹی میں خاندانی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ 1 3
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
- Born in
- دمنهور
- Lived in
- الإسكندرية
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
خلاف أهل الإسكندرية واستردادها· الزلزلة العظمى سنة 180· ابن جبير يصل الإسكندرية· خروج نزار بن المستنصر بالإسكندرية وقمعه سنة 495· عبد اللہ الندیم· أبو العباس القرطي· احمد عصمت عبد المجید· عمرو خالد
ماخذ
- Ahmed Zewail — English Wikipedia
- Ahmed Zewail — Nobel Prize facts page
- أحمد زويل — ويكيبيديا العربية
- Voyage Through Time (Zewail autobiography, 2002)
- Ahmed Zewail — Wikidata Q106624
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “احمد زویل”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmed-zewail/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.