محمد علی بوگرہ

محمد علي بوغرا

–

دكا

پاکستانی سیاستدان اور سفارتکار (1909ء–1963ء) جن کا تعلق بکرگنج کے نواب خاندان سے تھا، پاکستان کے تیسرے وزیر اعظم (1953ء–1955ء)۔ برما، کینیڈا، امریکا اور جاپان میں پاکستان کے سفیر رہے، اور «بوگرہ فارمولا» اور ون یونٹ پالیسی کے لیے مشہور ہوئے؛ خواجہ ناظم الدین کے بعد وزیر اعظم بنے اور ان کے بعد چودھری محمد علی آئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس محمود العقاد · عبد الجبار الجومرد · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد الحي عارفي · عبد الحمید خان بھاشانی

مکان میں

دكا

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد علی بوگرہ (19 اکتوبر 1909ء – 23 جنوری 1963ء) پاکستانی سیاستدان اور سفارتکار تھے، جو 1953ء سے 1955ء تک پاکستان کے تیسرے وزیر اعظم رہے۔1 انھیں واشنگٹن سے بلا کر خواجہ ناظم الدین کا جانشین مقرر کیا گیا، اور وہ «بوگرہ فارمولا» اور مغربی صوبوں کو ضم کرنے والی ون یونٹ پالیسی کے لیے مشہور ہوئے۔2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 19 اکتوبر 1909ء کو بکرگنج (موجودہ باریسال) میں نوابوں کے اشرافیہ خاندان میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد الطاف علی چودھری مشرقی بنگال کی مسلم لیگ کے نائب صدر تھے اور ان کے دادا نواب علی چودھری پہلے بنگالی مسلمان تھے جو وزیر مقرر ہوئے۔2 انھوں نے کلکتہ یونیورسٹی کے پریزیڈنسی کالج سے تعلیم پائی اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاست میں آ کر چالیس کی دہائی میں حسین شہید سہروردی کی بنگال کابینہ میں شامل رہے۔2

    سفارتی اور سیاسی زندگی

    آزادی کے بعد وہ خارجہ سروس میں آئے اور برما میں سفیر (1948ء)، کینیڈا میں ہائی کمشنر (1949ء–1952ء) اور دو مرتبہ امریکا میں سفیر رہے۔2 اپریل 1953ء میں گورنر جنرل غلام محمد نے انھیں خواجہ ناظم الدین کی جگہ وزیر اعظم مقرر کر دیا اور وہ مسلم لیگ کے صدر بھی بنے؛ 1955ء میں ان کی حکومت برطرف ہوئی اور وہ اپنے وزیر خزانہ چودھری محمد علی کے حق میں دستبردار ہو گئے۔2 بعد ازاں جاپان میں سفیر (1959ء–1962ء) اور 1962ء–63ء میں وزیر خارجہ رہے۔2 ان کے مذہب کے بارے میں مآخذ پتلے ہیں: اردو مضمون کے خانہ معلومات میں شیعہ اسلام درج ہے، مگر کسی زبان کے متن میں ان کا کوئی مسلک نہیں ملتا، اور وکی ڈیٹا میں صرف اسلام درج ہے۔13

    وفات

    ان کا انتقال 23 جنوری 1963ء کو ڈھاکہ میں ہوا اور وہ بوگرہ کے نواب پیلس میں دفن ہوئے۔23

    حوالہ جات

    {1} {2} {4} {3}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Successor of
    خواجہ ناظم الدین
    Died in
    دكا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ابو القاسم فضل الحق· حسین شہید سہروردی· خواجہ ناظم الدین· دكا· عبد الحمید خان بھاشانی· فضل حسن عابد· فضل الرحمان خان· حسین محمد ارشاد

    ماخذ

    1. Mohammad Ali Bogra — Urdu Wikipedia
    2. Mohammad Ali Bogra — English Wikipedia
    3. Mohammad Ali Bogra — Wikidata Q469875
    4. Mohammad Ali Bogra — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد علی بوگرہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-ali-bogra/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ابو القاسم فضل الحق

    بنگالی مدبر (1873ء–1962ء) جو «شیر بنگال» کے لقب سے مشہور ہوئے، بنگال کے پہلے وزیر اعظم (1937ء–1943ء) اور 1940ء میں قراردادِ لاہور کے محرک۔ بیک وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری رہے؛ تقسیم کے بعد مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ، پاکستان کے وزیر داخلہ اور مشرقی پاکستان کے گورنر رہے، اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔