ایک نظر میں
- کردار
- عالم · teacher · writer
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
حمید الدین فراہی (18 نومبر 1863ء – 11 نومبر 1930ء) برصغیر کے ممتاز مفسر قرآن تھے، قرآن میں «نظم» یعنی ربط و تناسق کے نظریے کے بانی، جس پر بعد میں فراہی مکتب فکر قائم ہوا۔12 ان کا اصل نام عبد الحمید تھا؛ حمید الدین لقب تھا جو نام پر غالب آ گیا، اور وہ اپنی عربی کتابوں پر «المعلم عبد الحمید الفراہی» لکھا کرتے تھے۔1
ولادت و تعلیم
مولانا فراہی کی پیدائش ضلع اعظم گڑھ کے گاؤں پھریہا میں 6 جمادی الثانی 1280ھ بروز بدھ بمطابق 18 نومبر 1863ء کو ہوئی؛ اردو مقالے کے متن میں ہجری سال سهواً 1230ھ چھپا ہے۔1 تقریباً دس سال کی عمر میں قرآن حفظ کیا، فارسی میں مہارت حاصل کر کے شعر کہنے لگے، اور چودہ برس کی عمر میں اعظم گڑھ آ کر اپنے پھوپھی زاد بھائی علامہ شبلی نعمانی سے عربی پڑھنا شروع کیا اور درس نظامی کی اکثر کتابیں انھی سے پڑھیں۔1 پھر لکھنؤ میں ابوالحسنات عبد الحئی فرنگی محلی کے حلقۂ درس میں شریک ہوئے اور لاہور جا کر مولانا فیض الحسن سہارنپوری سے ادب عربی کی تکمیل کی۔13 اس کے بعد انگریزی و فلسفہ جدیدہ کی تحصیل کی، علی گڑھ کالج میں پروفیسر آرنلڈ سے فلسفہ پڑھا، اور 1895ء میں الہٰ آباد یونیورسٹی سے بی اے کیا۔1
تدریس و خدمات
1897ء سے 1906ء تک سندھ مدرسۃ الاسلام کالج، کراچی میں عربی کے استاد رہے، پھر ایم اے او کالج علی گڑھ میں پڑھایا جہاں جوزف ہورووٹز سے عبرانی سیکھی، پھر دار العلوم حیدر آباد کے مدیر رہے اور وہیں سے 1919ء میں مستعفی ہو کر وطن لوٹ آئے۔23 1925ء سے سرائے میر کے مدرسۃ الاصلاح کے منتظم رہے، جس کا تعلیمی فکر و منہج انھی کا وضع کردہ تھا، اور امین احسن اصلاحی انھی کے تربیت یافتہ خاص طالب علموں میں سے تھے۔12
نظریۂ نظم و تصانیف
مولانا نے تقریباً پچاس سال قرآن پر غور کیا؛ ان کی سب سے بڑی دریافت قرآن کا نظم و تناسق ہے — ہر سورت ایک مربوط کلام ہے جس کا اپنا مرکزی موضوع ہے — اور یہی اصول ان کی تفسیر «نظام القرآن» کی بنیاد ہے جو ان کی وفات پر نامکمل رہ گئی۔12 ان کی تصانیف میں «مفردات القرآن»، «اسالیب القرآن»، «جمہرۃ البلاغہ»، «امعان فی اقسام القرآن»، «دلائل النظام»، «التکمیل فی اصول التاویل» اور «دیوان ابی احمد الانصاری» شامل ہیں۔1
فقہی مذہب کے بارے میں ان کا موقف
سید سلیمان ندوی نے انھیں «اس عہد کا ابن تیمیہ» اور ترجمان القرآن لکھا۔1 شیخ تقی الدین ہلالی، جنھوں نے ان سے ملاقات کی تھی، فرماتے ہیں کہ وہ عقائد و اعمال میں مجتہدانہ شان کے مالک تھے، کسی فقہی مذہب کی طرف نسبت کو پسند نہیں کرتے تھے، لیکن نماز حنفی طریقے کے مطابق پڑھتے تھے کیونکہ اسی مذہب پر ان کی نشو و نما ہوئی تھی۔13 اسی لیے ان کے مذہب کو سجل میں غیر مصنف رکھا گیا ہے: واحد تسمیت انگریزی مقالے کے معلوماتی صندوق اور تصانیفات میں ہے جو مرتب ڈیٹا ہے، نصّی شہادت نہیں۔24
وفات
حوالہ جات
تعلقات
- Taught
- امین احسن اصلاحی
- Studied under
- شبلی نعمانی
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
أحمد علي السهارنفوري· سید سلیمان ندوی· لاهور· امین احسن اصلاحی· شبلی نعمانی
ماخذ
- Hamiduddin Farahi — Urdu Wikipedia
- Hamiduddin Farahi — English Wikipedia
- Hamiduddin Farahi — Arabic Wikipedia
- Hamiduddin Farahi — Wikidata Q5644718
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “حمید الدین فراہی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hamiduddin-farahi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.