محمود علی البنا

محمود علي البنا

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

القاهرة

مصری قاریِ قرآن ⁦(1926ء–1985ء)⁩، جو 1948ء میں مصری ریڈیو سے وابستہ ہوئے، طنطا کی مسجد احمد البدوی ⁦(1959ء–1980ء)⁩ اور پھر قاہرہ کی مسجد حسین میں قاری رہے، مرتل اور مجود دونوں انداز میں قرآن ریکارڈ کیا، اور 1984ء میں نقابتِ قراء کے قیام سے اس کے نائب سربراہ رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
reciter
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الرحمن بدوي · عبد الله بن الصديق الغماري · عبدالرحمن یوسفی

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں

    عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات1985

    اعزازات

    ڈیجیٹل نقش

    ویکیپیڈیا پر ان زبانوں میں:ararzenfajarusquk (2026-11-06 کو پڑھا گیا)

    ویکی ڈیٹا:Q12241284

    خلاصہ

    محمود علی البنا (17 دسمبر 1926ء – 20 جولائی 1985ء) مصری قاریِ قرآن تھے، جو اپنی ریڈیو تلاوتوں اور ریکارڈنگز کے لیے مشہور ہوئے۔ وہ مصر کی کئی بڑی مساجد میں قاری رہے، نقابتِ قراء کے قیام میں شریک ہوئے اور 1984ء میں اس کی تشکیل سے اس کے نائب سربراہ رہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ منوفیہ کے ضلع شبین الکوم کے گاؤں شبرا باص میں پیدا ہوئے اور گاؤں کے مکتب میں موسیٰ المنطاش سے قرآن حفظ کیا، مضمون کے مطابق گیارہ برس کی عمر میں۔ پھر طنطا جا کر مسجد احمد البدوی میں دینی علوم پڑھے اور ابراہیم بن سلام المالکی سے قراءات سیکھیں۔ 1

    1945ء میں وہ قاہرہ آئے، مقامات کے استاد درویش الحریری سے تعلیم جاری رکھی، اور 1947ء میں جمعیت الشبان المسلمین کے قاری مقرر ہوئے۔ 1

    ریڈیو اور مساجد

    1948ء میں انھوں نے ایک تقریب میں تلاوت کی جس میں علی ماہر پاشا اور عبد الکریم الخطابی موجود تھے؛ اس کے بعد وہ اسی سال مصری ریڈیو سے وابستہ ہوئے، اور دسمبر 1948ء میں ان کی پہلی براہِ راست تلاوت سورۂ ہود سے تھی۔ 1

    چالیس کی دہائی کے آخر میں وہ مسجد عین الحیاۃ اور پچاس کی دہائی میں مسجد الرفاعی کے قاری رہے؛ 1959ء میں طنطا کی مسجد احمد البدوی گئے اور 1980ء تک وہیں رہے، پھر وفات تک قاہرہ کی مسجد امام حسین کے قاری رہے۔ 1

    ریکارڈنگز اور اسفار

    انھوں نے مصری ریڈیو کے لیے 1967ء میں مکمل ہونے والا مرتل قرآن اور ایک مجود قرآن ریکارڈ کیا، اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے نشریاتی اداروں کے لیے بھی مرتل تلاوتیں کیں۔ وہ عرب دنیا اور یورپ گئے، اور مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ اور جامع اموی میں تلاوت کی؛ 1978ء میں جرمنی گئے۔ 1

    نقابت اور وفات

    انھوں نے قاریوں کی پیشہ ور نقابت کے قیام کے لیے کوشش کی اور 1984ء میں اس کے قیام پر نائب سربراہ مقرر ہوئے۔ 20 جولائی 1985ء کو فوت ہوئے؛ نمازِ جنازہ مسجد امام حسین میں ہوئی اور میت ان کے گاؤں شبرا باص لے جائی گئی۔ 1 2

    1990ء میں صدر حسنی مبارک نے انھیں نشانِ علوم و فنون دیا، جو ان کے بڑے بیٹے شفیق محمود علی البنا نے وصول کیا، اور طنطا میں مسجد البدوی کے قریب ایک سڑک ان کے نام سے موسوم ہوئی۔ 1

    ڈیجیٹل موجودگی

    6 نومبر 2026ء کو ویکی ڈیٹا کے مطابق ان پر ویکیپیڈیا کے آٹھ نسخوں میں مضامین تھے، جن میں عربی، مصری عربی، انگریزی، فارسی، جاپانی، روسی، البانوی اور یوکرینی شامل ہیں۔ 2

    مراجع

    • انگریزی ویکیپیڈیا مضمون، نظرِ ثانی 21 اکتوبر 2026ء۔ 1

    • ویکی ڈیٹا آئٹم Q12241284۔ 2

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    القاهرة
    Awarded
    نشانِ علوم و فنون ⁦(مصر)⁩

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· باب الفتوح، قاہرہ· باب النصر، قاہرہ· باب زویلہ، قاہرہ· بئرِ یوسف، قلعۂ قاہرہ· قلعۂ قاہرہ ⁦(قلعۂ صلاح الدین)⁩· دار الحكمة بالقاهرة· سلطان الاشرف اینال کا جنازی مجموعہ، قاہرہ

    ماخذ

    1. Mahmud Ali al-Banna — English Wikipedia
    2. Mahmud Ali al-Banna — Wikidata Q12241284
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمود علی البنا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mahmud-ali-al-banna/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-07.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.