جلیل محمد قلی زادہ

جليل ممدقولوزاده

–

آذربائیجانی طنز نگار، ادیب اور استاد (1869–1932؛ سالِ پیدائش متنازع ہے)، ساتری رسالے «ملا نصرالدین» (1906) کے بانی و مدیر، جس نے عوامی زبان میں جہالت، بدعنوانی اور مذہبی تعصب پر کاری ضرب لگائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · teacher · activist
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: عبد القادر المغربي · عبدالمجید ثانی · عبد الرشید ابراہیم · عدلی يکن · أحمد الحملاوي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    جلیل محمد قلی زادہ (1869–1932؛ سالِ پیدائش متنازع ہے) آذربائیجانی طنز نگار، ادیب اور استاد تھے، ساتری رسالے «ملا نصرالدین» (1906) کے بانی و مدیر۔ 1 2 رسالے نے عوامی زبان اور سیاسی کارٹونوں کے ذریعے جہالت، بدعنوانی اور مذہبی تعصب پر ضرب لگائی اور اپنے دور کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا مسلم جریدہ بنا۔ 1

    زندگی و کیریئر

    وہ نخچیوان میں پیدا ہوئے؛ سال میں اختلاف ہے — انگریزی مقالہ اور آذربائیجانی مقالے کا متن 22 فروری 1869 دیتے ہیں اور آذربائیجانی مقالہ کہتا ہے کہ جدید تحقیق نے 1869 ثابت کیا، جبکہ روسی مقالہ 1866 دیتا ہے اور ان کا 1887 کا مدرسہ سرٹیفکیٹ عمر 21 سال بتاتا ہے جو 1866 کی طرف اشارہ کرتا ہے؛ ریکارڈ 1869 کو متنازع درج کرتا ہے۔ 1 2 3 4 آذربائیجانی مقالہ ان کے والد کو متقی و کم وسیلہ شخص بیان کرتا ہے۔ 2 وہ گوری کے اساتذہ مدرسے سے 1887 میں فارغ ہوئے اور 1897 تک دیہات میں پڑھاتے رہے۔ 2 1906 میں «ملا نصرالدین» جاری کیا، کچھ عرصہ تبریز سے بھی نکالا، اور 1907 میں حمیدہ جوانشیر سے شادی کی۔ 1 وفات 4 جنوری 1932 کو باکو میں ہوئی۔ 1 3

    کام

    ان کی پہلی اہم کہانی «گدھے کا گم ہونا» (1894) سماجی نابرابری پر تھی؛ بعد کی کہانیوں اور کامیڈیوں «مردے» اور «پاگلوں کا مجمع» میں بدعنوانی، جہالت اور مذہبی تعصب کا مذاق اڑایا۔ 1 «ملا نصرالدین» ان کا سب سے بڑا کام تھا، جس کے نمایاں مصنفین میں صابر شامل تھے۔ 5

    موقف و نقد

    یہ قسم مآخذ کی روایت کردہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    وابستگی کی واحد شہادت ان کا 1887 کا گوری مدرسہ سرٹیفکیٹ ہے، جسے آذربائیجانی مقالہ حرف بہ حرف نقل کرتا ہے اور جو فارغ التحصیل کو «اسلام کے شیعہ مذہب سے منسلک» بیان کرتا ہے۔ 2 انگریزی مقالے کا «مذہبی آراء» حصہ ان کی آراء کو متنازع کہتا ہے: فلسفی آغالار محمدوف نے انہیں ملحد کہا، دوسرے انہیں جدیدیت پسند سمجھتے ہیں، اور مقالہ نتیجہ دیتا ہے کہ کسی دعوے کا قطعی ثبوت موجود نہیں۔ 1 ایک ہی دستاویز ایک ہی مقالے میں «شیعہ اثنا عشری» کی قدر نہیں دے سکتی، اس لیے ریکارڈ میں مذہب «نامعلوم» ہے اور دونوں روایات محفوظ ہیں۔ 2 1 علما کی طنزیہ تنقید ایک موقف ہے، بے ایمانی کی شہادت نہیں۔ 1

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہو اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Spouse of
    حمیدہ جوانشیر

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    حمیدہ جوانشیر

    ماخذ

    1. Jalil Mammadguluzadeh — English Wikipedia
    2. Jalil Mammadguluzadeh — Azerbaijani Wikipedia
    3. Jalil Mammadguluzadeh — Russian Wikipedia
    4. Jalil Mammadguluzadeh — Wikidata Q2656636
    5. Mirza Alakbar Sabir — English Wikipedia
    • Jalil Mammadguluzadeh — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “جلیل محمد قلی زادہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/jalil-mammadguluzadeh/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    حمیدہ جوانشیر

    آذربائیجانی معلمہ، سماجی کارکن اور صاحبِ خیر (1873–1955)، آذربائیجان کی اولین روشن خیال خواتین میں سے ایک؛ طنز نگار جلیل محمد قلی زادہ کی اہلیہ اور رسالے «ملا نصرالدین» میں ان کی شریکِ کار۔ انہوں نے اپنے گاؤں کہریزلی میں مخلوط تعلیم کا اسکول اور اسپتال قائم کیا، قفقازی مسلم خواتین کی فلاحی انجمن کی بانیوں میں شامل ہوئیں، اور ان کی یادداشتیں ان کی وفات کے بعد شائع ہوئیں۔