میر مشرف حسین

مير مشرف حسين

–

بنگالی ناول نگار، ڈراما نویس اور مضمون نگار (1847ء–1912ء) جن کا تعلق کشٹیا سے تھا؛ انیسویں صدی کے بنگالی مسلمان ادیبوں کے پیش رو اور بنگلہ نثر کے بہترین مصنفین میں سے ایک۔ ان کا پہلا ناول «رتناوتی» (1869ء) ہے اور شاہکار «بشاد سندھو» (1885ء–1891ء) سانحۂ کربلا کی نثری رزمیہ ہے جو بنگالی قارئین کی مقبول کلاسک بن گئی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · شاعر
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرزاق البيطار · أحمد مدحت · أكبر إلهآبادي · علی حاجی اکوشا · الطاف حسین حالی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    میر سید مشرف حسین (13 نومبر 1847ء – 19 دسمبر 1912ء) بنگالی ناول نگار، ڈراما نویس اور مضمون نگار تھے، جو انیسویں صدی کے بنگالی مسلمان ادیبوں کے پیش رو اور بنگلہ نثر کے بہترین مصنفین میں شمار ہوتے ہیں۔ 1 2 ان کا شاہکار «بشاد سندھو» سانحۂ کربلا کی داستان ہے اور بنگالی قارئین میں کلاسک کی حیثیت رکھتا ہے۔ 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ کشٹیا کے گاؤں لہری پاڑہ میں پیدا ہوئے اور زیادہ تر زندگی پد مدی کی آبائی جاگیر میں گزاری؛ ان کے والد میر معظم حسین وہاں کے زمیندار تھے۔ 1 2 انھوں نے گھر پر عربی و فارسی سیکھی، کشٹیا اسکول اور کرشن نگر کالجیٹ اسکول میں پڑھا مگر تعلیم مکمل نہ کر سکے، والد کی جائیداد سنبھالی، فرید پور اور بعد میں دیلدوار کی جاگیروں میں ملازمت کی، اور 1903ء سے 1909ء تک کلکتہ میں رہے۔ 1

    تصانیف

    ان کا پہلا ناول «رتناوتی» 1869ء میں شائع ہوا۔ 1 ان کی تصانیف میں «بشاد سندھو» (1885ء–1891ء)، ڈراما «زمیندار درپن» (1873ء) جو سراج گنج کی کسان بغاوت کے پس منظر میں لکھا گیا، «غازی میاں کی بستنی» (1899ء)، «مولود شریف» (1903ء) اور خودنوشت «امر جییونی» (1908ء–1910ء) شامل ہیں۔ 1 2

    وفات

    ان کا انتقال 19 دسمبر کو پد مدی میں ہوا اور وہیں دفن ہوئے؛ انگریزی مضمون وفات کا سال 1911ء بتاتا ہے جبکہ بنگلہ پیڈیا اور وکی ڈیٹا 1912ء دیتے ہیں، اور یہاں 1912ء درج ہے۔ 1 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Mir Mosharraf Hossain — Banglapedia
    2. Mir Mosharraf Hossain — English Wikipedia
    • Mir Mosharraf Hossain — Wikidata Q6872126
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “میر مشرف حسین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/meer-mosharraf-hossain/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔