سعید بن سلطان

سعيد بن سلطان البوسعيدي

–

مسقط → زنجبار

سعید بن سلطان البوسعیدی (1791ء–1856ء)، آل بوسعید خاندان کے پانچویں حکمران اور مسقط، عمان اور زنجبار کے سلطان۔ 1804ء میں اپنے والد کے بعد بھائی سالم کے ساتھ جانشین بنے اور 1806ء میں چچا زاد بدر بن سیف کے قتل کے بعد عملاً تنہا حکمران بن گئے۔ انہوں نے بحری بیڑا اور تجارتی طاقت بنائی، مشرقی افریقا کے ساحل پر اپنا اقتدار پھیلایا اور 1830ء کی دہائی میں دارالحکومت مسقط سے زنجبار منتقل کر دیا، جس سے زنجبار لونگ، ہاتھی دانت اور غلاموں کی تجارت کا بڑا مرکز بن گیا، اور برطانیہ، فرانس اور امریکا سے معاہدے کیے۔ سیشلز کے قریب سمندر میں وفات پائی اور ان کی وصیت سے ان کے بیٹوں ماجد اور ثوینی کے درمیان مملکت تقسیم ہو گئی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sultan
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: احمد اللہ شاہ · البيجوري إبراهيم بن محمد · آزردہ · بہادر شاہ ظفر · بلالی محمد

مکان میں

مسقطزنجبار

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    ibadi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سعید بن سلطان بن احمد بن سعید البوسعیدی (5 جون 1791ء – 19 اکتوبر 1856ء) آل بوسعید خاندان کے پانچویں حکمران اور مسقط، عمان اور زنجبار کے سلطان تھے اور عمان کے عظیم ترین سلاطین میں شمار ہوتے ہیں۔ 1 انہوں نے عمان سے مشرقی افریقا کے ساحل تک پھیلی بحری تجارتی سلطنت بنائی اور دارالحکومت زنجبار منتقل کر دیا، جس سے زنجبار مغربی بحر ہند کا تجارتی مرکز بن گیا۔ 2

    زندگی اور کارنامے

    وہ 1804ء میں اپنے والد کے بعد بھائی سالم کے ساتھ جانشین بنے، چچا قیس اور پھر چچا زاد بدر بن سیف سے اقتدار کی کشمکش رہی، اور 1806ء میں بدر کے قتل کے بعد عملاً تنہا حکمران بن گئے۔ 1 انہوں نے بیڑا اور فوج بنائی، ممباسا 1837ء میں مطیع کیا، ہندوستانی تاجروں کی آمد کی حوصلہ افزائی کی، امریکا (1833ء)، برطانیہ اور فرانس سے تجارتی معاہدے کیے اور غلاموں کی تجارت محدود کرنے کے معاہدے بھی قبول کیے، جن میں 1845ء کا ہیمرٹن معاہدہ شامل ہے۔ 1 زنجبار اور پیمبا میں لونگ کی کاشت شروع کرائی۔ 1 برٹانیکا صراحتاً لکھتی ہے کہ سعید کا تعلق اسلام کے اباضی مسلک سے تھا، اسی لیے ہستی کے اعداد و شمار میں ان کا مسلک «اباضی» بتوثیق درج ہے۔ 2

    وفات

    19 اکتوبر 1856ء کو سمندر میں، سیشلز کے قریب، وفات پائی اور زنجبار کے مکوسورانی قبرستان میں دفن ہوئے؛ ان کی وصیت سے مملکت بیٹوں ماجد (زنجبار) اور ثوینی (مسقط و عمان) کے درمیان تقسیم ہو گئی۔ 1 2

    حوالہ جات

    • اوپر مستشہد شدہ معرّف ذرائع، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Parent of
    سلمہ بنت سعید (ایملی روئٹے)· ماجد بن سعید· ترکی بن سعید
    Predecessor of
    ماجد بن سعید
    Lived in
    مسقط· زنجبار

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    زنجبار· علی بن سعید· فیصل بن ترکی البوسعیدی· سلمہ بنت سعید (ایملی روئٹے)· ماجد بن سعید· ترکی بن سعید· مسقط· آل بو سعيد

    ماخذ

    1. Said bin Sultan — English Wikipedia
    2. Encyclopaedia Britannica, 'Saʿīd ibn Sulṭān' (G. S. P. Freeman-Grenville)
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سعید بن سلطان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/said-bin-sultan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    زنجبار

    An island off the East African coast, an Islamic trading centre of Swahili culture; the Sultanate of Oman ruled it in the nineteenth century.