سلمہ بنت سعید (ایملی روئٹے)

سلمة بنت سعيد (إميلي رويته)

–

زنجبار

سلمہ بنت سعید سلطان (30 اگست 1844ء زنجبار – 29 فروری 1924ء یینا)، جو شادی کے بعد ایملی روئٹے کے نام سے معروف ہوئیں، زنجبار و عمان کی شہزادی اور عمان کے سلطان سعید بن سلطان کے چھتیس بچوں میں سب سے چھوٹی تھیں۔ انہوں نے بچپن میں چھپ کر لکھنا سیکھا، بھائیوں ماجد و برغش کی کشمکش میں حصہ لیا، پھر جرمن تاجر روڈولف ہائنرش روئٹے سے محبت کے سبب 1866ء میں برطانوی جہاز سے عدن فرار ہوئیں، جہاں بپتسمہ لے کر ایملی نام پایا اور 1867ء میں ان سے شادی کی۔ 1870ء میں شوہر کی وفات کے بعد جرمنی میں تنگ دستی میں زندگی گزاری، «ایک عرب شہزادی کی یادداشتیں» (1886ء) لکھیں جو کسی عرب خاتون کی پہلی شائع شدہ آپ بیتی ہے، دو بار زنجبار گئیں، برسوں یافا و بیروت میں رہیں اور یینا میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: دلی فواد پاشا · جماعت علی شاہ · محمد خليل البنكلاني · عمر پاشا وریونی دوم · وردة اليازجي

مکان میں

زنجبار

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم) · عیسائی (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سلمہ بنت سعید سلطان (30 اگست 1844ء – 29 فروری 1924ء)، جو شادی کے بعد ایملی روئٹے کے نام سے معروف ہوئیں، زنجبار و عمان کی شہزادی اور سعید بن سلطان کے چھتیس بچوں میں سب سے چھوٹی تھیں، اور «ایک عرب شہزادی کی یادداشتیں» (1886ء) کی مصنفہ ہیں، جو کسی عرب خاتون کی پہلی شائع شدہ آپ بیتی ہے۔ 1 2

    زندگی اور کارنامے

    وہ زنجبار میں پیدا ہوئیں، عربی و سواحلی میں پلی بڑھیں اور چھپ کر لکھنا سیکھا۔ بھائیوں ماجد و برغش کی کشمکش میں وہ برغش کے گروہ کی کاتب رہیں۔ 1 جرمن تاجر روڈولف ہائنرش روئٹے سے محبت کے بعد وہ اگست 1866ء میں برطانوی جہاز سے عدن فرار ہوئیں، وہاں بپتسمہ لے کر ایملی نام پایا اور 30 مئی 1867ء کو ان سے شادی کی۔ 1 شوہر 1870ء میں ٹرام حادثے میں فوت ہوئے تو وہ جرمنی میں تنگ دستی کی بیوہ رہ گئیں اور اپنی یادداشتیں لکھیں۔ 1885ء اور 1888ء میں زنجبار گئیں، برسوں یافا و بیروت میں رہیں اور 29 فروری 1924ء کو یینا میں وفات پائی۔ 1

    مذہب

    اکیڈمک مآخذ ان کے عیسائیت قبول کرنے کو درج کرتے ہیں: فان دونزل لکھتے ہیں کہ عدن میں انہوں نے ایملی کے مسیحی نام سے بپتسمہ لیا، اور پریسٹ ہولٹ بھی ان کے عیسائیت قبول کرنے کا ذکر کرتے ہیں، اسی لیے 1867ء سے وفات تک ان کا مذہب «مسیحی» بتوثیق درج ہے۔ 2 3 ان کی پیدائشی پرورش ایک مسلمان شہزادی کی تھی اور ان کے مضمون کا صندوق اطلاعات ہی واحد مأخذ ہے جو ان کا پہلا مذہب ذاتی طور پر «اباضی اسلام» بتاتا ہے، اس لیے اکیلی شہادت پر اباضی قدر درج نہیں کی گئی، اور یہ ساری صورتحال ایمان کے نوٹ میں بیان کر دی گئی ہے۔

    حوالہ جات

    • اوپر مستشہد شدہ معرّف ذرائع، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    سعید بن سلطان
    Born in
    زنجبار
    Lived in
    زنجبار

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ماجد بن سعید· سعید بن سلطان· زنجبار· عبید کرومی· علی بن سعید· علی حسن موینی· امانی عبید کرومی· حسین مونی

    ماخذ

    1. Emily Ruete — English Wikipedia
    2. E. J. van Donzel (ed.), An Arabian Princess Between Two Worlds (Brill, 1992)
    3. Jeremy Prestholdt, 'From Zanzibar to Beirut: Sayyida Salme bint Said and the Tensions of Cosmopolitanism' (2014)
    • Encyclopaedia Britannica, 'Saʿīd ibn Sulṭān' (G. S. P. Freeman-Grenville)
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سلمہ بنت سعید (ایملی روئٹے)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/emily-ruete/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ماجد بن سعید

    ماجد بن سعید البوسعیدی (تقریباً 1834ء–1870ء)، زنجبار کے پہلے سلطان۔ اونگوجا، زنجبار میں پیدا ہوئے، سعید بن سلطان کے بیٹے تھے، اور والد کی زندگی ہی میں زنجبار میں ان کے نائب رہے۔ 1856ء میں والد کے جانشین بنے تو مسقط سے ان کے بڑے بھائی ثوینی نے جانشینی پر اعتراض کیا، اور یہ تنازع 1861ء کے کیننگ فیصلے پر ختم ہوا جس سے مملکت مستقل تقسیم ہو گئی: زنجبار اور مشرقی افریقا ماجد کو اور مسقط و عمان ثوینی کو ملے۔ ان کے بھائی برغش نے 1859ء میں بغاوت کی، ناکام ہوئے اور دو سال بمبئی جلا وطن رہے۔ ان کے دور میں زنجبار کی دولت اور تجارت بڑھی، انہوں نے ساحل پر دار السلام کی بنیاد رکھی، اور 1870ء میں زنجبار میں وفات پائی، ان کے بعد برغش سلطان بنے۔