علی بن حسین ہاشمی

علي بن الحسين الهاشمي

–

مكة المكرمة → بغداد

علی بن حسین ہاشمی (ولادت: مکہ، 1879ء – وفات: بغداد، 13 فروری 1935ء) شریف حسین بن علی کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ انہوں نے مکہ اور استنبول میں تعلیم پائی، ثورۂ عربیہ کے قائدین میں سے تھے، اور اکتوبر 1924ء میں والد کی دست برداری پر حجاز کے دوسرے اور آخری بادشاہ بنے؛ دسمبر 1925ء میں مملکت کے خاتمے پر عراق چلے گئے اور بغداد ہی میں وفات پا کر اعظمیہ کے شاہی قبرستان میں دفن ہوئے۔ ان کے بیٹے عبد الالٰہ عراق کے وصی بنے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد الحفیظ بن الحسن · عبد القادر المغربي · عبد العزیز ثعالبی

مکان میں

مكة المكرمةبغداد

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    علی بن حسین ہاشمی (ولادت: مکہ، 1879ء – وفات: بغداد، 13 فروری 1935ء) شریف حسین بن علی کے سب سے بڑے بیٹے اور حجاز کے دوسرے اور آخری بادشاہ تھے۔ 1 2 اردو مضمون انہیں مختصراً حجاز کا بادشاہ و شریفِ مکہ (اکتوبر 1924ء – دسمبر 1925ء) اور حسین بن علی کا سب سے بڑا بیٹا بتاتا ہے۔ 3 انہوں نے مکہ اور استنبول میں تعلیم پائی، ثورۂ عربیہ کے قائدین میں سے تھے، اور والد کی زندگی میں ہی حجاز میں ان کے وارث رہے جبکہ ان کے بھائی عبداللہ و فیصل اردن و عراق کے بادشاہ بنے۔ 1 2

    زندگی اور عہد

    علی 1879ء میں مکہ میں پیدا ہوئے؛ ان کی والدہ شریفہ عبدیہ بنت عبداللہ 1887ء میں ٹائیفائیڈ سے انتقال کر گئیں۔ 2 4 اکتوبر 1924ء میں، ابن سعود کی پیش قدمی پر، ان کے والد نے دنیاوی القاب ان کے سپرد کیے — عربی مضمون ان کی بادشاہت کا آغاز 2 اکتوبر 1924ء بتاتا ہے اور انگریزی مضمون والد کی دست برداری 3 اکتوبر بتاتا ہے، اور عجائب گھر یہ فرق بیان کرتا ہے۔ 2 1 انہوں نے جدہ و مدینہ کا دفاع کیا، مگر دسمبر 1925ء میں سعودی افواج نے مملکتِ حجاز ختم کر دی اور وہ خاندان سمیت عراق چلے گئے۔ 1 ان کا بیٹا عبد الالٰہ عراق کا وصی بنا اور بیٹی عالیہ عراق کی ملکہ ہوئی۔ 1

    موقف و نقد

    یہ حصہ ماخذوں میں منقول مواقف کی پیش کش کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    انگریزی مضمون کہتا ہے کہ خلافت کا دعویٰ انہیں ورثے میں ملا مگر انہوں نے یہ منصب و لقب اختیار نہ کیا؛ اردو مضمون اس نکتے پر کچھ نہیں کہتا، کوئی تاریخ نہیں دیتا، اور غلطی سے انہیں مملکتِ حجاز کا پہلا بادشاہ کہتا ہے، حالانکہ مکمل مضامین کے مطابق ان کے والد پہلے اور وہ دوسرے بادشاہ تھے۔ 1 3 ان کی وفات 13 فروری 1935ء کو بغداد میں ہوئی اور وہ اعظمیہ کے شاہی قبرستان میں دفن ہوئے، جیسا کہ عربی و انگریزی مضامین کہتے ہیں؛ وکی ڈیٹا وفات 14 فروری بتاتا ہے، اور دونوں قراءتیں بیان کی جاتی ہیں۔ 2 1 4 ان کے مذہب کا مسلک ان کے ریکارڈ میں نامعلوم درج ہے: تینوں مضامین ان کے لیے کوئی مذہب یا مسلک بیان نہیں کرتے اور وکی ڈیٹا کی واحد قدر عام طور پر «اسلام» ہے، جو کوئی مسلک نامزد نہیں کرتی۔ 1 4

    حوالہ جات

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی بعد کی ترجمہ و تدوین کو واضح تواریخ کے ساتھ دورانی جائزے کی ضرورت ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    مكة المكرمة
    Died in
    بغداد
    Buried in
    بغداد
    Child of
    حسین ابن علی ہاشمی
    Member of
    بنو هاشم
    Participated in
    الثورة العربية الكبرى

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبداللہ اول بن حسین· بنو هاشم· حسین ابن علی ہاشمی· أبو طالب يجمع بني هاشم وبني المطلب· مقاطعة بني هاشم في شعب أبي طالب· الدعوة في الأقربين· حلف الفضول· قريش

    ماخذ

    1. Ali bin Hussein — English Wikipedia (Ali bin Hussein, King of Hejaz)
    2. Ali bin Hussein — Arabic Wikipedia
    3. Ali bin Hussein — Urdu Wikipedia
    4. Ali bin Hussein — Wikidata Q2304055
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “علی بن حسین ہاشمی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ali-bin-hussein-al-hashimi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبداللہ اول بن حسین

    عبداللہ اول بن حسین (2 فروری 1882ء – 20 جولائی 1951ء) شریف حسین بن علی کے دوسرے بیٹے (ان کی پہلی اہلیہ عبدیہ بنت عبداللہ سے) اور امارتِ شرق اردن اور پھر مملکتِ اردن ہاشمیہ کے بانی اور اس کے پہلے بادشاہ تھے، جو «الملک المؤسس» کے لقب سے معروف ہیں۔ وہ عثمانی پارلیمان میں مکہ کے نائب رہے (1909ء–1914ء)، ثورۂ عربیہ کبریٰ میں مشرقی فوج کی قیادت کی اور طائف و مدینہ کا محاصرہ کیا؛ 1920ء میں عراق کی پیش کردہ بادشاہت سے انکار کے بعد 11 اپریل 1921ء کو عمان میں امارت قائم کی، 25 مئی 1946ء کو آزادی پر بادشاہ بنے، 1950ء میں مغربی کنارے کو ضم کیا، اور شاعر و ادیب ہونے کے ناطے ان کے دربار میں ادبی محفلیں سجا کرتی تھیں۔ جمعہ کی نماز کے دوران مسجد اقصیٰ کے دروازے پر ایک فلسطینی نوجوان نے انہیں قتل کر دیا؛ جانشین ان کے بیٹے طلال ہوئے۔