محمد الیاس کاندھلوی

محمد إلياس الكاندهلوي

تقریباً 1885 عیسوی · 1303 ھ –

دلهي

بھارتی عالم (1885ء–1944ء) جن کا تعلق کاندھلہ سے تھا، دیوبندی تحریک کے عالم اور تبلیغی جماعت کے بانی۔ رشید احمد گنگوہی سے اور دار العلوم دیوبند میں محمود حسن دیوبندی سے تعلیم حاصل کی، اور 1920ء کی دہائی کے اوائل میں دیوبند و سہارنپور کے فارغین کو تیار کر کے میوات بھیجا تاکہ مساجد و مدارس کا جال قائم ہو، جس سے تبلیغی جماعت وجود میں آئی جو دنیا کی وسیع ترین دعوتی تحریکوں میں سے ایک بن گئی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · واعظ · activist
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد القادر المغربي · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد العزیز ثعالبی

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد الیاس کاندھلوی (1885ء – 13 جولائی 1944ء) بھارتی عالم دین اور دیوبندی تحریک کے بزرگ تھے جنھوں نے 1925ء میں موات کے علاقے میں تبلیغی جماعت کی بنیاد رکھی۔12 ان کی شروع کی ہوئی تحریک — جسے وہ «تحریکِ ایمان» کہنا پسند کرتے — دنیا کی وسیع ترین دعوتی تحریکوں میں سے ایک بن گئی۔2

    ابتدائی زندگی و تعلیم

    1303ھ (1885ء/1886ء) میں قصبہ کاندھلہ، ضلع مظفرنگر میں پیدا ہوئے؛ ان کا سنِ ولادت ان کے پیدائشی نام «اختر الیاس» کے تاریخی مادے سے محسوب ہے، جبکہ انگریزی مضمون کا صندوق 1302ھ دیتا ہے۔12 قرآن اپنے والد کی نگرانی میں دہلی کے نظام الدین علاقے میں حفظ کیا اور عربی و فارسی کی ابتدائی کتابیں بیشتر والد سے پڑھیں، پھر رشید احمد گنگوہی کے پاس رہ کر ان سے تعلیم حاصل کی یہاں تک کہ 1905ء میں گنگوہی کا انتقال ہوا۔23 1326ھ میں دار العلوم دیوبند پہنچے اور محمود حسن دیوبندی کے درس میں شریک ہوئے اور ترمذی و بخاری کی سماعت کی۔1

    تبلیغی جماعت کی تاسیس

    1920ء کی دہائی کے اوائل میں انھوں نے دیوبند و سہارنپور کے نوجوان فارغین کی ایک جماعت تیار کی اور انھیں موات بھیجا تاکہ وہاں مساجد و مدارس کا جال قائم ہو۔23 جنوبی ایشیا کے لوگ اہلِ تبلیغ کو «تبلیغی» کہنے لگے اور یہی نام مشہور ہوا؛ بعد میں یہ تحریک کینیڈا، جنوبی افریقا اور برطانیہ سمیت کئی ملکوں میں پھیل گئی۔2 ابو الحسن علی ندوی نے ان کی سوانح «حضرت مولانا محمد الیاس اور ان کی دینی دعوت» لکھی۔2

    وفات

    13 جولائی 1944ء (1363ھ) کو دہلی میں انتقال ہوا۔234

    حوالہ جات

    {1} {2} {3} {4}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Studied under
    رشيد أحمد الكنكوهي· محمود حسن دیوبندی
    Member of
    الديوبندية
    Died in
    دلهي
    Parent of
    محمد یوسف کاندھلوی
    Related to
    محمد زکریا کاندھلوی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    محمود حسن دیوبندی· حسین احمد مدنی· کفایت اللہ دہلوی· عبیداللہ سندھی· الديوبندية· دلهي· چشتیہ طریقہ· اشرف علی تھانوی

    ماخذ

    1. Muhammad Ilyas Kandhlawi — Urdu Wikipedia
    2. Muhammad Ilyas Kandhlawi — English Wikipedia
    3. Muhammad Ilyas Kandhlawi — Arabic Wikipedia
    4. Muhammad Ilyas Kandhlawi — Wikidata Q659028
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد الیاس کاندھلوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-ilyas-kandhlawi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    محمود حسن دیوبندی

    ہندوستانی مسلمان عالم (1851-1920) جو شیخ الہند کے لقب سے مشہور ہیں۔ وہ دار العلوم دیوبند کے پہلے طالب علم اور بعد میں اس کے صدر المدرسین (1890-1915) رہے؛ انہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف تحریکِ ریشمی رومال کی قیادت کی، گرفتار ہو کر مالٹا میں قید رہے (1916-1920)، اور رہائی کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام میں شریک ہوئے اور جمعیت علمائے ہند کی صدارت کی۔ ان کا اردو ترجمۂ قرآن ان کے شاگرد شبیر احمد عثمانی نے اپنے مشہور تفسیر کی صورت میں مکمل کیا۔