احمدو تال

أحمدو تال

–

توکولور سلطنت کے حکمران (1836ء–1897ء)، الحاج عمر تال کے سب سے بڑے صاحبزادے اور جانشین۔ انھوں نے 1861ء میں سیگو فتح کی اور 1864ء میں والد کی وفات پر سلطنت سنبھالی، اور آرشینار کی فرانسیسی مہم کے سامنے تقریباً تین دہائیاں ڈٹے رہے یہاں تک کہ 1890ء میں سیگو اور 1893ء میں باندیاگارا گر گئے؛ فرانس کی پُرآسائش سبکدوشی کی پیشکش ٹھکرا کر وہ مشرق کی طرف جلاوطن ہوئے اور 1897ء میں سوکوٹو کے قریب وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: المامی سولوکو · الفا یایا ڈیالو · امیر مینائی · شیخ بوعمامہ · داغ دہلوی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    جائزہ

    احمدو تال (21 جون 1836ء – 15 دسمبر 1897ء)، جن کا مکمل نام انگریزی مضمون کے مطابق احمد المدنی الکبیر التیجانی ہے، الحاج عمر تال کے سب سے بڑے صاحبزادے اور توکولور سلطنت کے حکمران کی حیثیت سے ان کے جانشین تھے۔{cite:source/wikipedia-ahmadu-tall-en}{cite:source/wikipedia-ahmadu-tall-ar} انھوں نے 1861ء میں والد کے لیے سیگو فتح کی، 1864ء میں بکھرتی ہوئی سلطنت سنبھالی، اور تقریباً تین دہائیوں تک فرانسیسی پیش قدمی کا مقابلہ کیا، یہاں تک کہ مشرق کی طرف جلاوطنی اختیار کی۔{cite:source/wikipedia-ahmadu-tall-en}

    زندگی اور خدمات

    وہ اپنے والد عمر تال کے سوکوٹو خلافت میں قیام کے دوران پیدا ہوئے — فرانسیسی مضمون سوکوٹو کو جائے پیدائش بتاتی ہے، مگر اس پر «ماخذ درکار» کی تنبیہ لگی ہے — اور ان کی والدہ عائشہ ایک ہاؤسا کنیز تھیں، جس کی بنا پر ان کے سوتیلے بھائی انھیں کمتر سمجھتے تھے۔{cite:source/wikipedia-ahmadu-tall-en}{cite:source/wikipedia-ahmadu-tall-fr} انھوں نے ڈنگیرائے میں پرورش پائی، اور 1859ء میں والد نے انھیں امیر المؤمنین اور لامدو دیولبے کے لقب دیے۔{cite:source/wikipedia-ahmadu-tall-en} 10 مارچ 1861ء کو انھوں نے بمبارا سلطنت کا قلب سیگو فتح کیا اور وہاں کے المامی مقرر ہوئے۔{cite:source/wikipedia-ahmadu-tall-en} والد کی وفات (1864ء) پر وہ جانشین بنے، مگر سلطنت پھر کبھی مربوط نہ رہی: بھائیوں نے الگ الگ ٹھکانے بنا لیے اور بغاوتیں اٹھتی رہیں۔{cite:source/wikipedia-ahmadu-tall-en} فرانس کے ساتھ ان کے معاہدے — نانگو (1880ء)، جس کی پیرس نے کبھی توثیق نہ کی، اور گوری (12 مئی 1887ء) — محض وقتی ٹال مٹول ثابت ہوئے۔{cite:source/wikipedia-ahmadu-tall-en} کرنل آرشینار کے حملے میں 1890ء میں سیگو گرا، اور 3 جنوری 1891ء کو یوری میں ان کی آخری مزاحمت مشین گنوں سے کچل دی گئی۔{cite:source/wikipedia-ahmadu-tall-en}{cite:source/wikipedia-ahmadu-tall-fr} انھوں نے باندیاگارا کا رخ کیا، جو 29 اپریل 1893ء کو گر گیا، اور فرانس نے ان کے بیٹے اگیبو کو ماسینا کا کٹھ پتلی سلطان بنا دیا۔{cite:source/wikipedia-ahmadu-tall-en} احمدو نے پُرآسائش سبکدوشی کی پیشکش ٹھکرا دی، مشرق کی طرف نکل گئے، اور سوکوٹو کے قریب مائیکوکی میں سکونت اختیار کی، جہاں 15 دسمبر 1897ء کو ان کی وفات ہوئی۔{cite:source/wikipedia-ahmadu-tall-en}{cite:source/wikipedia-ahmadu-tall-fr}

    آراء و تنقید

    یہ حصہ ان باتوں کو پیش کرتا ہے جو مآخذ احمدو تال سے منسوب کرتے ہیں؛ یہ میوزیم کا اپنا فیصلہ نہیں ہے۔

    انگریزی مضمون کا ورثے والا حصہ دونوں رخ پیش کرتا ہے: انھوں نے تقریباً تیس سال استعماری تجاوزات کی مزاحمت کی اور سلطنت کو علاقائی طاقت بنائے رکھا، «تاہم» وہ اور ان کے والد «خود سامراجی تھے، جو اکثر ناراض مقامی آبادی پر توکولور اقلیت کی حکمرانی مسلط کرتے تھے»۔{cite:source/wikipedia-ahmadu-tall-en} ان کے ذاتی عقیدے کے بارے میں مآخذ خاموش ہیں: ان کے والد کی تیجانی مشیخت والد کے ریکارڈ سے متعلق ہے، اور احمدو کی اپنی کوئی وابستگی کسی ماخذ میں ثابت نہیں، اس لیے میوزیم ان کے ریکارڈ میں ان کا عقیدہ «نامعلوم» درج کرتا ہے۔{cite:source/wikipedia-ahmadu-tall-en}{cite:source/wikidata-ahmadu-tall}

    حوالہ جات

    • ویکیپیڈیا (انگریزی)، "Ahmadu Tall"، نظرثانی 1366449387 (28 جولائی 2026ء) — source/wikipedia-ahmadu-tall-en۔
    • ویکیپیڈیا (فرانسیسی)، "Ahmadou Tall"، نظرثانی 240539019 (20 اکتوبر 2026ء) — source/wikipedia-ahmadu-tall-fr۔
    • ویکیپیڈیا (عربی)، «أحمدو طعل»، نظرثانی 74484103 (3 مئی 2026ء) — source/wikipedia-ahmadu-tall-ar۔
    • ویکی ڈیٹا، Q2740187 — source/wikidata-ahmadu-tall۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    الحاج عمر الفوتي تال
    Allied with
    البوری ندیائے
    Opposed by
    ممدو لامین درامے

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    با لوبو· لات دیور· الحاج عمر الفوتي تال· البوری ندیائے· ممدو لامین درامے

    ماخذ

    • Ahmadu Tall — Wikidata Q2740187
    • Ahmadu Tall — Arabic Wikipedia
    • Ahmadu Tall — English Wikipedia
    • Ahmadu Tall — French Wikipedia (Ahmadou Tall)
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمدو تال”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmadu-tall/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    با لوبو

    با لوبو، سلطنتِ ماسینا کے بانی شیکھو احمدو کے بھتیجے اور سلطنت کے مایہ ناز سپہ سالار۔ 1845ء میں چچا کی جانشینی کے امیدوار تھے مگر مجلس نے بانی کے بیٹے احمدو سیکو (احمدو ثانی) کو چنا؛ 1853ء میں احمدو ثانی کی وفات پر دوبارہ امیدوار ہوئے تو اپنے بھتیجے احمدو احمدو (احمدو ثالث) کی حمایت کی اور فوج کے بڑے سالار بنے۔ 1862ء میں حمد اللہ عمر تال کے ہاتھوں گرنے اور احمدو ثالث کے قتل کے بعد انہوں نے ماسینا کی باقی فوج کی قیادت کی، فولانی اور کُنتہ کو جمع کر کے 1864ء میں عمر تال کو حمد اللہ سے نکال کر بانڈیاگارا کے قریب دوگون چٹانوں تک دھکیلا جہاں عمر کی موت واقع ہوئی؛ پھر عمر کے بھتیجے تیدیانی تال نے ان کی مزاحمت کچل دی۔ حکمرانوں کی فہرستیں انہیں 1863ء–1867ء میں ماسینا کا المامی بتاتی ہیں۔ کسی پڑھے گئے ماخذ میں ان کی ولادت یا وفات کی تاریخ نہیں ملتی۔