حسین محمد ارشاد

حسين محمد إرشاد

–

دكا

بنگلہ دیشی فوجی افسر اور سیاست دان (1 فروری 1930ء – 14 جولائی 2019ء)، جنھوں نے 1982ء میں غیر خونی بغاوت کے ذریعے اقتدار سنبھالا اور 1983ء سے 1990ء تک بنگلہ دیش کے صدر رہے؛ انھی کے دور میں 1988ء کی آئینی ترمیم نے اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا۔ انھوں نے جاتیہ پارٹی قائم کی اور وفات تک اس کے سربراہ رہے، اور 1991ء سے 2018ء تک ہر عام انتخاب میں رنگ پور-3 سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · جرنیل
خطہ
south-asia
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · شیخ احمد لیمو · علی حسن موینی · علي يافعي · باجی قائد السبسی

مکان میں

دكا

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    حسین محمد ارشاد (1 فروری 1930ء – 14 جولائی 2019ء) بنگلہ دیشی فوجی افسر اور سیاست دان تھے جو 1983ء سے 1990ء تک بنگلہ دیش کے صدر رہے۔ انھوں نے 24 مارچ 1982ء کو غیر خونی بغاوت کے ذریعے اقتدار سنبھالا، 1986ء میں جاتیہ پارٹی قائم کی اور اس کے سربراہ رہے۔ دسمبر 1990ء میں عوامی بغاوت نے انھیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا، جس کے بعد وہ 1991ء سے وفات تک ہر عام انتخاب میں رنگ پور-3 سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوتے رہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور فوجی زندگی

    ارشاد دینہاتہ (کوچ بہار، برطانوی ہند) میں ایک بنگالی مسلم خاندان میں پیدا ہوئے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی سے 1950ء میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد 1952ء میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ 1971ء کی جنگ کے دوران مغربی پاکستان میں نظر بند رہے، 1973ء میں وطن واپس آئے اور 1978ء میں چیف آف آرمی اسٹاف بنے۔ 1

    صدارت

    بغاوت کے بعد وہ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر رہے اور 11 دسمبر 1983ء کو خود صدر بن گئے۔ ان کی حکومت نے 1984ء میں زمینی اصلاحات کا آرڈیننس جاری کیا اور جون 1988ء میں آئینی ترمیم کے ذریعے اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا — یہ ان کی حکومت کی ریاستی پالیسی تھی۔ 1985ء میں ڈھاکہ میں سارک کی بانی کانفرنس میں ان کا نمایاں کردار رہا۔ اپوزیشن کی عوامی تحریک کے بعد انھوں نے 6 دسمبر 1990ء کو استعفا دیا۔ 1

    دینی رجحان، جیسا کہ مصادر بیان کرتے ہیں

    انگریزی مقالے کا مختصر حصہ ایک ذاتی واقعہ بیان کرتا ہے: ارشاد صوفی پیر اٹروشی کے مرید تھے اور اپنی صدارت کے دوران ان کے پاس کافی وقت گزارتے تھے — یہ بیان صوفیہ ایم۔ الدین کی 2006ء کی علمی تحقیق کے حوالے سے ہے۔ عربی مقالے کے معلوماتی خانے میں ان کا مذہب صرف «اسلام» درج ہے؛ کوئی دوسرا آزاد مصدر ان کے لیے کوئی مسلک نہیں بتاتا، اس لیے عجائب گھر کے اعداد و شمار میں ان کا عقیدہ «نامعلوم» درج ہے۔ 1 2

    وفات

    ارشاد 26 جون 2019ء کو مشترکہ فوجی ہسپتال ڈھاکہ میں داخل ہوئے اور 14 جولائی 2019ء کو وہیں وفات پا گئے؛ عربی مقالہ وفات کی وجہ مائیلوڈسپلاسٹک سنڈروم بتاتا ہے۔ دو دن بعد ان کی سرکاری آخری رسومات ادا کی گئیں۔ 1 2

    ماخذ

    • اوپر مذکور معرّف مصدر اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مقالے کی ہر نظر ثانی کی تاریخ درج ہونی چاہیے اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کا مصدر نامزد ہونا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    دكا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ابو القاسم فضل الحق· عبد الحمید خان بھاشانی· فضل حسن عابد· فضل الرحمان خان· حسین شہید سہروردی· عیاض الدین احمد· جمیل الرضا چودھری· کمال حسین

    ماخذ

    1. Hussain Muhammad Ershad — English Wikipedia
    2. Hussain Muhammad Ershad — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حسین محمد ارشاد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hussain-muhammad-ershad/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ابو القاسم فضل الحق

    بنگالی مدبر (1873ء–1962ء) جو «شیر بنگال» کے لقب سے مشہور ہوئے، بنگال کے پہلے وزیر اعظم (1937ء–1943ء) اور 1940ء میں قراردادِ لاہور کے محرک۔ بیک وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری رہے؛ تقسیم کے بعد مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ، پاکستان کے وزیر داخلہ اور مشرقی پاکستان کے گورنر رہے، اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔