خواجہ ناظم الدین

خواجة ناظم الدين

–

دكا

پاکستانی مدبر (1894ء–1964ء) جن کا تعلق ڈھاکہ کے نواب خاندان سے تھا، پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل (1948ء–1951ء) اور دوسرے وزیر اعظم (1951ء–1953ء)۔ بنگال کے وزیر اعظم (1943ء–1945ء) اور پھر مشرقی بنگال کے پہلے وزیر اعلیٰ رہے؛ محمد علی جناح کے بعد گورنر جنرل، لیاقت علی خان کے بعد وزیر اعظم اور ابو القاسم فضل الحق کے بعد بنگال کے وزیر اعظم بنے، اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحمید خان بھاشانی · عبد الماجد دریابادی · شیخ عبد المجید سندھی · عبد الله الموسوي الشيرازي · احمد یار خان نعیمی

مکان میں

دكا

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    خواجہ ناظم الدین (19 جولائی 1894ء – 22 اکتوبر 1964ء) ڈھاکہ کے نواب خاندان سے تعلق رکھنے والے پاکستانی مدبر تھے، پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل (1948ء–1951ء) اور پھر دوسرے وزیر اعظم (1951ء–1953ء)۔1 وہ پہلے بنگالی تھے جنھوں نے سربراہِ مملکت اور سربراہِ حکومت دونوں حیثیتوں میں پاکستان کی حکمرانی کی۔2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 19 جولائی 1894ء کو ڈھاکہ میں نوابوں کے مالدار مسلمان خاندان میں پیدا ہوئے، جس کی اصل کشمیری تھی اور جو عرصے سے اس شہر میں آباد تھا۔2 انھوں نے انگلستان کے ڈنسٹیبل گرامر اسکول، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور کیمبرج کے ٹرینیٹی ہال سے تعلیم پائی، انگلستان میں بار میں بلائے گئے اور 1934ء میں نائٹ کا خطاب پایا۔2 کسی متن میں ان کا مسلک درج نہیں؛ اردو مضمون انھیں شیعہ زمروں میں درج کرتا ہے، مگر زمرہ بندی گواہی نہیں ہوتی، اور وکی ڈیٹا میں صرف اسلام درج ہے۔13

    سیاسی زندگی

    وہ 1943ء سے 1945ء تک بنگال کے وزیر اعظم رہے اور ابو القاسم فضل الحق کے جانشین بنے، اور آزادی کے بعد 1947ء میں مشرقی بنگال کے پہلے وزیر اعلیٰ بنے، اس بدلے ہوئے نام والے منصب میں حسین شہید سہروردی کے جانشین۔2 ستمبر 1948ء میں جناح کی وفات پر وہ گورنر جنرل بنے؛ اکتوبر 1951ء میں لیاقت علی خان کے قتل پر ناظم الدین نے خود وزیر اعظم بننے کے لیے عہدہ چھوڑا۔2 ان کی وزارت عظمیٰ بنگالی زبان کی تحریک اور 1953ء کے لاہور فسادات سے عبارت رہی، اور 17 اپریل 1953ء کو ختم ہوئی جب گورنر جنرل غلام محمد نے ان کی حکومت برطرف کر دی — پاکستان کی تاریخ میں کسی وفاقی حکومت کی پہلی برطرفی۔2

    وفات

    ان کا انتقال 22 اکتوبر 1964ء کو ڈھاکہ میں ہوا اور وہ ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔2

    حوالہ جات

    {1} {2} {4} {3}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Predecessor of
    حسین شہید سہروردی· محمد علی بوگرہ
    Successor of
    لیاقت علی خان· ابو القاسم فضل الحق
    Born in
    دكا
    Died in
    دكا
    Buried in
    دكا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    دكا· ابو القاسم فضل الحق· حسین شہید سہروردی· محمد علی بوگرہ· عبد الحمید خان بھاشانی· فضل حسن عابد· فضل الرحمان خان· حسین محمد ارشاد

    ماخذ

    1. Khawaja Nazimuddin — Urdu Wikipedia
    2. Khawaja Nazimuddin — English Wikipedia
    3. Khawaja Nazimuddin — Wikidata Q369988
    4. Khawaja Nazimuddin — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “خواجہ ناظم الدین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/khawaja-nazimuddin/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    دكا

    The capital of Bangladesh; it became capital of the Bengal region in the Mughal era in the early seventeenth century CE.