امیر مینائی

أمير مينائي

–

حيدر آباد الدكن

لکھنؤ کے اردو شاعر (1828ء–1900ء)، ماہر لسانیات و لغت نگار۔ فرنگی محل سے تعلیم پائی، رام پور میں ریاست کی لائبریری کے نگران اور نواب کے استاد مقرر ہوئے، غالب کے بعد یہ منصب انہیں ملا، اور لغت «امیر اللغات» کی اشاعت کی کوشش میں حیدر آباد گئے جہاں انتقال ہوا۔ اردو نعت کے اولین شعرا میں شمار ہوتے ہیں اور چالیس سے زائد کتابیں چھوڑیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: المامی سولوکو · ہاشم جلیل العالم اقام الدین · جاسم بن محمد الثانی · قرمانجان داتقا · محمد صادق باشا

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    تعلیم و تربیت

    انہوں نے لکھنؤ کے اولین تعلیمی ادارے فرنگی محل میں تعلیم پائی اور مفتی سعد اللہ و علمائے فرنگی محل سے درسی کتب پڑھیں 12۔ شاعری میں وہ اسیر لکھنوی کے شاگرد ہوئے اور 1852ء میں واجد علی شاہ کے دربار تک رسائی پائی 2۔ اردو سوانح ان کی صوفیانہ تلمذت بھی درج کرتی ہے: انہوں نے سلسلہ صابریہ چشتیہ کے سجادہ نشین حضرت امیر شاہ سے بیعت کی تھی 2۔ یہ سند اسی ایک متن میں ہے؛ پڑھے گئے کسی دوسرے ماخذ میں ان کا کوئی سلسلہ یا مسلک بیان نہیں ہوا، اور انگریزی مضمون میں «تصوف» کا ذکر ان کی شاعری کے موضوعات میں ہے، خود شاعر کی نسبت نہیں 1۔

    رام پور اور لغت

    1856ء میں لکھنؤ پر برطانوی حملے اور 1857ء کی بغاوت میں خاندان کے گھر تباہ ہو گئے اور وہ خاندان سمیت پہلے کاکوری گئے، جہاں شاعر محسن کاکوروی نے پناہ دی، اور پھر رام پور پہنچے جہاں نواب یوسف علی خان کے دربار میں انہیں مقام ملا 1۔ وہاں وہ عدلیہ میں خدمت انجام دیتے رہے، ریاست کی عظیم لائبریری کے نگران مقرر ہوئے اور نواب کے سرکاری شاعرانہ استاد بنے — یہ منصب انہیں غالب کے بعد ملا 1۔

    انہوں نے اردو، فارسی اور عربی میں چالیس سے زائد کتابیں لکھیں 1۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ اردو لغت «امیر اللغات» ہے، جس کی دو جلدیں ان کی زندگی میں چھپ گئی تھیں 2۔ 1900ء میں وہ لغت کی اشاعت کے لیے مالی تعاون کی تلاش میں حیدر آباد دکن گئے اور وہاں پہنچنے کے بمشکل ایک مہینے بعد 13 اکتوبر 1900ء کو انتقال کر گئے؛ وہیں دفن ہیں 1۔

    شاعری

    شاعری میں وہ اپنی غزلوں اور سب سے زیادہ نعت — نبی محمد کی مدح کے اشعار — کے لیے معروف ہیں؛ اردو شاعری میں نعت کو رواج دینے میں ان کا بڑا حصہ ہے اور وہ اس کے اولین شعرا میں شمار ہوتے ہیں 1۔ ان کی کتابوں میں دیوان «مراۃ الغیب» اور «صنم خانہ عشق»، ایک نعتیہ دیوان، مثنویاں «نور تجلی» اور «ابر کرم»، اور سیرت پر «صبح ازل» شامل ہیں 21۔ غالب اور داغ دہلوی جیسے ہم عصر شعرا اور بعد میں محمد اقبال نے ان کا احترام کیا 1۔ ان کی غزلیں و نعتیں آج بھی غزل و قوالی کے گائیکوں کے ذخیرے میں شامل ہیں 1۔

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    حيدر آباد الدكن

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    چراغ علی· داغ دہلوی· حيدر آباد الدكن

    ماخذ

    1. Amir Meenai — English Wikipedia
    2. Amir Meenai — Urdu Wikipedia
    • Amir Meenai — Wikidata Q4746598
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “امیر مینائی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/amir-meenai/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    چراغ علی

    ہندوستانی مسلمان عالم (1844–1895)، علی گڑھ حلقے سے وابستہ، سر سید احمد خان کے رفیق اور نظام حیدر آباد کی حکومت کے اعلیٰ اہلکار؛ ان کی کتاب «اے کرٹیکل ایکسپوزیشن آف دی پاپولر جہاد» (1885) میں استدلال ہے کہ نبی کی تمام جنگیں دفاعی تھیں، اور «مجوزہ سیاسی، قانونی و سماجی اصلاحات» (1883) ان کا جدیدیت پسند پروگرام ہے۔