میاں محمد بخش

ميان محمد بخش

تقریباً 1830 عیسوی · 1246 ھ –

پنجابی صوفی شاعر (تقریباً 1830ء – 1907ء) کھڑی شریف، آزاد کشمیر سے۔ سلسلہ قادریہ دمڑی والی سرکار میں سائیں غلام محمد سے بیعت ہوئے، عمر بھر خانقاہ میں رہے اور شادی نہ کی، اور اٹھارہ کتابیں لکھیں جن میں سب سے مشہور «سیف الملوک» (سفر العشق) ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · mystic
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی تقریباً تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: الفا یایا ڈیالو · حسين أفندي قايبوف · جاسم بن محمد الثانی · قرمانجان داتقا · ميرزا أبو تراب آخوندزاده

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    میاں محمد بخش (تقریباً 1830ء – 22 جنوری 1907ء) کھڑی شریف، آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے پنجابی صوفی شاعر تھے؛ انھوں نے اپنی 77 سالہ زندگی میں 18 کتابیں تصنیف کیں اور وہ بالخصوص اپنی مثنوی «سیف الملوک» کے لیے مشہور ہیں، جس میں داستانِ شہزادہ سیف الملوک کو شعری انداز میں قلمبند کیا گیا۔1 آپ کا سلسلہ طریقت قادری قلندری اور حجروی ہے۔1

    ابتدائی زندگی اور سنہ ولادت

    میاں صاحب 1830ء میں کھڑی شریف میں سکھ دورِ حکومت میں پنجابی گوجروں کے پسوال خاندان میں پیدا ہوئے، جس کا آبائی علاقہ چک بہرام، گجرات تھا۔1 ان کی پیدائش کے سال کے بارے میں اختلاف ہے: محبوب علی فقیر قادری نے سیف الملوک کے متن کے ضمیمے کی سوانح میں تاریخ پیدائش 1246 ہجری (1830 عیسوی) بتائی، جو شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا میں بھی نقل ہوئی؛ دیگر حوالوں میں 1843ء بھی تجویز کیا گیا ہے؛ اور میاں محمد بخش خود سیف الملوک میں فرماتے ہیں کہ انھوں نے یہ تصنیف رمضان 1279ھ (1863ء) میں مکمل کی اور اس وقت ان کی عمر تینتیس برس تھی، اس لیے وہ 1829 یا 1830 میں پیدا ہوئے ہوں گے۔1 ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، پھر بڑے بھائی میاں بہاول کے ساتھ سموال شریف میں حافظ محمد علی کے مدرسے میں مذہبی علوم بالخصوص علم حدیث کی تعلیم حاصل کی۔1

    بیعت و سلسلہ

    میاں محمد ابھی پندرہ سال کے تھے کہ والد میاں شمس الدین نے بستر مرگ پر اپنے تمام طلبہ اور اہل محلہ کو بلا کر انھیں پیرا شاہ غازی قلندر دمڑی والی سرکار سے حاصل شدہ روحانی نسب کا جانشین مقرر کیا اور بغداد کی طرف رخ کر کے سلسلے کے بانی شیخ عبد القادر گیلانی کو مخاطب کرتے ہوئے بیٹے کو ان کے سامنے روحانی جانشین کے طور پر پیش کیا۔1 انیس سال کی عمر میں وہ خانقاہ میں منتقل ہو گئے، جہاں ساری زندگی رہے، اور انھوں نے کبھی شادی نہیں کی۔1 باوجود اس کے کہ وہ دراصل والد کے خلیفہ بنائے جا چکے تھے، انھوں نے بعد میں باقاعدہ بیعت سائیں غلام محمد سے کی، جو بابا بدوہ شاہ ابدال کے خلیفہ تھے؛ اردو مضمون کے مطابق ان کی بیعت سائیں غلام محمد کلروڑی شریف والوں سے تھی۔21

    تصانیف

    «سیف الملوک»، جس کا اصل نام «سفر العشق» ہے اور جو 1863ء میں مکمل ہوئی، ان کی شاہکار تصنیف ہے؛ دیگر تصانیف میں «مرزا صاحباں»، «سوہنی میہنوال»، «تحفہ میراں»، «تحفہ رسولیہ»، «شیرین فرہاد»، «پنج گنج»، «ہدایت المسلمین» اور بوصیری کی قصیدہ بردہ کی شرح شامل ہیں۔1

    وصال و اثرات

    ان کا وصال 7 ذی الحجہ 1324ھ (22 جنوری 1907ء) کو ہوا اور وہ کھڑی شریف میں اپنے روحانی جد دمڑی والی سرکار کے قریب مدفون ہیں؛ آج بھی لوگ برکت کے لیے ان کے مزار کی زیارت کرتے ہیں۔2 میاں صاحب کو پنجاب، ہزارہ اور آزاد کشمیر میں برابر معزز مانا جاتا ہے اور انھیں قرون وسطیٰ اور ابتدائی جدید پنجابی ادب کے درمیان پل سمجھا جاتا ہے۔1

    حوالہ جات

    {1} {2} {3} {4}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Member of
    قادریہ طریقہ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبد العلیم صدیقی· کونتا حاجی کیشیف· ماء العینین· مختار الکُنتی· نانا اسماء· سیکو امادو· اویس البراوی· قادریہ طریقہ

    ماخذ

    1. Mian Muhammad Bakhsh — Urdu Wikipedia
    2. Mian Muhammad Bakhsh — English Wikipedia
    3. Mian Muhammad Bakhsh — Arabic Wikipedia
    4. Mian Muhammad Bakhsh — Wikidata Q6814654
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “میاں محمد بخش”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mian-muhammad-bakhsh/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبد العلیم صدیقی

    عالم اور مبلغ (1892ء–1954ء)، میرٹھ میں پیدا ہوئے اور مدینہ منورہ میں وصال ہوا، جنت البقیع میں مدفون ہیں۔ احمد رضا خان بریلوی کے شاگرد اور سلسلہ قادریہ رضویہ میں ان کے خلیفہ تھے؛ چالیس برس دنیا بھر میں تبلیغ کی، 1932ء میں آل ملایا مسلم مشنری سوسائٹی (سنگاپور) اور 1950ء میں ٹرینیڈاڈ میں ورلڈ اسلامک مشن کی بنیاد رکھی۔ مولانا شاہ احمد نورانی کے والد تھے۔