لات دیور

لات ديور

–

لات دیور (لات جور نگونے لاتیر جوپ، 1842ء – 26 اکتوبر 1886ء)، موجودہ سینیگال کی وولوف ریاست کایور کے «دامل» (بادشاہ) اور پچیس برس فرانسیسی استعمار کی مزاحمت پر سینیگال کے قومی ہیرو۔ کیور امادو یالا میں پیدا ہوئے، برائے نام مسلم ماحول میں پلے اور قرآنی مکتب میں پڑھے، جوانی میں دامل منتخب ہوئے، شکست کھا کر جلاوطن ہوئے؛ سالوم میں مرابط مابا دیاخو با کی پناہ لی اور ان کے پاس اسلام قبول کیا — فرانسیسی روایت میں نام «سیلماخا دیوپ» لیا — عمر بھر عامل مسلمان رہے اور مابا کی فوجوں کی قیادت کی، پھر کایور واپس لے کر حکومت کی، ڈاکار–سینٹ لوئی ریلوے کی پوری قوت سے مخالفت کی، اور 1883ء میں معزولی کے بعد تین برس چھاپہ مار جنگ لڑی یہاں تک کہ اکتوبر 1886ء میں دیخیلے کی لڑائی میں مارے گئے اور کایور ختم ہو گیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران · جرنیل
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرزاق البيطار · عبدل فراشری · ابو بکر، سلطان جوہر · عبد الهادي نجا الأبياري · شهاب الدين الحلواني أحمد بن أحمد

کہانی میں مقام

    نامعلوم (منقول)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    لات دیور (لات جور نگونے لاتیر جوپ، 1842ء – 26 اکتوبر 1886ء) موجودہ سینیگال کی وولوف ریاست کایور کے «دامل» (بادشاہ) اور پچیس برس فرانسیسی استعمار کی مزاحمت پر سینیگال کے قومی ہیرو ہیں۔ 1 2 وہ کیور امادو یالا میں پیدا ہوئے، برائے نام مسلم ماحول میں پلے اور قرآنی مکتب میں پڑھے، جوانی میں دامل منتخب ہوئے، شکست کھا کر جلاوطن ہوئے؛ سالوم میں مرابط مابا دیاخو با کی پناہ لی، ان کے پاس اسلام قبول کیا اور عمر بھر عامل مسلمان رہے، پھر کایور واپس لے کر حکومت کی، ڈاکار–سینٹ لوئی ریلوے کی سخت مخالفت کی، اور 1883ء میں معزولی کے بعد تین برس چھاپہ مار جنگ لڑ کر اکتوبر 1886ء میں دیخیلے میں مارے گئے اور کایور ختم ہو گئی۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

    فرانسیسی مضمون کے مطابق وہ 1842ء میں شمال مشرقی کایور کے کیور امادو یالا میں پیدا ہوئے؛ انگریزی مضمون تقریباً 1842ء اور یہی مقام دیتا ہے، انہیں مادری طرف سے گویج نسب سے بتاتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ برائے نام مسلم ماحول میں پروان چڑھے اور بچپن میں قرآنی مکتب میں پڑھے (زبانی روایات، مونتائی 1963ء)۔ 2 1 شکست اور جلاوطنی کے بعد انہوں نے سالوم میں مابا دیاخو با کی پناہ لی: انگریزی مضمون کے مطابق وہ باقاعدہ مابا کے طالب (شاگرد) بنے اور عمر بھر عامل مسلمان رہے؛ فرانسیسی مضمون کے مطابق الحاج عمر تال کے شاگرد مابا نے مدد کی شرط قبولِ اسلام رکھی، تو انہوں نے اسلام قبول کر کے نام «سیلماخا دیوپ» لیا اور بعد میں مابا کی فوجوں کی قیادت کی۔ 1 2

    حکومت اور مزاحمت

    ان کے عہدوں کی تاریخ دونوں مضامین میں مختلف ہے: فرانسیسی 1861ء–1863ء اور پھر 1871ء–1883ء (لقبی سطر 1862ء–1886ء)، جبکہ انگریزی نصب 1862ء، معاہدے سے تسلیم 1870ء–1871ء اور معزولی 1883ء بتاتا ہے؛ عجائب گھر دونوں تاریخیں الگ الگ پیش کرتا ہے۔ 2 1 ان کے رشتہ دار البوری ندیائے ان کے حلیف تھے — انگریزی البوری مضمون لات جور کو ان کا بڑا کزن کہتا ہے اور فرانسیسی البوری مضمون چچا — اور البوری نے جلاوطن لات دیور کی حمایت کی، خفیہ طور پر مدد جاری رکھی اور جون 1886ء میں گیلے میں فرانسیسی حمایت یافتہ دامل سامبا لاوبے فال کو شکست دی؛ سامبا لاوبے فال 6 اکتوبر 1886ء کو قتل ہوا جس کے بعد لات جور نے آخری لڑائی لڑی۔ 3 4 2 1

    ان کی وفات کا دن متنازع ہے: فرانسیسی مضمون کی تمہید اور خانہ 26 اکتوبر 1886ء دیتے ہیں، اسی مضمون کی اختتامی روایت ان کی فوج کا دیخیلے کی طرف کوچ 27 اکتوبر بتاتی ہے اور فرانسیسی البوری مضمون لڑائی کو 26–27 اکتوبر قرار دیتا ہے؛ انگریزی مضمون کا خانہ 26 دسمبر 1886ء دیتا ہے جو اسی کی اپنی روایت اور فرانسیسی روایت دونوں سے متصادم ہے، اس لیے اندراج 26 اکتوبر کو اکثریتی علمی روایت کے طور پر لیتا ہے اور دسمبر کی تاریخ کو مردود درج کرتا ہے۔ 2 1 4

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مختلف مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔

    ان کی عقیدہ کے بارے میں دو آزاد ماخذ ان کے لیے کوئی مسلک یا سلسلہ نہیں بتاتے: صرف انگریزی مضمون کا خانہ بغیر حوالے کے ان کا مذہب «اسلام (تیجانیہ)» لکھتا ہے، جبکہ فرانسیسی خانہ بغیر سلسلے کے صرف اسلام لکھتا ہے، اور کوئی سوانح لات دیور کی ذاتی تیجانی بیعت ثابت نہیں کرتی۔ 1 2 جو بات دونوں مضامین ثابت کرتے ہیں وہ ان کا قبولِ اسلام اور عملی زندگی ہے؛ مابا کی اپنی تیجانی حیثیت مابا کی شہادت ہے، شاگرد کی نہیں۔ 1 2 لہٰذا ڈیٹا اندراج میں ان کی عقیدہ غیر درجہ بند ہے اور تیجانی دعویٰ واحد خانے کی روایت کے طور پر درج ہے۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Allied with
    البوری ندیائے

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    احمدو تال· البوری ندیائے

    ماخذ

    1. Lat Jor (Lat Dior) — English Wikipedia
    2. Lat Dior — French Wikipedia
    3. Alboury Ndiaye — English Wikipedia
    4. Alboury Ndiaye — French Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “لات دیور”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/lat-dior/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    احمدو تال

    توکولور سلطنت کے حکمران (1836ء–1897ء)، الحاج عمر تال کے سب سے بڑے صاحبزادے اور جانشین۔ انھوں نے 1861ء میں سیگو فتح کی اور 1864ء میں والد کی وفات پر سلطنت سنبھالی، اور آرشینار کی فرانسیسی مہم کے سامنے تقریباً تین دہائیاں ڈٹے رہے یہاں تک کہ 1890ء میں سیگو اور 1893ء میں باندیاگارا گر گئے؛ فرانس کی پُرآسائش سبکدوشی کی پیشکش ٹھکرا کر وہ مشرق کی طرف جلاوطن ہوئے اور 1897ء میں سوکوٹو کے قریب وفات پائی۔