ایک نظر میں
- کردار
- calligrapher
- خطہ
- persia-central-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
میر عماد، جن کا اصل نام عماد الملک قزوینی حسنی تھا، ایران کے مشہور ترین خطاط ہیں، اور مانا جاتا ہے کہ نستعلیق خط ان کے ہاتھ میں اپنی بلند ترین نفاست کو پہنچا۔ 1 انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا ان کی زندگی تقریباً 961ھ سے 30 رجب 1024ھ — تقریباً 1554ء سے 15 اگست 1615ء — دیتا ہے، قزوین میں سیفی حسنی سادات کے خاندان میں پیدا ہوئے جو عرصے سے صفوی دربار کے کتب دار اور محاسب رہے تھے۔ 2 ان کے خطی نمونے تہران و مشہد سے استنبول، پیرس اور سینٹ پیٹرزبرگ تک کے عجائب گھروں اور کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔ 2
تعلیم اور سفر
جدید مصنفین ان کی خطاطی کی تعلیم تین مشہور خطاطوں سے منسوب کرتے ہیں — عیسیٰ بیگ رنگکار، ملک دیلمی اور محمد حسین تبریزی — اگرچہ ایرانیکا خبردار کرتا ہے کہ معاصر ماخذ اس تعلیم کی تصدیق نہیں کرتے؛ انگریزی مضمون بھی یہی ترتیب ان کی تربیت اور تبریز منتقلی کے طور پر دیتا ہے۔ 2 1 تبریز سے وہ برسوں عثمانی ترکی، حجاز، حلب اور بغداد گھومے، سفروں کے درمیان قزوین میں نسخے لکھتے رہے — اسدی کی گرشاسپ نامہ 981ھ/1573ء میں اور سعدی کی گلستاں و بوستاں 998ھ/1589ء میں — اور 1004ھ/1595-96ء تک وہ سمنان میں فرہاد خان قرامانلو کے کتب خانے میں کاتب تھے۔ 2
شاہ عباس کے دربار میں
1007ھ/1598ء میں فرہاد خان کے قتل کے بعد میر عماد قزوین میں گوشہ نشین ہوئے، پھر اصفہان میں شاہ عباس کے حضور خود کو پیش کیا، اور سولہ برس تک علی رضا عباسی کے ساتھ دربار کے دو نمایاں ترین خطاطوں میں رہے۔ 2 ایرانیکا ان کے زوال کی وجہ عقیدہ نہیں بلکہ مزاج اور رقابت بتاتا ہے: اپنی برتری پر ان کا اٹل یقین شاہ کو اکتا گیا، شاہی کتب خانے میں انھیں بدنام کرنے کی مہم چلی، اور ان کی بے پروا توہین آمیز نظموں نے عباس کو مزید برہم کیا۔ 2 ان برسوں کی نقول میں حافظ کا دیوان مؤرخہ 1003ھ/1594-95ء اور گلستاں کی 1021ھ/1612ء اور 1023ھ/1614ء کی نسخے، اور 1023ھ/1614ء میں مصور رضا عباسی کے ساتھ اشتراک شامل ہے۔ 2 ”آداب المشق“، نستعلیق کی تکنیکی رہنما، بعد میں ان سے منسوب ہوئی اگرچہ ایرانیکا اسے ان کے ہم عصر بابا شاہ کی تصنیف قرار دیتا ہے۔ 2 1
وفات اور دین
آخر کار، ایرانیکا لکھتا ہے، شاہ نے ”میر عماد کے مبینہ سنی رجحان“ کو مسئلہ بنا کر ان کے قتل کی ضمنی منظوری دے دی؛ وہ 30 رجب 1024ھ/15 اگست 1615ء کو بے دردی سے قتل ہوئے، انگریزی مضمون کے مطابق حمام جاتے ہوئے، جس میں قاتل کا نام مسعود بیگ مسگر قزوینی دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کئی دن کسی کو ہمت نہ ہوئی تو آخر ان کے شاگرد ابوتراب اصفہانی نے انھیں اصفہان میں دفن کیا۔ 2 1 قتل کے پس منظر والے سوال پر ماخذ ایک آواز نہیں: فارسی مضمون کا دینی حصہ بتاتا ہے کہ بیشتر تذکرہ نگار اور مورخین ان کا مذہب سنی مانتے ہیں اور اسے ان کے قتل کی وجوہ میں شمار کرتے ہیں، پھر خبردار کرتا ہے کہ اس کی کوئی آزاد دستاویز یا دلیل موجود نہیں، اور یہ بھی نوٹ کرتا ہے کہ انھوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حق میں نادِ علی کی دعا بار بار لکھی اور آلِ نبی کا جہاں ذکر آیا اچھا ذکر کیا۔ 3 کوئی ماخذ ان کے لیے فقہی مذہب کا نام نہیں دیتا، اور یہ ریکارڈ سنی شہادت کو — زندگی میں الزام، بعد میں روایت — اپنائے بغیر محفوظ رکھتا ہے۔ 1 4
پیشہ ورانہ سفر
ان عہدوں کی تاریخیں درج نہیں، اس لیے یہ نیچے الفاظ میں دیے گئے ہیں۔
- خطاط · اصل پیشہ · بغیر تاریخ
تعلقات
- Born in
- قزوين
- Died in
- أصفهان
- Buried in
- أصفهان
- Studied under
- ملك الديلمي
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
جامع أصفهان· معركة أصفهان· ملحمة أصبهان سنة 624هـ· فتح أصبهان· فتح قزوين وزنجان· وفاة البهلوان الإلدكزي — فتن أصفهان والري وخروج طغرل· ابن عساکر کا مشرق کی طرف دوسرا بڑا سفر، 529-533ھ/1135-1139ء· ملك عسكر الخليفة أصفهان
ماخذ
- Mir Emad Hassani — English Wikipedia
- Encyclopaedia Iranica — ʿEmād Ḥasanī, Mīr, ʿEmād-al-Molk
- Mir Emad Hassani — Persian Wikipedia
- Mir Emad Hassani — Wikidata (Q6872075)
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “میر عماد حسنی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mir-imad-hasani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.