جمیل الرضا چودھری

جاميلور رضا تشودري

–

دكا

بنگلہ دیشی سول انجینئر اور ماہر تعلیم، جو 1943ء میں سلہٹ میں پیدا ہوئے اور 2020ء میں ڈھاکہ میں وفات پائے۔ وہ کئی دہائیوں تک بویٹ میں اسٹرکچرل انجینئرنگ کے پروفیسر رہے، براک یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر اور یونیورسٹی آف ایشیا پیسیفک کے وائس چانسلر رہے، 1996ء میں نگران حکومت کے مشیر بنے، اور 2018ء میں انہیں قومی پروفیسر کا خطاب ملا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
engineer · teacher
خطہ
south-asia
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد العزیز بوتفلیقہ · عبدالرحمن یوسفی · عبد القدیر خان · شیخ احمد لیمو · علی حسن موینی

مکان میں

دكا

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    جمیل الرضا چودھری (15 نومبر 1943ء – 28 اپریل 2020ء) بنگلہ دیشی سول انجینئر، پروفیسر اور تعلیمی رہنما تھے۔ انہوں نے تقریباً چار دہائیوں تک بنگلہ دیش یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (بویٹ) میں اسٹرکچرل انجینئرنگ پڑھائی، براک یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر اور یونیورسٹی آف ایشیا پیسیفک کے وائس چانسلر رہے، 1996ء کی نگران حکومت میں مشیر بنے، اور 2018ء میں انہیں قومی پروفیسر کا خطاب ملا۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    چودھری 15 نومبر 1943ء کو سلہٹ میں پیدا ہوئے، جو اس وقت برطانوی ہند کی آسام صوبے میں تھا۔ (جس مضمون پر یہ ریکارڈ مبنی ہے اس کے متن میں 1942ء درج ہے جبکہ اطلاعات خانے اور ابتدائی زندگی کے متن میں 1943ء ہے؛ یہاں 1943ء اختیار کیا گیا ہے۔) ان کے والد عابد رضا چودھری سول انجینئر تھے جنہوں نے 1952ء میں خاندان کو ڈھاکہ منتقل کیا۔ انہوں نے میمن سنگھ ضلع اسکول، سینٹ گریگوری ہائی اسکول اور ڈھاکہ کالج میں تعلیم پائی، 1963ء میں بویٹ سے فرسٹ کلاس آنرز کے ساتھ سول انجینئرنگ کی ڈگری لی، پھر یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن سے ایم ایس سی (1965ء) اور پی ایچ ڈی (1968ء) کی۔ 1

    زندگی کا کام

    وہ 1963ء میں بویٹ میں لیکچرر بنے، 1976ء میں مکمل پروفیسر ہوئے اور تقریباً دس سال اس کے کمپیوٹر سینٹر کے ڈائریکٹر رہے۔ 2001ء میں بویٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ 2010ء تک براک یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر رہے، اور مئی 2012ء میں یونیورسٹی آف ایشیا پیسیفک کے وائس چانسلر بنے، جس عہدے پر وہ وفات تک رہے۔ 1996ء میں وہ تین ماہ نگران حکومت کے مشیر (وزیر کے درجے کے ساتھ) رہے۔ انہوں نے ملک کے سب سے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں — پدما پل، جمنا (بنگا بندھو) پل اور کرنافلی سرنگ — کے ماہر پینلوں کی قیادت یا مشاورت کی، اور 2003ء سے بنگلہ دیش ریاضی اولمپیاڈ کمیٹی کے صدر رہے۔ 1

    اعزازات اور وفات

    چودھری کو 2017ء میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایکوشے پدک ملا، 2018ء میں قومی پروفیسر کا خطاب ملا، مانچسٹر یونیورسٹی نے 2010ء میں انہیں انجینئرنگ کی اعزازی ڈاکٹریٹ دی، اور جاپان نے 2018ء میں انہیں آرڈر آف دی رائزنگ سن سے نوازا۔ وہ 28 اپریل 2020ء کو ڈھاکہ کے علاقے دھان منڈی میں اپنے گھر پر دل کے دورے سے وفات پا گئے۔ 1

    مآخذ

    • اوپر مذکور ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں محفوظ ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مورخہ ہونی چاہیے اور اس میں ہر حقیقت کو بدلنے والے ماخذ کا نام ہونا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    دكا
    Lived in
    دكا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ابو القاسم فضل الحق· عبد الحمید خان بھاشانی· فضل حسن عابد· فضل الرحمان خان· حسین شہید سہروردی· حسین محمد ارشاد· عیاض الدین احمد· کمال حسین

    ماخذ

    1. Jamilur Reza Choudhury — English Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “جمیل الرضا چودھری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/jamilur-reza-choudhury/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ابو القاسم فضل الحق

    بنگالی مدبر (1873ء–1962ء) جو «شیر بنگال» کے لقب سے مشہور ہوئے، بنگال کے پہلے وزیر اعظم (1937ء–1943ء) اور 1940ء میں قراردادِ لاہور کے محرک۔ بیک وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری رہے؛ تقسیم کے بعد مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ، پاکستان کے وزیر داخلہ اور مشرقی پاکستان کے گورنر رہے، اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔