لبیبہ احمد

لبيبة أحمد

–

القاهرة

مصری اسلامی ناشطہ، فلاحی کارکن، سیاح اور مصنفہ (تقریباً 1870–1951)، قاہرہ میں لبیبہ احمد عبد النبی کے نام سے پیدا ہوئیں۔ 1919 کے خواتین کے مظاہروں میں شریک ہوئیں، «جمعیۃ نہضۃ السیدات المصریات» اور اس کا رسالہ «النہضۃ النسائیہ» قائم کیا تاکہ خواتین کی ترقی کو اسلامی تناظر میں پیش کیا جا سکے، اور 1933 میں اخوان المسلمین کے خواتین شعبے کی پہلی سربراہ بنیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
activist · writer · صحافی
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبد القادر المغربي · محمد طاہر جلال الدین · مولوی عبد الحق · جماعت علی شاہ · احمد لطفی سید

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    لبیبہ احمد (1870 کی دہائی – 1951) مصری اسلامی ناشطہ، فلاحی کارکن، سیاح اور مصنفہ تھیں۔ 1

    زندگی

    وہ قاہرہ میں پیدا ہوئیں؛ ان کا پورا نام لبیبہ احمد عبد النبی تھا اور والد احمد عبد النبی بے طبیب تھے۔ انہوں نے گھر پر عربی، سیرت اور شریعت کی تعلیم پائی اور پیانو بجانا بھی سیکھا۔ ان کی شادی قاضی عثمان پاشا مرتضیٰ سے ہوئی اور ان کے ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں ہوئیں۔ 2 1 ان کی تاریخوں میں مصادر متفق نہیں: انگریزی مقالہ بیتھ بیرن کی تحقیق کی بنیاد پر پیدائش صرف 1870 کی دہائی اور وفات 1951 دیتا ہے، جبکہ عربی مقالے کا متن پیدائش 1870 اور اس کا معلوماتی خانہ پیدائش 1875 اور وفات 1 جنوری 1955 دیتا ہے۔ عجائب گھر نے سال کی صحت کے ساتھ 1870–1951 درج کیا ہے اور اختلاف ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں درج ہے۔ 1 2 3

    سرگرمیاں

    وہ قوم پرست تھیں، مصطفیٰ کامل کی وطنی پارٹی میں شامل ہوئیں اور 1919 کے خواتین کے مظاہروں میں شریک ہوئیں۔ انقلاب کے بعد انہوں نے وفد کی خواتین کمیٹی میں شامل ہونے کے بجائے «جمعیۃ نہضۃ السیدات المصریات» قائم کی تاکہ اسلامی قومیت کو فروغ دیا جائے اور غریبوں کی فلاحی خدمات فراہم ہوں، اور اس کا ماہنامہ «النہضۃ النسائیہ» جاری کیا جو سولہ برس چلا۔ 1 2 اس دور کی بہت سی نسوانی رہنماؤں کے برعکس انہوں نے خواتین کے حقوق کو اسلامی تناظر میں دیکھا اور «نئی اسلامی عورت» کی تخلیق چاہی، نسوانیت کو اسلامی قومیت سے جوڑا اور آزاد خیال نسوانی تنظیموں سے فاصلہ رکھا۔ 1 1933 میں حسن البنا نے انہیں اخوان المسلمین کے خواتین شعبے (الاخوات المسلمات) کی پہلی سربراہ مقرر کیا، اور وہ 1937 تک اس عہدے پر رہیں۔ 2

    مذہب کے ریکارڈ پر نوٹ

    ان کی دستاویزی زندگی کا کام اسلامی فعالیت ہے اور ان کی وابستگیاں اوپر درج ہیں؛ کوئی مقالہ ان کے لیے اسلام کا کوئی خاص مکتب فکر نامزد نہیں کرتا اور ویکی ڈیٹا صرف عمومی اسلام دیتا ہے، اس لیے عجائب گھر نے ان کا مذہب «نامعلوم» درج کیا ہے۔ 1 2 3

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    القاهرة
    Died in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ

    ماخذ

    1. Labiba Ahmad — English Wikipedia
    2. Labiba Ahmad — Arabic Wikipedia
    3. Labiba Ahmad — Wikidata Q57158989
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “لبیبہ احمد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/labiba-ahmad/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.