ماجد بن سعید

ماجد بن سعيد البوسعيدي

–

زنجبار

ماجد بن سعید البوسعیدی (تقریباً 1834ء–1870ء)، زنجبار کے پہلے سلطان۔ اونگوجا، زنجبار میں پیدا ہوئے، سعید بن سلطان کے بیٹے تھے، اور والد کی زندگی ہی میں زنجبار میں ان کے نائب رہے۔ 1856ء میں والد کے جانشین بنے تو مسقط سے ان کے بڑے بھائی ثوینی نے جانشینی پر اعتراض کیا، اور یہ تنازع 1861ء کے کیننگ فیصلے پر ختم ہوا جس سے مملکت مستقل تقسیم ہو گئی: زنجبار اور مشرقی افریقا ماجد کو اور مسقط و عمان ثوینی کو ملے۔ ان کے بھائی برغش نے 1859ء میں بغاوت کی، ناکام ہوئے اور دو سال بمبئی جلا وطن رہے۔ ان کے دور میں زنجبار کی دولت اور تجارت بڑھی، انہوں نے ساحل پر دار السلام کی بنیاد رکھی، اور 1870ء میں زنجبار میں وفات پائی، ان کے بعد برغش سلطان بنے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sultan
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1790عیسوی1800عیسوی1810عیسوی1820عیسوی1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی1910عیسوی تقریباً تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: عبد العزيز · عبد الغفار الأخرس · عبد الغني الميداني · عبد القادر الجزائري · ابو بکر، سلطان جوہر

مکان میں

زنجبار

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    ibadi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سید ماجد بن سعید البوسعیدی (تقریباً 1834ء – 7 اکتوبر 1870ء) زنجبار کے پہلے سلطان تھے، جنہوں نے 19 اکتوبر 1856ء سے اپنی وفات تک حکمرانی کی۔ 1 وہ اپنے والد سعید بن سلطان کے جانشین زنجبار اور مشرقی افریقا میں بنے، اور ان کے دور میں زنجبار عمان سے مستقل الگ سلطنت بن گیا۔ 1

    زندگی اور دور حکومت

    وہ 1834ء میں زنجبار میں پیدا ہوئے، سعید بن سلطان اور ان کی چرکسی اہلیہ سارہ کے بیٹے تھے، اور والد نے انہیں زنجبار کا گورنر اور نائب بنا رکھا تھا۔ 1 1856ء میں والد کی وفات پر سلطان بنے، بڑے بھائی ثوینی نے مسقط سے جانشینی پر اعتراض کیا، اور 2 اپریل 1861ء کے کیننگ فیصلے سے مملکت تقسیم ہو گئی: زنجبار و مشرقی افریقا ماجد کو اور مسقط و عمان ثوینی کو ملے۔ 1 ان کے بھائی برغش نے 1859ء میں بغاوت کی، ناکام ہوئے اور دو سال بمبئی جلا وطن رہے؛ ماجد نے ساحل پر دار السلام کی بنیاد رکھی اور ان کے دور میں زنجبار کی تجارت اور دولت بڑھی، جس میں غلاموں کی متنازع تجارت بھی شامل تھی۔ 1

    مسلک اور وفات

    ان کے اپنے مضمون کے خانۂ معلومات میں ان کا مذہب اباضی اسلام درج ہے، اور آل بوسعید خاندان اور اباضیت کے مضامین زنجبار شاخ (1856ء–1964ء) کو اباضی روایت میں شمار کرتے ہیں، اسی لیے ہستی کے اعداد و شمار میں ان کا مسلک «اباضی» بتوثیق درج ہے۔ 1 2 3 7 اکتوبر 1870ء کو زنجبار میں وفات پائی اور مکوسورانی قبرستان میں دفن ہوئے؛ بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بھائی برغش جانشین بنے۔ 1

    حوالہ جات

    • اوپر مستشہد شدہ معرّف ذرائع، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    سعید بن سلطان
    Successor of
    سعید بن سلطان
    Born in
    زنجبار
    Died in
    زنجبار

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    سلمہ بنت سعید (ایملی روئٹے)· سعید بن سلطان· زنجبار· عبید کرومی· علی بن سعید· علی حسن موینی· امانی عبید کرومی· حسین مونی

    ماخذ

    1. Majid bin Said — English Wikipedia
    2. Al Bu Said dynasty — English Wikipedia
    3. Ibadism — English Wikipedia
    • Said bin Sultan — English Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ماجد بن سعید”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/majid-bin-said/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    سلمہ بنت سعید (ایملی روئٹے)

    سلمہ بنت سعید سلطان (30 اگست 1844ء زنجبار – 29 فروری 1924ء یینا)، جو شادی کے بعد ایملی روئٹے کے نام سے معروف ہوئیں، زنجبار و عمان کی شہزادی اور عمان کے سلطان سعید بن سلطان کے چھتیس بچوں میں سب سے چھوٹی تھیں۔ انہوں نے بچپن میں چھپ کر لکھنا سیکھا، بھائیوں ماجد و برغش کی کشمکش میں حصہ لیا، پھر جرمن تاجر روڈولف ہائنرش روئٹے سے محبت کے سبب 1866ء میں برطانوی جہاز سے عدن فرار ہوئیں، جہاں بپتسمہ لے کر ایملی نام پایا اور 1867ء میں ان سے شادی کی۔ 1870ء میں شوہر کی وفات کے بعد جرمنی میں تنگ دستی میں زندگی گزاری، «ایک عرب شہزادی کی یادداشتیں» (1886ء) لکھیں جو کسی عرب خاتون کی پہلی شائع شدہ آپ بیتی ہے، دو بار زنجبار گئیں، برسوں یافا و بیروت میں رہیں اور یینا میں وفات پائی۔