عائشہ التیموریہ

عائشة التيمورية

–

القاهرة

مصری شاعرہ اور مصنفہ (1840–1902) جنہوں نے عربی، ترکی اور فارسی میں شاعری کی اور جدید عربی خواتین کی تحریر کی بانیوں میں شمار ہوتی ہیں؛ والد کی ترغیب پر گھر میں تعلیم پائی، بیٹی توحیدہ کے مرثیے لکھے، اسلامی روایت کے اندر سے خواتین کے حقوق کی بات کی، اور قاسم امین کی دعوتِ سفور کی مخالفت میں مضامین لکھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · writer · activist
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرزاق البيطار · المامی سولوکو · الفا یایا ڈیالو · الطاف حسین حالی · شیخ بوعمامہ

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    موجز

    عائشہ التیموریہ (1840–1902)، پورا نام عائشہ عصمت بنت اسماعیل پاشا تیمور، مصری شاعرہ اور مصنفہ تھیں جنہوں نے عربی، ترکی اور فارسی میں شاعری کی، اور جدید عربی خواتین کی تحریر کی بانیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ 1 2

    انہوں نے خواتین کے حقوق کی بات اسلام کی عطا کردہ حقوق کی بنیاد پر کی، بیٹی کی وفات پر ایسے مرثیے لکھے جو جدید دور کے بہترین مرثیوں میں گنے جاتے ہیں، اور قاسم امین کی دعوتِ سفور کی مخالفت میں مضامین لکھے۔ 1 2

    زندگی

    وہ قاہرہ کے درب الاحمر میں ایک محل میں پیدا ہوئیں؛ والد اسماعیل پاشا تیمور خدیوی دیوان کے اعلیٰ عہدیدار تھے اور والدہ ماہتاب ہانم چرکسی آزاد کردہ خاتون تھیں۔ 2

    والدہ انہیں کشیدہ کاری سکھانا چاہتی تھیں، مگر والد نے ان کے مطالعے کے شوق کو سمجھ کر فارسی اور عربی علوم کے لیے دو استاد مقرر کیے؛ ان کی اپنی روایت کے مطابق وہ سلائی کے اوزاروں سے یوں بھاگتی تھیں جیسے شکار جال سے بھاگتا ہے، اور قلم کی کاغذ پر سرسراہٹ انہیں سب سے پیاری لگتی تھی۔ 2

    چودہ برس کی عمر میں 1854 میں ان کی شادی ہوئی (عربی مقالہ شوہر کا نام محمد بک توفیق الاسلامبولی اور انگریزی مقالہ محمود بک لکھتا ہے — اختلاف درج ہے) اور وہ استنبول منتقل ہو گئیں۔ 2 1

    1873 میں بیٹی توحیدہ بارہ برس کی عمر میں فوت ہو گئی؛ سات برس تک وہ اس کے غم میں روتی رہیں، بینائی کمزور ہو گئی اور اپنی بیشتر نظمیں جلا دیں۔ 2 1

    والد (1882) اور شوہر (1885) کی وفات کے بعد وہ مصر واپس آئیں اور تحریر دوبارہ شروع کی؛ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی احمد تیمور کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری بھی سنبھالی، جو بعد میں ادبی نشاۃ کے بڑے محقق بنے۔ 1 2

    تصانیف اور موقف

    ان کا عربی دیوان «حلیة الطراز» 1884 میں قاہرہ سے چھپا؛ نثر میں «نتائج الاحوال» (1887) اور «مرآة التأمل فی الامور» (1892) اہم ہیں، جس میں انہوں نے قرآن کی نئی قرأت پیش کی۔ 2 1

    انہوں نے «الآداب» اور «المؤید» میں مضامین لکھ کر قاسم امین کی سفور کی دعوت کی مخالفت کی، حالانکہ وہ خود خواتین کی تعلیم و حقوق کی اولین داعیوں میں تھیں؛ جدید ادب میں انہیں «مصری نسوانیت کی ماں» کہا جاتا ہے۔ 2 1

    1898 میں دماغی بیماری نے انہیں آن لیا اور چار برس بعد 1902 میں قاہرہ میں وفات پائیں؛ وفات کے دن میں مآخذ مختلف ہیں (عربی مقالہ 2 مئی اور 25 مئی دونوں لکھتا ہے، ویکی ڈیٹا 26 مئی 1902)، اس لیے ریکارڈ میں صرف سنہ درج ہے۔ 2 3

    المراجع

    • انگریزی ویکیپیڈیا کا عائشہ التیموریہ پر مقالہ (نظرثانی 1368939201)؛ عربی ویکیپیڈیا کا مقالہ (نظرثانی 76373228)؛ ویکی ڈیٹا مد Q2876220۔ کوئی ماخذ ان کا مسلک بیان نہیں کرتا اور ویکی ڈیٹا ان کا مذہب درج ہی نہیں کرتا۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    القاهرة
    Died in
    القاهرة
    Lived in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ

    ماخذ

    1. Aisha Taymur — English Wikipedia
    2. Aisha Taymur — Arabic Wikipedia
    3. Aisha Taymur — Wikidata Q2876220
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عائشہ التیموریہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/aisha-taymur/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.