حسین شہید سہروردی

حسين شهيد سهروردي

–

دكا

بنگالی مدبر (1892ء–1963ء)، غیر منقسم بنگال کے آخری وزیر اعظم (1946ء–1947ء) اور پاکستان کے پانچویں وزیر اعظم (1956ء–1957ء)۔ عوامی لیگ کی بنیاد رکھی، مشرقی پاکستان میں متحدہ محاذ کی قیادت کی، اور خواجہ ناظم الدین کے بعد بنگال کے وزیر اعظم بنے؛ بیروت میں انتقال ہوا اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس محمود العقاد · عبد الحمید خان بھاشانی · عبد الماجد دریابادی · شیخ عبد المجید سندھی · عبد الله الموسوي الشيرازي

مکان میں

دكا

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    حسین شہید سہروردی (8 ستمبر 1892ء – 5 دسمبر 1963ء) بنگالی مدبر تھے، غیر منقسم بنگال کے آخری وزیر اعظم (1946ء–1947ء) اور پاکستان کے پانچویں وزیر اعظم (1956ء–1957ء)۔1 انھوں نے عوامی لیگ کی بنیاد رکھی اور متحدہ محاذ کی قیادت کی جس نے 1954ء کے مشرقی بنگال کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔2

    خاندان اور ابتدائی زندگی

    وہ 8 ستمبر 1892ء کو مدناپور میں پیدا ہوئے۔ انگریزی مضمون سہروردی خاندان کا سلسلہ بارہویں صدی کے بغدادی صوفی شہاب الدین عمر سہروردی سے جوڑتا ہے جن کے نام سے سلسلہ سہروردیہ منسوب ہے، اور ان کے دادا عبید اللہ العبیدی سہروردی کو ڈھاکہ کا صوفی رہنما بتاتا ہے؛ ان کے والد جسٹس سر زاہد سہروردی کلکتہ ہائی کورٹ کے جج تھے۔2 یہ صوفی سلسلہ ان کی خاندانی پس منظر ہے: کوئی ماخذ حسین کے اپنے کسی مسلک یا سلسلے سے وابستگی کا ذکر نہیں کرتا، اور وکی ڈیٹا میں ان کا مذہب صرف اسلام درج ہے۔3

    سیاسی زندگی

    انھوں نے بیس کی دہائی میں کلکتہ کی سیاست میں قدم رکھا، شہر کے نائب میئر بنے اور بنگال صوبائی مسلم لیگ کے رہنما کے طور پر ابھرے۔2 اپریل 1946ء میں وہ خواجہ ناظم الدین کے بعد بنگال کے وزیر اعظم بنے اور یومِ راست اقدام، بنگال کی تقسیم — جس کی انھوں نے مخالفت کر کے متحدہ خودمختار بنگال کی تجویز پیش کی — اور آزادی تک اس منصب پر رہے۔2 پاکستان میں انھوں نے عوامی لیگ بنائی، وزیر قانون رہے، اپوزیشن کی قیادت کی اور ستمبر 1956ء میں وزیر اعظم بن کر اکتوبر 1957ء میں مستعفی ہوئے؛ 1958ء کی فوجی مداخلت کے بعد مارشل لا حکومت نے انھیں قید بھی کیا۔2

    وفات

    ان کا انتقال 5 دسمبر 1963ء کو بیروت میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوا اور وہ ڈھاکہ میں خواجہ ناظم الدین اور ابو القاسم فضل الحق کے پہلو میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔2

    حوالہ جات

    {1} {2} {4} {3}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Successor of
    خواجہ ناظم الدین
    Buried in
    دكا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ابو القاسم فضل الحق· محمد علی بوگرہ· خواجہ ناظم الدین· دكا· عبد الحمید خان بھاشانی· فضل حسن عابد· فضل الرحمان خان· حسین محمد ارشاد

    ماخذ

    1. Huseyn Shaheed Suhrawardy — Urdu Wikipedia
    2. Huseyn Shaheed Suhrawardy — English Wikipedia
    3. Huseyn Shaheed Suhrawardy — Wikidata Q2046354
    4. Huseyn Shaheed Suhrawardy — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حسین شہید سہروردی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/huseyn-shaheed-suhrawardy/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ابو القاسم فضل الحق

    بنگالی مدبر (1873ء–1962ء) جو «شیر بنگال» کے لقب سے مشہور ہوئے، بنگال کے پہلے وزیر اعظم (1937ء–1943ء) اور 1940ء میں قراردادِ لاہور کے محرک۔ بیک وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری رہے؛ تقسیم کے بعد مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ، پاکستان کے وزیر داخلہ اور مشرقی پاکستان کے گورنر رہے، اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔