حسین ابن علی ہاشمی

الحسين بن علي الهاشمي

تقریباً 1853 عیسوی · 1269 ھ –

إسطنبول → عمان → القدس

حسین ابن علی ہاشمی (ولادت: استنبول، 1853ء – وفات: عمان، 4 جون 1931ء) نومبر 1908ء سے شریف و امیرِ مکہ رہے؛ وہ حسن بن علی کی نسل سے تھے، بنو قتادہ کی اس شاخ سے جس نے 1201ء سے مکہ پر حکومت کی۔ برطانوی ہائی کمشنر مکمہون سے خط کتابت کے بعد انہوں نے 10 جون 1916ء کو سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف ثورۂ عربیہ کبریٰ کا اعلان کیا اور حجاز کے بادشاہ بنے؛ بالفور اعلان کے خلاف احتجاج میں معاہدۂ ورسائی کی توثیق سے انکار کیا اور 1917ء و 1918ء میں آرمینی پناہ گزینوں کے تحفظ کے فرامین جاری کیے۔ 3 مارچ 1924ء کو ترکی کے خلافت ختم کرنے کے بعد وہ خلیفہ قرار دیے گئے، مگر برطانیہ، فرانس اور وہابیوں نے مخالفت کی؛ اکتوبر 1924ء میں ابن سعود کی پیش قدمی پر بیٹے علی کے حق میں دست بردار ہوئے، جون 1925ء میں قبرص جلاوطن کیے گئے، 1930ء کے آخر میں عمان واپس آئے اور وہیں وفات پا کر حرم شریف، یروشلم میں دفن ہوئے۔ ان کے بیٹے عبداللہ اردن کے اور فیصل عراق کے بادشاہ بنے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: بدرالدین الحسنی · جماعت علی شاہ · لیلیٰ ساز · موسى كاظم الحسيني · دلی فواد پاشا

مکان میں

إسطنبولالقدس

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    حسین ابن علی ہاشمی (ولادت: استنبول، 1853ء – وفات: عمان، 4 جون 1931ء) نومبر 1908ء سے شریف و امیرِ مکہ رہے، جیسا کہ عربی مقالہ انہیں مملکتِ حجاز کے بانی اور ثورۂ عربیہ کبریٰ کے قائد کے طور پر بیان کرتا ہے؛ ان کا تعلق بنو ہاشم کی بنو قتادہ شاخ سے تھا جو حسن بن علی کی نسل سے ہے اور 1201ء سے مکہ پر حکمران رہی۔ 1 2 اردو مقالہ مختصرًا بیان کرتا ہے کہ وہ اہلِ بیت سے ہونے کی وجہ سے 1908ء میں شریفِ مکہ بنے اور جنگِ عظیم میں انگریزوں کا ساتھ دے کر خلافتِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی۔ 3 انہوں نے 10 جون 1916ء کو بغاوت کا اعلان کیا، حجاز کے بادشاہ بنے، مارچ 1924ء میں خلیفہ قرار دیے گئے، اکتوبر 1924ء میں بیٹے علی کے حق میں دست بردار ہوئے، قبرص جلاوطن رہے، 1930ء کے آخر میں عمان واپس آئے اور وہیں وفات پا کر یروشلم کے حرم شریف میں دفن ہوئے۔ 2 4

    زندگی اور عہد

    وہ استنبول میں پیدا ہوئے: عربی مقالہ سال 1853ء دیتا ہے، انگریزی مقالے کا متن «1853ء یا 1854ء» کہتا ہے جب کہ اس کا صدر 1 مئی 1853ء چھاپتا ہے، فرانسیسی «تقریباً 1853ء» کہتی ہے اور وکی ڈیٹا بھی 1853ء دیتا ہے — یہ اختلاف یوں ہی درج ہے۔ 1 2 4 5 ان کے اساتذہ میں محمد محمود الترکزی الشنقیطی اور احمد زینی دحلان تھے، جن سے انہوں نے قرآن پڑھ کر بیس سال کی عمر سے پہلے حفظ مکمل کیا۔ 2 سیاسی اتار چڑھاؤ کے بعد وہ 1892ء–1893ء میں استنبول بھیج دیے گئے اور پندرہ سال وہیں رہے؛ نومبر 1908ء میں سلطان عبدالحمید ثانی نے انہیں شریفِ مکہ مقرر کیا۔ 2 1 1911ء میں انہوں نے عسیر کی عثمانی مہم میں حصہ لیا، پھر مکمہون سے خط کتابت (جولائی 1915ء – مارچ 1916ء) کے بعد 10 جون 1916ء کو بغاوت کا اعلان کیا؛ مکہ 9 جولائی کو فتح ہوا، ان کے بیٹوں نے محاذ سنبھالے، فیصل کی فوجیں ستمبر 1918ء میں مجدو کی لڑائی میں شریک ہو کر 1 اکتوبر کو دمشق میں داخل ہوئیں۔ 2 جنگ کے بعد انہوں نے بالفور اعلان کے خلاف معاہدۂ ورسائی کی توثیق سے انکار کیا، مسجد الحرام کی آخری بڑی مرمت (1920ء) کرائی اور مسجد اقصیٰ کی مرمت کے لیے 26,672 لیرے دیے، اور 1917ء و 1918ء میں آرمینی پناہ گزینوں کے تحفظ کے فرامین جاری کیے جن سے گواہیوں کے مطابق چار ہزار تک جانوں بچیں۔ 2 مارچ 1924ء میں خلافت کے خاتمے کے بعد وہ خلیفہ قرار دیے گئے، مگر برطانیہ، فرانس اور وہابیوں نے مخالفت کی؛ ابن سعود کی پیش قدمی پر اکتوبر 1924ء میں دست بردار ہوئے، جون 1925ء میں قبرص بھیجے گئے، 1930ء میں فالج کے بعد عمان واپس آئے اور 4 جون 1931ء کو وفات پائی؛ تقریباً تیس ہزار افراد کے جنازے کے بعد حرم شریف کی ارغونیہ میں دفن ہوئے۔ 2 4 ان کے دو بیٹے — عبداللہ اردن کے اور فیصل عراق کے — بادشاہ بنے، جیسا کہ اردو مقالہ بھی ذکر کرتا ہے۔ 3

    موقف و نقد

    یہ حصہ مآخذ میں منقول مواقف کی پیشکش ہے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    بعد کے عرب قوم پرست مصنفین انہیں جدید پان عربیت کا باپ کہتے ہیں، جب کہ بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ ہاشمی 1916ء میں عروبت کی طرف نئے مائل تھے — انگریزی مقالہ یہ اختلاف اپنے صدر میں درج کرتا ہے۔ 2 ان کی خلافت کی مخالفت برطانیہ، فرانس، صیہونیوں اور وہابیوں نے کی اور وسیع مسلم تائید حاصل نہ ہو سکی، مقالے ہی کے بیان کے مطابق۔ 2 4 مآخذ میں اختلافات یوں ہی درج ہیں: انگریزی مقالے کا صدر وفات «4 جولائی 1931ء» چھاپتا ہے جب کہ اس کا متن اور عربی و فرانسیسی مقالے و وکی ڈیٹا 4 جون 1931ء دیتے ہیں؛ اور مختصر اردو مقالہ بغاوت کا آغاز 1915ء بتاتا ہے، جب کہ مکمل مقالے 10 جون 1916ء دیتے ہیں۔ 2 1 3 ان کے مذہبی مکتب کی حیثیت اعداد میں «نامعلوم» درج ہے: انگریزی و فرانسیسی مقالے ایک ہی جملے میں کہتے ہیں کہ انہیں شافعی و حنفی تعلیم ملی، وہ مالکیوں سے متحد رہے اور وہابیوں کے مخالف تھے — یہ دو مکتبوں کی تعلیم ہے، ان کے اپنے مکتب کی شہادت نہیں؛ ان کے استاد دحلان مکہ کے شافعی مفتی تھے، مگر استاد کا مکتب شمار نہیں ہوتا؛ اور فیصل کے انگریزی مقالے کے مطابق عراق کے شیعہ انہیں «حجاز کا سنی مسلمان» سمجھتے تھے، جو سنی ہونے کا تاثر ہے، کسی مکتب کا نام نہیں۔ 2 4 6

    حوالہ جات

    • اوپر مذکور معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مقالے کے بعد کے ترجمے اور ترامیم کو واضح تواریخ کے ساتھ دورانی نظرثانی درکار ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Parent of
    عبداللہ اول بن حسین· علی بن حسین ہاشمی· فیصل اول
    Born in
    إسطنبول
    Died in
    عمان
    Buried in
    القدس
    Studied under
    أحمد زيني دحلان
    Member of
    بنو هاشم
    Participated in
    الثورة العربية الكبرى

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الثورة العربية الكبرى· عبداللہ اول بن حسین· مكة المكرمة· علی بن حسین ہاشمی· فیصل اول· بنو هاشم· القدس· المسجد الأقصى

    ماخذ

    1. Hussein bin Ali — Arabic Wikipedia
    2. Hussein bin Ali — English Wikipedia (Hussein, King of Hejaz)
    3. Hussein bin Ali — Urdu Wikipedia
    4. Hussein bin Ali — French Wikipedia
    5. Hussein bin Ali — Wikidata Q128906
    6. Faisal I — English Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حسین ابن علی ہاشمی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hussein-bin-ali-al-hashimi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الثورة العربية الكبرى

    Draft card for the Arab Revolt, Sharif Husayn ibn Ali's Hejazi rising against the Ottoman state during the First World War beginning in 1916; its sources are not yet checked on the page.