ایک نظر میں
- کردار
- عالم · writer
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
مولوی چراغ علی (1844–1895) انیسویں صدی کے اواخر کے ایک ہندوستانی مسلمان عالم، علی گڑھ حلقے میں سر سید احمد خان کے رفیق اور برطانوی ہند میں مسلم جدیدیت کی نمایاں آواز تھے۔ 1 انہوں نے «اے کرٹیکل ایکسپوزیشن آف دی پاپولر جہاد» اور «مجوزہ سیاسی، قانونی و سماجی اصلاحات بر حکومت اسلامی» جیسی تصانیف میں قرآن کے بارے میں اصلاحی فکر پیش کی اور حدیث پر نقد کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ 1
زندگی
وہ 1844 میں میرٹھ میں ایک کشمیری النسل خاندان میں پیدا ہوئے، تین بھائیوں میں سب سے بڑے تھے؛ والد محمد بخش کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ بارہ برس کے تھے، اور ان کی تعلیم خصوصی طور پر گھر پر ہوئی جہاں انہوں نے فارسی، عربی، انگریزی، فرنچ، عبرانی، ارامی، لاطینی اور یونانی زبانیں حاصل کیں۔ 1 2 ابتدائی ملازمت گورکھپور میں کلرکی اور لکھنؤ میں کلیکٹری رہی؛ سر سید احمد خان کی سفارش پر نظام حیدر آباد کی حکومت میں ملازم ہوئے — وزیر اعظم سالار جنگ اول کو مترجم درکار تھا اور اس کے لیے انہی کو بلایا گیا۔ 1 وہ 1874 میں سر سید سے ملے اور عمر بھر ان کے ساتھی اور علی گڑھ تحریک کے حامی رہے، تاہم حیدر آباد میں سیاسی عمل سے دور رہے اور اپنی کتابوں کو اپنی ترجمانی کرنے دی۔ 1 1888 میں انہیں «اعظم یار جنگ» کا خطاب ملا۔ 1 ان کا انتقال 1895 میں علاج کے دوران 51 برس کی عمر میں ہوا اور وہ بمبئی میں مدفون ہیں۔ 1
فکر اور جائزے
یہ جائزے ذرائع کی زبانی ہیں؛ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔ چراغ علی کے نزدیک اسلام اور جہاد کے بارے میں غلط فہمیاں حدیث کے تاریخی ارتقا اور فقہا کے عمل سے پیدا ہوئیں، جنہوں نے ان کے خیال میں قرآن کو نظر انداز یا غلط استعمال کیا؛ اس لیے انہوں نے استدلال کیا کہ نبی کی تمام جنگیں دفاعی، مقامی اور عارضی تھیں، کیونکہ قرآن جارحانہ جنگ کی تعلیم نہیں دیتا۔ 1 ان کا بڑا اردو کارنامہ «اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام» ان کی وفات کے بعد 1910 میں چھپا۔ 1 تحقیق انہیں مسلم جدیدیت کے نمائندے کے طور پر پیش کرتی ہے — کورزمان کی مرجع کتاب انہیں جدیدیت پسندوں میں شمار کرتی ہے — جبکہ حدیث پر ان کا تشکک اور جہاد کی دفاعی تعریف روایتی فقہا کے ہاں متنازع رہی۔ 1
تصانیف
اہم تصانیف: «مجوزہ سیاسی، قانونی و سماجی اصلاحات» (1883)، «حیدر آباد (دکن) تحت سر سالار جنگ» تین جلدیں (1884–1886)، «اے کرٹیکل ایکسپوزیشن آف دی پاپولر جہاد» (1885)، اور «اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام» دو جلدیں (بعد از وفات، 1910)۔ 1
حوالہ جات
تعلقات
- Lived in
- حيدر آباد الدكن
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Chiragh Ali — English Wikipedia
- Chiragh Ali — Wikidata Q5101801
- Chiragh Ali — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “چراغ علی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/chiragh-ali/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.