ایک نظر میں
- کردار
- عالم · فقیہ · theologian · فلسفی · شاعر · activist
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
sunni-hanafi (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
فضل حق خیر آبادی (1797ء–1861ء) ہندوستانی مفتی، متکلم، فلسفی اور شاعر تھے، خیرآباد (اودھ) سے تعلق رکھتے تھے اور علامہ فضل حق کے نام سے جانے جاتے تھے۔ انھوں نے شاہ عبدالقادر اور شاہ عبدالعزیز دہلوی سے حدیث پڑھی، مرزا غالب کے پہلے دیوان کی تدوین کی، اور شاہ اسماعیل دہلوی کی «تقویۃ الایمان» کا رد «تحقیق الفتویٰ فی ابطال الطغویٰ» لکھا۔ 1857ء میں دہلی سے انگریز استعماری حکومت کے خلاف جہاد کے حق میں فتویٰ دیا، جس پر کالا پانی کی سزا ہوئی اور جزائرِ انڈمان میں قید ہی میں وفات پائی۔ 1 2 3
سالِ ولادت میں اختلاف ہے: انڈین ہسٹری کانگریس 1796ء کہتی ہے، جبکہ عصیر ادراوی اور دیگر 1797ء؛ ریکارڈ نے 1797ء لیا ہے اور سال کو اختلافی نشان زد کیا ہے۔ یومِ وفات میں بھی اختلاف ہے: انگریزی مضمون عصیر ادراوی کے حوالے سے 19 اگست 1861ء دیتا ہے، عربی مضمون اور ویکی ڈیٹا 20 اگست 1861ء۔ 2 4 3
ابتدائی زندگی و تعلیم
وہ خیرآباد میں پیدا ہوئے۔ والد فضل امام خیر آبادی صدر الصدور یعنی مغل دربار کے دینی امور کے بڑے مشیر تھے اور عقلی علوم کے ممتاز عالم، «امامِ معقولات» کہلاتے تھے۔ فضل حق نے ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی؛ حدیث شاہ عبدالقادر محدث دہلوی اور شاہ عبدالعزیز دہلوی سے پڑھی۔ انگریزی مضمون کے مطابق تصوف میں وہ حافظ محمد علی خیر آبادی کے شاگرد تھے، جن سے انھوں نے ابن عربی کی «فصوص الحکم» بھی پڑھی؛ حافظ خیر آبادی برصغیر کے معروف چشتی بزرگ شاہ سلیمان تونسوی کے خلیفہ تھے۔ انھوں نے چار ماہ سے کچھ زائد میں قرآن حفظ کیا اور تیرہ سال کی عمر تک عربی، فارسی اور دینی نصاب مکمل کرلیا۔ 2 4
علمی زندگی و تصانیف
تیرہ سال کی عمر میں تدریس شروع کی، اور 1828ء میں محکمۂ قضا میں مفتی مقرر ہوئے۔ اردو، عربی اور فارسی کے ادیب تھے؛ عربی کے چار سو سے زائد اشعار ان سے منسوب ہیں۔ غالب کی فرمائش پر ان کے پہلے دیوان کی تدوین کی؛ دونوں کی باہمی لطیفہ گوئی مشہور ہوئی۔ بیٹے عبدالحق کے ساتھ شمالی ہند میں مدرسہ خیر آباد قائم کیا۔ اپنے حلقے میں فتوے کے آخری مرجع مانے جاتے تھے، اسی لیے «علامہ» کا لقب ملا۔ 2
ان کی تصانیف میں «تحقیق الفتویٰ فی ابطال الطغویٰ» (1825ء) شامل ہے، جو شاہ اسماعیل دہلوی کا رد ہے، خصوصاً امکانِ کذب کے مسئلے میں: ان کے نزدیک کذب نقص ہے اور نقص اللہ کے لیے محال ہے۔ اور «الثورۃ الہندیہ» 1857ء کی جنگ کے واقعات کا عربی تجزیہ ہے، جسے ان واقعات پر لکھی گئی پہلی کتاب کہا جاتا ہے اور جو انھوں نے قید کے دوران لکھی۔ 2
مذہب
اس عجائب گھر میں ان کا مذہب درج ہے: سنی حنفی، مستند۔ انگریزی مضمون کا متن صراحت کرتا ہے کہ وہ حنفی مسلک کے پیرو تھے اور ماتریدی مکتب کے متکلم، اور اپنی «الروض المجوّد» اور صدیق حسن خان کی «ابجد العلوم» کا حوالہ دیتا ہے؛ اردو مضمون کا خاکہ بھی یہی فقہ و مسلک دیتا ہے۔ ماتریدی عقیدہ قدر کے بجائے ان کے ڈیٹا نوٹ میں درج ہے، کیونکہ عجائب گھر کی مذہبی اقدار میں ماتریدی قدر یا مرکب قدر موجود نہیں۔ ان کی صوفیانہ شاگردی — چشتی خلیفہ حافظ محمد علی خیر آبادی سے تلمذ، جو ایک ہی ادارتی ماخذ سے مروی ہے، اور انیل سہگل کا یہ قول کہ وہ بڑے صوفی کے طور پر معزز تھے، جسے عربی مضمون اسی کتاب سے دہراتا ہے — بھی نوٹ میں ایک ہی ماخذ خاندان کی شہادت کے طور پر محفوظ ہے اور الگ قدر نہیں بنائی گئی۔ 2 1
1857ء کا فتویٰ، مقدمہ اور وفات
1857ء کے موسمِ بہار میں انھوں نے مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر سے نجی ملاقاتیں کیں۔ بخت خان کے فوج سمیت دہلی پہنچنے کے بعد 26 جون 1857ء کو انھوں نے علما کی مجلس کے سامنے جمعے کا خطبہ دیا اور استعماری حکومت کے خلاف جہاد کی حمایت میں فتویٰ جاری کیا، جس پر صدرالدین آزرده، عبدالقادر، فیض اللہ دہلوی، فیض احمد بدایونی، وزیر خاں اور سید مبارک شاہ رامپوری نے دستخط کیے۔ 2
30 جنوری 1859ء کو خیرآباد سے گرفتار ہوئے اور تشدد پر اکسانے اور جنگ میں کردار کے الزام میں مقدمہ چلا۔ انھوں نے اپنی وکالت خود کی اور اس قدر مؤثر دفاع کیا کہ، ماخذوں کے مطابق، مجسٹریٹ ان کے بری ہونے کا فیصلہ لکھ رہا تھا کہ انھوں نے فتویٰ دینے کا اعتراف کرلیا اور کہا کہ وہ جھوٹ نہیں بول سکتے۔ انھیں جزائرِ انڈمان میں عمر قید کی سزا ہوئی، جائیداد ضبط ہوئی، اور 8 اکتوبر 1859ء کو بحری جہاز «فائر کوئین» سے وہاں پہنچے۔ اگست 1861ء میں قید ہی میں وفات پائی، اور جنگ کی عینی شاہد تحریریں عربی اشعار اور «الثورۃ الہندیہ» میں چھوڑیں۔ اردو مضمون کا منفرد دعویٰ کہ انھیں فروری 1861ء میں پھانسی دی گئی، ایک ہی دینی ویب سائٹ پر مبنی ہے اور باقی ماخذ اس کی تائید نہیں کرتے۔ 2 4 1
تعلقات
- Studied under
- شاہ عبدالعزیز دہلوی
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Fazl-e-Haq Khairabadi — Urdu Wikipedia
- Fazl-e-Haq Khairabadi — English Wikipedia
- Fazl-e-Haq Khairabadi — Wikidata Q5439206
- Fazl-e-Haq Khairabadi — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “فضل حق خیر آبادی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/fazl-e-haq-khairabadi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.